کرکٹ امن کی ضمانت!!!

کرکٹ امن کی ضمانت!!!
کرکٹ امن کی ضمانت!!!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیاکرکٹ کے ذریعے دنیا میں پاکستان کاامیج بحال ہوپائے گا؟

مثبت کھیل اور تفریح سالہا سال سے انسانی فطرت کا حصہ رہاہے۔قدیم اور جدید زمانے کے اطباء انسانی جسم کی نشوونما میں تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کی افادیت پر متفق نظر آتے ہیں۔ہردور میں اورہرقوم کے ہاں ثقافتی وتہذیبی لحاظ سے انواع واقسام کے کھیل اور تفریحی سرگرمیاں پائی جاتی رہی ہیں۔بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ہر قوم کا اپنا قومی اور ثقافتی کھیل ہوتاہے۔

گلوبلائزیشن کی وجہ سے جہاں دنیا کی مختلف قومیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں،وہیں ان کی ثقافت،تہذیب ،کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں بھی گلوبلائز ہوکر مختلف ممالک اور قوموں تک پھیلیں۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ کالونی ازم دورمیں بڑے پیمانے پرقوموں کی ثقافتیں،تہذیبیں ،کھیل اور دیگر تفریحی سرگرمیاں تبدیل ہوئیں۔استعمار نے جن ملکو ں پرقبضہ کیا وہاں کی سیاست اورتہذیب وثقافت سے لے کر کھیل اور تفریح کی سرگرمیوں تک سب کچھ تبدیل کردیا۔استعمار کے متاثرہ ممالک کا بغور مطالعہ کیا جائے توآج بھی وہاں استعمار کی باقیات ان کے کلچر،رسم رواج اوران کے کھیلوں کی صورت نظر آتی ہیں۔

کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سرمایہ داروں نے ان کھیلوں کے ذریعے سرمایہ کمانا شروع کیا۔کھیلوں پر سرمایہ داروں کے اثرات سے اب کھیل محض کھیل اور جسمانی نشو ونما کی بجائے دنیا میں سرمایہ کمانے کا سب سے دھندہ بناہوا ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ پیسہ سٹے باز کماتے ہیں،اس کے بعد رنڈیاں اور کھلاڑی کماتے ہیں۔یہ سرمایہ کاری ہی ہے جس نے کھیل کو علم سے زیادہ فوقیت دلوائی۔چنانچہ آج ایک محقق استادکی قدر سے زیادہ ایک ان پڑھ یاکم تعلیم یافتہ کھلاڑی کی قدر کی جاتی ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا میں جتنا سرمایہ اولمپکس کھیلوں کے ذریعے ایک ہفتے میں پیداہوتاہے ،اتناامریکا کی تمام یونیورسٹیاں مل کر سال بھرمیں پیدانہیں کرسکتیں۔

برکلے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تنخواہ یونیورسٹی کے فٹبال کوچ سے کم ہے،فٹبال کوچ سالانہ تین ملین ڈالر کماتاہے اور وائس چانسلر تین لاکھ ڈالر بھی نہیں کماپاتا۔

عزت کا پیمانہ اب علم وہنر نہیں بلکہ پیسہ رہ گیاہے۔جو جتنازیادہ پیسہ کمائے گااسے اتنی زیادہ عزت ملی گی۔اسی پیمانے نے رنڈیوں ،بھانڈمیراثیوں اور گویوں کو ہیرو بنایا۔افسوس ا س پر ہے کہ جب ملک پاکستان کی عزت کو بھی ایسے کھیل سے جوڑ دیا جائے جو سرمایہ داروں ،سٹے بازوں کاسب سے بڑا دھندہ ہے۔

مقصود کرکٹ ایسے کھیل سے نفرت کا اظہار کرنا نہیں ،بلکہ یہ بتانا ہے کہ عزت وذلت کا معیار کرکٹ نہیں ہے ،بلکہ علم وتحقیق کے وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے مغرب آج دنیا پر حکمرانی کررہاہے۔

اگرچہ مغرب نے کھیلوں کی طرح علم وتحقیق سے بھی سرمایہ کمایا لیکن بہرحال مغرب نے اپنی عزت اور برتری کے لیے علم وتحقیق ہی کو اہمیت دی اوردنیا میں اپنے غلبے کے لیے اسی کو ہمیشہ آزمایا۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس چیز کے ذریعے مغرب نے دنیا میں بالادستی حاصل کی ،ہم اس سے اتنے دور ہیں کہ علاج کے لیے نہ صرف ہمارے حکمران باہرجاتے ہیں بلکہ علم وتحقیق کے لیے ہمارا بہترین ٹیلنٹ بھی اپنے ملک کی بجائے اوروں کے ہاں جاکر اپنی علمی تشنگی بجھاتاہے

اور ہم پھر بھی ایک ایسے کھیل کے ذریعے دنیا میں اپنی عزت بحال کروانا چاہتے ہیں جس سے آج تک پاکستان یاعام پاکستانیوں کوکوئی مالی یا دیگر فوائدحاصل نہیں ہوئے سوائے چند سرمایہ داروں کے، بلکہ کئی بار اس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے،اس کے لیے دنیائے کرکٹ میں پاکستان کے سکینڈل دیکھ لیے جائیں تو کافی ہے۔

اس لیے بہتر یہ ہے کہ جن چیزوں کے ذریعے ملک کا امن وامان برباد ہوا یا جن چیزوں کے ذریعے دنیا میں ہم اپناکھویا ہوا امیج بحال کرواسکتے ہیں ان کی طرف توجہ کی جائے۔کرکٹ سے پہلے ملک میں امن آیا ،نہ اب اس کے لیے کرکٹ زیادہ کارگرثابت ہوسکتی ہے۔

دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بحال کرنا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کے نظام عدل کو آزاد اور درست کرنا ہوگا،قانون پر بلاتفریق عمل کروانا ہوگا۔نظام تعلیم کوآزاد اور تحقیقی بنیادوں پراستوار کرنا ہوگا۔نظام سیاست کو کرپشن اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے آزاد کروانا ہوگا۔عام عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات بسہولت فراہم کرنا ہوں گی۔اپنے ہسپتالوں،لیبارٹریوں،سکولوں اوریونیورسٹیوں کو دنیا کے ٹاپ کلاس ہسپتالوں ،لیبارٹریوں ،سکولوں اور یونیورسٹیوں کے برابر لانا ہوگا۔

ہمارے بہترین ٹیلنٹ کو استعمال کرنے کے لیے انہیں علم وتحقیق کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔بیروزگاروں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔

سرکاری اداروں میں بھرتیاں رشوت اور سفارش کی بجائے معیار پرکرنا ہوں گی۔کام چوری اور بددیانتی کرنے والے افسروں کا احتساب کرنا ہوگا۔دنیا کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو مفادات کی بجائے پاکستان کی عزت اور سلامتی کو سامنے رکھ کر طے کرنا ہوگا۔

اخلاقیات،اصول ،اقدار اور اچھی روایات کو قائم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنا ہوں گے۔اپنی ثقافت،تہذیب اور روایات مخالف کاموں اور سرگرمیوں کے روکنے کے لیے ایکشن لینا ہوگا۔تعلیم یا کرکٹ یا دیگر کھیلوں کے ذریعے جو کوئی بھی ہماری تہذیب یا اسلامی اقدار کو ہدف بنائے اس کا قلع قمع کرناہوگا۔

اسلامی روایات اور اسلامی نظام کو ہرحال میں ہرادارے اور ہرگھرتک پہنچاکراس کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرناہوگی۔اپنی معیشت اورسیاست کو اسلام کے ماتحت کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔یہ وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے وطن عزیز کا دنیا بھر میں نہ صرف امیج بحال کروایاجاسکتاہے،بلکہ ملک پاکستان کو امن وامان کا گہوار بنا کر دنیا کو پاکستان آنے کی دعوت بھی فخر سے دی جاسکتی ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ