کے پی کے پولیس کی رافعہ کا غیر معمولی کام

کے پی کے پولیس کی رافعہ کا غیر معمولی کام
کے پی کے پولیس کی رافعہ کا غیر معمولی کام

جس سماج میں عورت غلام اور پردہ کے پیچھے پھینکی جاتی اور اسکی صلاحیتوں کو کمتر سمجھا جاتا ہو وہاں پشاور کی رافعہ قاسم بیگ کو دیکھئے جس نے جرأت سے بہت کچھ کر دکھایا اور مردوں کو پچھاڑ دیاہے۔

رافعہ نے بین الاقومی تعلقات اور اکنامکس میں ماسٹرکیا ہے اور اب ایل ایل بی پارٹ ٹو میں پڑھ رہی ہیں۔ ا پنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز پولیس کانسٹیبل اور بعدمیں بم ڈسپوزل یونٹ میں تربیت حاصل کرکے پہلی ایشیائی خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔ رافعہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ 17دسمبر2009ء کوپولیس میں بحثیت کانسٹبل بھرتی ہوئی اور یہ وہ وقت تھاجب پورے صوبے اور خاص طور پر پشاورمیں امن وامان کی صورتحال بہت خراب تھی۔

’’ میں نے پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے تمام ڈیوٹیاں سرانجام دی ہیں جس میں گشت، تفتیشی عمل، سرچ آپریشن، چالان دینا شامل ہے، اورآجکل میں پولیس سروس میں کمپلیمینٹ رجسٹریشن آفیسر کے طور پر زیادہ کام کر رہی ہوں۔ یہاں پر ہم لوگوں کے شکایت درج اور انصاف تک رسائی میں اْن کی مدد کررہے ہیں ‘‘۔

رافعہ کا پولیس میں آنے کا بنیادی مقصد لوگوں کی خدمت اور پاکستان میں قیام امن کا جذبہ تھا۔انھوں نے مزید کہاکہ جب آ پ کے دل میں جذبہ ہو تو کوئی طاقت آپ کے راستے میں روکاٹ نہیں بن سکتی۔

میں گھر میں بیٹھ کر دوسرے خواتین کی طرح زندگی گزارنے پر یقین نہیں ر کھتی بلکہ چاہتی ہوں کہ ایک قوم کی بیٹی کی طرح کہ کس طرح امن اور لوگوں کی خوشحالی کے لیے کام کرتی ہے۔ کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اْس کو انسان نے خود مشکل بنایا ہوا ہے۔اگرآپ میں ہمت ہے تو کوئی آپ کواپنے نیک مقصد سے نہیں روک سکتاہے۔ جب آپ تکالیف میں رہتے ہوئے عادی بن جاو گے تو زندگی آپ کو بہت کچھ سیکھا دیتی ہے جبکہ اس کے بر عکس اگر آپ کو بنا بنایا مل جاتا ہے تو اس سے آپ کی تخلیقی نشونما بہت کم ہوتی ہیں۔

رافعہ اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتی کہ عورت کمزور ہے۔ انھوں نے کہا کہ فورس میں نوکری کے سلسلے میں کبھی خوف محسوس نہیں کیا،اس کے باوجود کے آپ ہر روز یہی سنتے ہیں کہ فلاں جگہ پر پولیس پر حملہ ہواہے۔

رافعہ نے عملی طور پر 2010ء میں پشاور کے جنوب میں واقع متنی کے علاقے میں ایک بڑے آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ یہ پشاور پولیس کی تاریخ میں انتہائی مشکل ترین آپریشن تھا کیونکہ یہاں پر دشت گردی کی کاروایؤں میں فورسز نے بڑا نقصان اْٹھایا تھا۔

’’ اْس وقت متنی انتہائی ہی حساس علاقہ تھا لیکن اس کے باوجودمیں نے اس آپریشن میں بغیر تربیت کے لانگ مشین گن پر فائرنگ کرکے پولیس کی تاریخ میں اپنا نام درج کروایا۔ اس سے پہلے میں نے شارٹ گن کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد دوسری خواتین پولیس اہلکاروں نے ویمن کماونڈز کی تربیت حاصل کی۔جہاں پر چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ بڑے ہتھیاروں کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے’’۔

رافعہ قاسم بیگ کا 5دسمبر 2016کو بم ڈسپوزل کے بنیادی تربیت کے لئے انتخاب ہوا، تربیت مکمل کرکے نہ صرف پاکستان بلکہ ایشاء کی پہلی خاتون کا اعزاز بھی حا صل کرلیا۔ رافعہ کا کہنا ہے کہ تربیت میں کوئی مسئلہ نہیں تھا البتہ جب میں نے حفاظتی جیکٹ استعمال کرنا چاہی تو اس میں مسئلہ یہ تھاکہ میں خاتون تھی اور یہ جیکٹ صرف مرد وں کیلئے بنی تھی جو باہر سے منگوائی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ابتدائی دنوں میں مسئلہ تھا لیکن بعد میں اس پر قابو پالیا گیا۔

میں پہلی خاتون ہوں جو کہ بم ڈسپوزل سکواڈ میں شامل ہوئی ہوں۔ ابتدائی تربیت مکمل کرنے کے بعد اب ایڈوانس تربیت حاصل کرنے کے لئے تیار ہوں جس کے بعد میں مکمل طور پر سکواڈ کے ساتھ عملی میدان میں کام کرونگی۔ اب تک تین بم ناکارہ کرنے کی کاروائیوں میں حصہ لے چکی ہوں ۔

بم ڈسپوزل سکواڈمیں رافعہ کے آنے کے بعد اب تک تین تربیتی کورس مکمل ہو چکے ہیں جس میں لیڈی پولیس بھی آرہی ہیں۔ معلومات کے مطابق ایک کورس میں تیس تک لوگ شامل ہوتے ہیں جس میں دس خواتین ہوتی ہیں۔رافعہ کا کہنا ہے کہ پہلا قدم مشکل ہوتاہے اور جب آپ ایک راستے پر چل پڑتے ہیں تو دوسرے لوگوں کے لئے راستہ کھل جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ زیاد تر لوگ میرے رینک پر بات کرتے ہیں کہ آپ بہت معمولی عہدے پر ہو جو کہ آپ کے لئے مناسب نہیں۔ رافعہ کا کہنا ہے کہ پولیس پر جب لوگ بات کرتے ہیں تو وہ اپنے محکمے کا بھر پور دفعہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اچھے اور بْر ے ہر جگہ ہوتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر اب خیبر پختونخوا ہ پولیس میں بہت بہتری آئی ہے جس کو عام لوگ بھی محسو س کررہے ہیں۔

رافعہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں، اور گھر میں سب سے لاڈلی ہے۔ اْن کا کہنا ہے ’’ فارغ وقت بہت کم ملتا ہے البتہ گھر کے تمام کام خود کرتی ہوں اور پہاڑی علاقوں میں گھومنے کی شوقین ہوں‘‘ صوبے کے بڑے ایوارڈ ہنر حوا کے لئے 2016ء میں اپنے محکمے کی طرف سے رافعہ کا انتخاب ہواتھااور اپنے افسران کی طرف سے کیش اور مختلف تعریفی اسناد سے نوازاگیا ہے۔ *

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...