داعش کی جانب سے دریائے فرات کے سپل ویز کھولنے کا خطرہ، کسان خوف میں مبتلا

داعش کی جانب سے دریائے فرات کے سپل ویز کھولنے کا خطرہ، کسان خوف میں مبتلا
داعش کی جانب سے دریائے فرات کے سپل ویز کھولنے کا خطرہ، کسان خوف میں مبتلا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق ( آن لائن)دریائے فرات کے قریب رہنے والے شامی کسانوں کو خوف لاحق ہے کہ دولت اسلامیہ گروپ اپنے گڑھ رقہ کی حفاظت کیلئے سیلابی دروازے کھول سکتی ہے،جس کی وجہ سے ان کے چھوٹے گاؤں پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔شمالی شام اور عراق کی مشرق کی جانب بہنے والے دریائے فرات میں پانی کی سطح گزشتہ ماہ جہادی گروپ کے دارالحکومت رقہ کے قریب پانی کی سطح بڑھا دی گئی تھی۔دریا کے مشرقی کنارے پھیلے ہوئے دیہاتوں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ انہیں خوف لاحق ہے کہ جہادی شام کے سب سے بڑے ڈیم تبقا ڈیم کو تباہ کرسکتے ہیں تاکہ آئی ایس مخالف فورس کی پیشقدمی سست کرسکیں۔ 67سالہ ابوالحسین نے بتایا کہ اگر آئی ایس تبقا ڈیم کو توڑنے کے اپنی دھمکی کو عملی شکل دے تو دریا کے جنوبی حصے میں واقع تمام گاؤں پانی میں ڈوب سکتے ہیں،وہ توائے ہینا میں فرانسیسی خبررساں ادارے سے گفتگو کر رہا تھا جو کہ ایک چھوٹا گاؤں ہے جس پر امریکی نواز شامی ڈیموکریٹک فورسز نے حالیہ دنوں میں دوبارہ قبضہ کیا ہے،یہ گاؤں دریا کے شمال میں اوورڈیم سے تقریباً10کلومیٹر(6میل) دور واقع ہے۔

مزید : عرب دنیا