پگڑیاں سر جھکانے نہیں سینہ تان کر چلنے کے لئے پہنی ہیں ،مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کو دہشتگرد کہا جارہا ہے، راستہ روکا گیا تو گلی کوچوں میں کوئی ہما را مقابلہ نہیں کر سکے گا : فضل الرحمن

پگڑیاں سر جھکانے نہیں سینہ تان کر چلنے کے لئے پہنی ہیں ،مدارس میں پڑھنے اور ...
پگڑیاں سر جھکانے نہیں سینہ تان کر چلنے کے لئے پہنی ہیں ،مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کو دہشتگرد کہا جارہا ہے، راستہ روکا گیا تو گلی کوچوں میں کوئی ہما را مقابلہ نہیں کر سکے گا : فضل الرحمن

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماء اسلام کےسربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مدارس میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کو دہشتگرد کہا جارہا ہے ، جمعیت علمائے اسلام امن کی بات کرتی ہے ، جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات رکھ کر سیاست کرتے ہیں ، پاکستان کو 70سال کے دوران معاشی طور پر مستحکم نہیں کیاگیا،پاک چین دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیلاور  دنیا کی سیاست بھی بدل گئی ہے، امریکہ کا دنیا پر حکمرانی اور وسائل پر قبضے کا خواب ادھورا ہوتاجارہاہے ،نئے مالیاتی نظام کی وجہ سے دنیا دو بلاکوں کی طرف جارہی ہے، اس لئے اس ملک اور خطے کو جنگ سے نکلنا ہوگا ، ملک کو70سال میں معاشی طورپر مستحکم نہیں کیاگیا ، کرپشن دورکرنے کیلئے ملک کا نظام جمعیت کے حوالے کیاجائے ،جمعیت سے بڑھ کر عوام کو امن اور روزگار اور کوئی نہیں دے سکتا، ملک کے نوجوانوں کے کندھوں پر بندوق کس نے ڈالی اور راکٹ چلانے کی ترغیب کس نے دی؟  اگر یہ سب کچھ ریاست کی ذمہ داری ہے تواسے قبول کرلینا چاہئے، مذہبی طبقوں کو ٹارگٹ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟  جے یو آئی کا پارلیمانی راستہ نہ روکاجائے ، اگر ایسا ہوا تو گلی کوچوں میں کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا۔

داعش کی جانب سے دریائے فرات کے سپل ویز کھولنے کا خطرہ، کسان خوف میں مبتلا

ہاکی گراؤنڈ کوئٹہ میں’’ علماء مشائخ اور مدارس کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمن نے  کہا کہ  ہمارا منشور اسلام اور منزل شریعت ہے ، ملک میں اسلامی حکومت ، آئین اور شریعت کی بات  علماء کے سوا کوئی نہیں کرسکتا، پگڑیاں سر جھکانے نہیں سینہ تان کر چلنے کے لئے پہنی ہیں،قوموں کو اپنی تاریخ پر فخر ہوتا ہے ،ہمیں بھی قربانیوں سے بھری تاریخ پر فخر ہے ، جے یو آئی پسے ہوئے طبقے کی بات کرتی ہے ،امن ، انسانیت کا بنیادی حق ہے ،  جب تک لوگوں کے حقوق کا تحفظ نہ ہوگا اس وقت تک امن کا قیام بھی ممکن نہیں ہوگا ، جمعیت کا نظریہ انسانیت کی علمبرداری اور امن وامان ہے ،ہم سے زیادہ اس کا دعویدار کون ہوسکتا ہے ؟لیکن  یہاں علمائے کرام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ آخر ہمارے  نوجوانوں کے کندھوں  پر بندوق کس نے رکھی اور انہیں مورچے میں لڑنے کی تربیت کس نے دلائی؟  اگر اس کی ذمہ دار ریاست ہے تو وہ اسے قبول کرے ،اس حوالے سے مدارس پر شک کی نظر نہ ڈالی جائے ۔

انہوں نے کہاکہ  آج تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ امن سے رہنا اور آئین کے تحت زندگی گزارنی چاہیے ، ہمیں ان چند لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو اسلحہ کی بات کرتے ہیں ،  70 سال میں ہم نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہیں دیکھا ، امریکہ ، یورپ اور یہود کی طرز پر سیاست کرنے والوں کو دیکھ کر  پتہ چلتا ہے کہ ان میں دماغ سے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن کے خاتمے کی باتیں کی جاتی ہیں ہم کہتے ہیں کہ ایک دن کے لئے ملکی نظام ہمارے حوالے کیا جائے ہم کرپشن کو ختم کرکے دکھائیں گے ،پورے ملک کے علماء کی کرپشن کو اکھٹا کیا جائے تو یہ لاہور کے ڈیفنس کے ایک پلاٹ کے بھی برابر نہیں ہوگی ، جو ہم پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں وہ کس کو پاک دامن کہتے ہیں ؟ پاکستان کے مسائل کا حل ہمارے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا ۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم نے پگڑیاں سر جھکانے کے لئے نہیں بلکہ سینہ تان کر چلنے کے لئے پہنی ہے ، غریب کے لئے حقوق مانگنے کی جدوجہد سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین  دوستی کو کوہ ہمالیہ سے اونچی ، شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری  کہا جاتا رہا ہے ، آج یہ دوستی اقتصادی دوستی میں تبدیل ہوچکی ہے ، اس وقت دنیا بھر کی سیاست تبدیل ہوگئی ہے، امریکہ جو خود کو پوری دنیا کا حکمران سمجھتا تھا اور چاہتا تھا کہ تمام دنیا کے وسائل اس کے قبضے میں آئیں ،اس کا یہ خواب ادھورا رہ گیا ہے ، مغرب کے مقابلے میں دنیا میں نیا معاشی نظام آرہا ہے ،دنیا میں اس تبدیلی سے پاکستان کہا ں جاتا ہے ؟ہمیں یہ دیکھنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں اس خطے میں بعض قوتیں ایک دوسرے کے سامنے آجائیں گی،  اس حوالے سے گراؤنڈ تیار کی جارہی ہے، اس سلسلے میں 15 سال انتہائی اہم ہیں اور مذہبی طبقات کو بھی احتیاط سے چلنا ہوگا، اس صورتحال میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کو جنگ کی صورتحال سے نکالیں، جمعیت علماء اسلام ہمیشہ سے ہی پارلیمانی کردار ادا کررہی ہے ، ہمار اراستہ نہ روکا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ وفاق المدارس 19 سے 20 ہزار مدارس پر مشتمل نیٹ ورک ہے ،اس کے خلاف کوئی بھی کاروائی تسلیم نہیں کریں گے ، جے یو آئی کا راستہ کوئی نہ روکے ، جو ہمارا راستہ روکے گا ہم اسے بتانا چاہتے ہیں کہ وہ گلی کوچوں میں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے ، اگر انتخابات میں ہمارا راستہ روکا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ آج کے پروگرام کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے تاہم جمعیت کے صد سالہ اجتماع انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا جس میں 35 سے 40 لاکھ افراد شرکت کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جے یو آئی صد سالہ سفر مکمل کرچکی ہے ہم اس سفر کو دنیا کے سامنے رکھیں گے، اگر ملکی سیاست میں جے یو آئی کا کردار نہ ہوتا تو یہ ملک سیکولر بن چکا ہوتا ، ہم 73کے آئین کی پاسداری کررہے ہیں، اس اجتماع  کے ذریعے ہم سیکولر طبقے کو پیغام دے رہے ہیں کہ جے یو آئی ہی ملک میں شرعی نظام نافذ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین ، کشمیر اور برما سمیت دیگر ممالک کی سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھی جائے گی ۔ اس سے قبل جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ ، سابق گورنر بلوچستان سید فضل آغا ، ولی محمد ترابی ، حافظ حسین احمد شرودی ، قاری مہر اللہ ، جے ٹی آئی کے شاہ عبداللہ ، مولوی محمد عالم ، مرکزی سالار عبدالرزاق عابد لاکھو ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات صلاح الدین ایوبی ،مولوی عصمت اللہ ودیگر نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے قانون پر کوئی بھی بات نہیں کرسکتا ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے ملک کو سیکولر بنانے کی ہر ممکن کوششیں کی تاہم ہماری جدوجہد کے نتیجے میں انہیں اس مقصد میں ناکامی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد نے فاٹا کی عوام کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کیا تاہم ایسا نہیں ہوا اس لئے آج فاٹا کا ہر شہری حیران و پریشان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام عوام کی دلوں کی دھڑکن ہے اس لئے لوگ جوق درجوق اس میں شامل ہورہے ہیں ۔جلسہ کے موقع پر ہاکی گراؤنڈ کو چاروں طرف سے جمعیت علماء اسلام کے سیکورٹی گارڈز نے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور ہاکی گراؤنڈ جانے والے سڑکوں پر سیکیورٹی  انتہائی سخت تھی ۔

مزید : قومی