سینیٹ :مسلم لیگ (ن)کی فتح‘ جمہوریت کی جیت

سینیٹ :مسلم لیگ (ن)کی فتح‘ جمہوریت کی جیت
سینیٹ :مسلم لیگ (ن)کی فتح‘ جمہوریت کی جیت

  



سینیٹ انتخابا ت میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی دراصل جمہوریت شکن قوتوں کی شکست ہے۔۔۔ جو پس پردہ عناصر حکمران جماعت کو اپنے صفحات سے خارج کر چکے تھے یا جو سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کو آؤٹ کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے ان عناصر کے لئے نہ صرف یہ شرمندگی کا مقام ہے بلکہ سوچنے کا بھی کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب کئے گئے ارکان کو غیر جمہوری طریقوں سے نکالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔

سینیٹ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) تیتیس سیٹوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا سے مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ پندرہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔

تحریک انصاف جو بڑے دعوے لے کر میدان میں اتری تھی، صرف چھ سیٹیں لے سکی جن میں پانچ کا تعلق خیبرپختونخوا سے اور ایک کا پنجاب سے ہے۔

یہاں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا اصل چہرہ ایک بار پھر سامنے آ گیا۔ وہ جس ایوان کو گالیاں دیتے تھے اس میں ہونے والے انتخابات کے لئے وہ حصہ بھی لے رہے تھے لیکن کامیابی ان سے کوسوں دور رہی۔

سینیٹ نتائج سے ثابت ہو گیا کہ ن لیگ سب سے بڑی جماعت ہے۔ دھرنوں اور احتجاج کی سازشی سیاست مکمل طور پر ناکام ہو چکی۔اس سیاست کو عوام مانتے ہیں نہ اس ملک کے دانشور۔ دھرنوں کی سیاست نے ملک کو بحرانوں اور مسائل کے سوا کچھ نہیں دیا۔

تحریک انصاف کے لئے ایسے بہت سے مواقع آئے، جب وہ خود کو ایک جمہوری اور عوامی جماعت ثابت کر سکتی تھی لیکن اس نے ہر موقع گنوا دیا اور ایک مہرے کا کردار ادا کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی جڑیں چونکہ عوام کے اندر موجود تھیں۔

یہ عوامی سیاست کی قائل تھی اور ماضی میں بھی عوام نے کئی مرتبہ اس پر اعتماد کیا، اس لئے اسے ہمیشہ پذیرائی ملی۔ سینیٹ انتخابا ت نے تو تاریخ رقم کر دی لیکن اس سے قبل ضمنی انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) ہی کامیاب رہی۔

احتساب کے نام پر اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لیڈران کو پابند سلاسل کیا گیا۔ ان کی زبان بندی کی کوشش کی گئی۔ ان کی آزادی رائے پر قدغن لگائی گئی لیکن ایسی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کیونکہ جمہوریت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔

جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت عوام ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مصنوعی طاقت یا حربہ عوام کے اس بنیادی اور آئینی حق کو ان سے نہیں چھین سکتا۔

سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے بعد اب یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ بھی مسلم لیگ (ن) کا ہی ہو گا۔ مسلم لیگ ملک کی انتخابی سیاست اور عوامی سیاست سے بخوبی واقف ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ عوام کے دلوں میں رہتی ہے۔ یہ جذبات اور الزامات کی سیاست کی عادی نہیں اور نہ ہی اقتدار میں آنے کے لئے اسے شارٹ کٹ کی تلاش ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو جتنا دبانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اتنا ہی ابھر کر سامنے آتی ہے۔ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی فوقیت اس بات کا اظہار ہے کہ یہ عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور اقتدار کا ہما آئندہ عام انتخابات میں اسی کے سر پر بیٹھے گا۔سینیٹ میں حکمران جماعت کی جیت کو دیکھ کر عوام کو بھی حوصلہ اور امید ہوئی ہے۔

عوام بھی سمجھدار ہو چکے ہیں انہیں کھوکھلے نعروں سے اب کوئی ورغلا نہیں سکتا۔عوام کی ترقی کیخلاف جو بھی سیاستدان یا جماعت کام کرے گی، اسے ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور جو جماعت عوام کی خوش حالی اور ان کے مسائل کے تدارک کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے گی وہی کامیاب و کامران ٹھہرے گی۔

مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے، اسی لئے ہر قسم کی سازشوں کے باوجود یہ آگے ہی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔الزام تراشی اور بہتان طرازی کرنے والی مخالف جماعتیں شکست خوردہ جماعتیں بن چکی ہیں۔ عوام نے بھی انہیں مسترد کر دیا ہے۔

عوام کو ان کے مسائل کا حل چاہیے اور انہیں حکمران جماعت سے ہی یہ امید ہے کہ وہ الیکشن میں کئے گئے تمام وعدے پورے کرتے ہوئے ملک کو ترقی کے اعلیٰ مقام پر فائز کرے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام جھوٹ اور گالی کی سیاست سے شدید نفرت کرنے لگے ہیں۔

ترقی کے سفر میں رخنہ ڈالنے والے نہ صرف ملک کے ساتھ بددیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ وہ آئین اور قانون کا بھی کھلا مذاق اڑا رہے ہیں۔

تحریک انصاف جیسی جماعتیں ایک طرف تو پارلیمنٹ کو گالیاں دیتی ہیں ’ اس کے لیڈر پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں آنا گوارا نہیں کرتے لیکن اسی پارلیمنٹ سے وہ تنخواہ بھی لیتے ہیں اوراسی کے بل پر وزیراعظم بھی بننا چاہتے ہیں۔

2018ء کے انتخابات میں تھوڑا ہی وقت باقی ہے۔ جس تیزی سے مسلم لیگ (ن) کا گراف اوپر کی جانب بڑھ رہا ہے آئندہ انتخابات میں اس کی جیت واضح دکھائی دے رہی ہے۔

مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے درست کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ کا نام‘ جماعت اور نشان تک چھین لئے گئے لیکن سینیٹ انتخاب ہر اس امیدوار نے جیتا جو نواز شریف کا انتخاب تھا۔م

سلم لیگ کے ارکان نے سیاست کی روایت ہی بدل دی۔ انہوں نے نظریات کو ووٹ دیئے۔ انہوں نے نظریے کو زندہ کیا اور نظریے کی سیاست کو مقدم جانا۔

انہوں نے ہر قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے قائد کے اصولوں سے انحراف کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ن لیگ کے امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ کر کے پری پول دھاندلی کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجود آزاد امیدوار نواز شریف کا سپاہی نکلا۔

حمزہ شہباز نے بھی درست کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔سازشوں اور دھرنوں سے عمران خان کبھی وزیراعظم نہیں بن سکتا۔وہ چور دروازے کی تلاش میں ہے کہ سلی سلائی شیروانی ملے اور پہن لے۔

عمران خان ووٹ ڈالنے نہیں آئے اور صرف میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو بھی یہ سبق ملا ہے کہ وہ دوسروں پر الزام لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے۔

بلاول بھٹو کو پہلے اپنے والد آصف علی زرداری کا محاسبہ کرنا چاہیے اور ان کے احتساب کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے جنہوں نے سرے محل اور سوئس اکاؤنٹس سے ملک کو لوٹا۔

دراصل بلاول بھٹو ہوں یا عمران خان ان دونوں کی سیاست کا محور اور مرکز صرف سازشی سیاست ہے۔ دونوں ایک مہرے کا کردار ادا کر رہے ہیں اسی لئے ان کے نصیب میں شکست ہی لکھی ہوئی ہے۔

سینیٹ انتخابات کے نتائج تحریک انصاف سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے لئے نوشتہ دیوار ہیں۔اگر ان میں تھوڑی سی بھی عقل اور فہم و فراست ہوتی تو یہ احتجاجی سیاست کو ترک کر دیتے اور عوامی مفاد کے لئے کام کرتے ۔

بدقسمتی سے ان میں یہ خوبیاں موجود نہیں اسی لئے ہر سیاسی محاذ پر شکست ان کا مقدر بن رہی ہے اور سینیٹ نتائج کے بعد مسلم لیگ ایک مرتبہ پھر ملک کی مقبول ترین جماعت بن کر سامنے آ ئی ہے۔

مزید : رائے /کالم