ضم شدہ اضلاع میں طبی سہولتوں کا فقدان ،موبائل ہسپتال غیر فعال

ضم شدہ اضلاع میں طبی سہولتوں کا فقدان ،موبائل ہسپتال غیر فعال

  



پشاور( سٹی رپورٹر)حکومت کی جانب سے سابق فاٹامیں قبائلی عوام کے طبی سہولیات کی فراہمی کا پول کھول گیا،قبائلی عوام کیلئے موبائل ہسپتال پروگرام غیر فعال رہا۔جسکے باعث ان علاقوں میں مختلف بیماریوں میں خطر ناک حد تک اضافہ ہونے لگاہے اور پشاور کے ہسپتالوں میں مریضوں کارش بڑھنے لگاہے،جبکہ ہسپتال پروگرام کیلئے خریدی گئی28 گاڑیاں 3 سال سے کھڑے کھڑے ناکارہ ہوگئیں ہیں،ایک گاڑی کی قیمت10 ملین روپے ہے۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے قبائلی عوام کیلئے سابق فاٹاکے دور میں موبائل ہسپتال پروگرام کے منصوبے کے تحت 28گاڑیاں خیریدی گئی تھیں ،جو تین سال سے کھڑی کھڑی خراب ہونے لگے ہیں۔ہر موبائل ہسپتال کیلئے 10 افراد بھی بھرتی کئے گئے تھے،جبکہ ان ملازمین سمیت بھرتی کئے گئے 200 ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق موبائل ہسپتال میں مختلف ٹیسٹ سمیت کئی امراض کی تشکیل کی سہولت موجود تھی۔ایکسرے، او ٹی، بلڈ و یورین سکریننگ،گائنی اور جنرل او پی ڈی کی سہولت بھی تھی۔ غیرفعال موبائل ہسپتال پروگرام کے باعث سابق فاٹا میں مختلف امراض میں اضافہ ہوگیا،قبائلی عوام دور دراز علاقوں سے علاج کیلئے شہروں کی طرف آنے پر مجبورہیں۔قبائلی اضلاع میں موبائل ہسپتال کیلئے خریدی گئی ایک گاڑی کی قیمت 10 ملین روپے ہے۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ خطیر مالیت سے خریدی گئی 16 گاڑیاں جمرود ہسپتال میں کھلے آسمان تلے گرد و غبار میں اٹی کھڑی ہیں۔جبکہ اس موبائل ہسپتال پروگرام کی دیگرگاڑیاں ہنگو، باجوڑ، مومند اور جنوبی وزیرستان میں کھڑی ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر