تحصیل کونسل کوہاٹ اجلاس ،ٹی ایم اے افسران کواجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت

تحصیل کونسل کوہاٹ اجلاس ،ٹی ایم اے افسران کواجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ...

  



کوہاٹ(بیورو رپورٹ) ٹی ایم اے افسران کی عدم موجودگی کے باعث تحصیل کونسل کوھاٹ کا اجلاس پانچ روزہ وفقہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو پریذائیڈنگ آفیسر شاہد محمود نے انہیں وقت کی پابندی کرنے اور ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور اجلاس میں دیر سے آنے پر تحصیل ناظم سے ان کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اپوزیشن لیڈر تحصیل کونسل عبدالرحمن نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا لیڈر ناظم اور سیکرٹری ٹی ایم او ہے اور رولز کے مطابق اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے قبل ازیں اپوزیشن لیڈر نے اکاؤنٹس کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں کیا تحصیل ناظم نے جملہ اخراجات کے بلوں پر دستخط کیے اگر ان کے پاس اختیارات نہیں تھے تو دستخط کیسے کر لیے تحصیل کونسل کی آمدن 60 کروڑ اور اخراجات کا تخمینہ 66 کروڑ ہے یہ 6 کروڑ کی اضافی رقم کہاں سے آئے گی حیرت کا مقام ہے بہتر یہ ہے کہ فاضل بندوں کو ٹی ایم اے سے فارغ کیا جائے اعداز و شمار کے مطابق اس وقت یہاں 366 ملازمین ہیں 82 لوگ کنٹریکٹ پر نہیں دس افراد سیمنٹ فیکٹری میں لوڈ ان لوڈ ٹیکس وصولی کے لیے رکھے گئے 73 لیڈی ٹیچرز کام کر رہی ہیں جبکہ 23 لوگ کیش تنخواہ لیتے ہیں ٹی ایم اے کے 343 ملازمین کو بینک سے تنخواہ مل رہی ہے لوڈ ان لوڈ ٹیکس والے افراد کہاں کام کر رہے ہیں کوئی علم نہیں لہٰذا ضرورت اس امر ک ہے کہ اس کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو حجروں اور گھروں میں کام کرنے کے لیے یا ڈیوٹی نہ کرنے والوں کی رپورٹ تیار کر کے ایوان میں پیش کرے بہتر حل یہ ہے کہ فکسڈ تنخواہ والوں کو مستقل کر کے دیگر تمام کو فارغ کر کے آمدنی میں اضافہ کیا جائے ٹی ایم اے ملازمین کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر تبدیل کرنے کے بجائے اپنے اپنے سیکشن میں رکھا جائے اور خواتین ٹیچرز کی سکروٹنی کی جائے فنڈز کی بنڈر بانٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سال کا ڈیویلپمنٹ کا فنڈ تنخواہوں میں گیا دوسرے ڈھائی کروڑ بیلو تھا ڈیڑھ کروڑ روپے تحصیل ناظم نے کونسل سے پوچھے بغیر بجلی کی مد میں دیئے اور 35 لاکھ روپے ٹیوب ویل کی مد میں دیئے گئے ٹی ایم اے کے ہر پلازے کے ذمے بقایاجات ہیں شہر بھر میں سینکڑوں ریڑھیاں ہیں جن سے روزانہ اور ماہانہ کی بنیاد پر رقم لی جاتی ہے تہہ بازاری کے نام پر سفید پرچیوں پر وصولیاں کی جاتی ہیں اور پھر وہ رقم سٹاف کے مابین تقسیم ہوتی ہے اسی طرح منڈی مویشیان سے وصول شدہ رقم کی بھی آپس میں بنڈر بانٹ ہوتی ہے ان امور سے خسارہ کم کیا جا سکتا ہے مگر رقم جیب میں جانے سے خسارہ کیسے پورا ہوتا ہے میرا مطالبہ ہے کہ تمام ریڑھیوں کو بازار سے نکال باہر کیا جائے تحصیل ناظم کے مطابق ڈبلیو ایس ایس سی کے ساتھ معاہدہ صوبائی حکومت کا ہے مگر دستیاب ریکارڈ کے تحت اس پر تحصیل ناظم کے دستخط ہیں اس معاہدہ میں یہ نہیں لکھا کہ یہ اربن6 میں صفائی نہیں کریں گے حالانکہ صفائی کی مد میں ڈبلیو ایس ایس سی کو 30 کروڑ روپے دیئے گئے جس میں طے ہوا ہے کہ اس کا آڈٹ نہیں ہو گا کیا اس معاہدہ کو طے کرتے وقت کونسل کو اعتماد نہیں لیا گیا تھا ہمیں تحصیل ناظم ساڑھے 3 سالوں میں کیا گیا کوئی ایک ترقیاتی کام دکھایا جائے اگر کونسل میری تجویز سے اتفاق کرے تو ہم ٹی ایم اے کو تالے لگا دیتے ہیں پھر دیکھتے ہیں خسارہ پورا ہوتا ہے یا نہیں عوام کو ایک روپے کی سروس مل نہیں رہی اور کروڑوں روپے کا نقصان ہم برداشت کر رہے ہیں ایسے حالات میں سکروٹنی کرنے کی اسد ضرورت ہے کام نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر کنوینئیر کے بولنے پر ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہو گیا تاہم بعد ازاں متفقہ رائے سے حزب اقتدار اپوزیشن ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی عبدالرحمن کی چیئرمین شپ میں تشکیل دی گئی جس میں اکبر خان مجاہد‘ ذیشان‘ حبیب اللہ اور اعجاز کو شامل کیا گیا فرزند علی کیانی نے اپوزیشن لیڈر کے سوالوں کے جواب میں وضاحت کی کہ مال منڈی کے 3 لاکھ روپے جمع ہیں سٹاف کم ہونے کے سبب ہم نے وہاں کمیشن پر لوگوں کو رکھا ہے ایوان کے تمام ممبران کسی بھی وقت مال منڈی کا وزٹ کر سکتے ہیں وہاں کا ایک روپے کا بھی غلط استعمال نہیں ہو گا تحصیل ناظم ملک تیمور خان نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم خان نے قوم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ڈیڑھ کروڑ غریب لوگوں کو نوکریاں دیں گے مگر ایوان کا اپوزیشن رکن جس کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے باروزگار غریب لوگوں کا روزگار چھیننے کا مطالبہ کر رہا ہے ٹی ایم اے کے 82 فکسڈ ملازمین ہیں اور تمام بھرتیاں میرے دور سے پہلے کی ہیں میں ان کے چولہے ٹھنڈے نہیں کر سکتا بلکہ کونسل کے توسط سے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ تمام عارضی ملازمین کو مستقل کرے اپوزیشن لیڈر کو کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے وہ تحقیقات کریں کہ جو لوگ کام نہیں کرتے انہیں فارغ کر دیں پلازوں بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے نوٹسز بجھوائے ہیں متعدد دکانوں کو سیل بھی کیا گیا ہے اور 64 لاکھ کی ریکوری بھی کر دی ہے سپرنٹنڈنٹ بشیر اور وقاص کو یہ فریضہ حوالہ کیا گیا ہے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 3 کروڑ کے بقایاجات کی وصولی کے لیے بھی اقدامات ہو رہے ہیں منڈی کے ذمے 92 لاکھ کے واجبات ہیں جس میں سے 53 لاکھ جمع ہو چکے ہیں افسوس یہ ہے کہ صوبائی حکومت ہمارے فنڈ پر کٹ لگاتی ہے بجلی اور تنخواہ کی مد میں ہم سے فنڈ کاٹا جاتا ہے ہمارے آنے سے پہلے تو ٹی ایم اے سٹاف کی تنخواہیں بھی نہیں تھیں اور ملازمین احتجاج کر رہے تھے اباسین پلازہ میں 30 لاکھ روپے کا مسئلہ ہے اس کا پراسس مکمل کر کے اس کی نیلامی کر دی جائے گی جہاں تک ہتھ ریڑھیوں کا مسئلہ ہے تو اس سلسلہ میں ہدایت جاری کرتا ہوں کہ انہیں بازاروں سے ہٹا کر سستا بازار میں کھڑا کیا جائے اور سستا بازار کا جلد از جلد آکشن کیا جائے رکن کونسل محمد اعجاز نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اصل حقائق کی سفارشات تیار کرے ڈبلیو ایس ایس سی کے ساتھ معاہدے میں تبدیلیاں کی جائیں سال 2017-18 اور 2018-19 کی ٹینڈر شدہ رقم منہا کر کے باقی رقم ممبران میں تقسیم کی جائے سیونگ بیلو کے 3 کروڑ 64 لاکھ 58 ہزار روپے اراکین کونسل میں تقسیم کیے جائیں دیہی کونسلز کی صفائی کی رقم ڈبلیو ایس ایس سی کے بجائے یونین کونسل کو فراہم کیا جائے ٹھیکیداروں کے بلوں پر ممبران کے دستخط کو یقینی بنایا جائے سست روی اور نااہلی دکھانے والے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کیا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر