خواتین کو معاشرہ میں مزید بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے ،شوکت علی یوسفزئی

خواتین کو معاشرہ میں مزید بااختیار بنانا اولین ترجیح ہے ،شوکت علی یوسفزئی

  



پشاور( سٹاف رپورٹر)صوبائی حکومت خواتین کو معاشرے میں مزید بااختیار بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔خواتین سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملے کے سننے کے لیے صوبے میں ombudsperson لگا دی گئی ہے جبکہ خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے صوبائی اسمبلی اور کابینہ نے ڈومیسٹک وائلنس بل کی منظوری دے دی ہے۔خواتین پر تیزاب ڈالنے کے واقعات کے سددباب کے لئے'' ایسڈ برن پریوینشن بل'' میں سخت سے سخت سزائیں دلوانے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے شہید بینظیربھٹو وومن یونیورسٹی پشاور میں انٹرنیشنل وومن ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب'' شو کیسنگ وومن سکسس سٹوریز'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں زیادہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے اور تعلیم یافتہ بنانے کے لئے ہر ڈویژن کی سطح پر وومن یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کے قیام کے لیے صوبائی حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ ہزارہ مردان اور سوات میں موجود دارالامان کے طرز پر ہر ضلع کی سطح پر دارالامان بنائے جائیں گے جہاں پر خواتین پولیس اہلکار ڈیوٹی کے فرائض انجام دیں گی۔خواتین کو دستکاری وغیرہ کے ہنر سکھانے کے لئے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق سکل ڈیویلپمنٹ سینٹر قائم کیے جائیں گے جہاں پر کامیاب کورس کرانے کے بعد خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے کے لئے چار لاکھ روپے آسان قرضہ دینے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔شوکت یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت نے ٹرانس جینڈر کو معاشرے میں باعزت مقام دینے کے لئے پالیسی بنا دی ہے جس کو منظوری کے لیے جلد کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ ٹرانس جینڈر کو ہراسمنٹ اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچانے اور خود مختار بنانے کے لیے ملازمتوں میں کوٹہ دیا جائے گا جبکہ ان کے صحت کے مسائل حل کرنے کیلئے تمام ٹرانس جینڈر کو صحت انصاف کارڈ دیئے جا رہے ہیں انہوں نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے لازمی نہیں ہے کہ مختلف تجربات کیے جائیں بلکہ کامیاب تجربات پر عمل درآمد کرکے بھی ترقی کی جاسکتی ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں میرٹ کا نظام ہونے کی وجہ سے ہر کسی کے پاس آگے بڑھنے کے برابر مواقع موجود ہیں جو جتنی محنت کرے گی وہ اتنی آگے بڑھے گی۔ملک کو ترقی کی طرف لے جانے اور بین الاقوامی سطح پر اپنا مقام بنانے کیلئے ریسرچ کے کلچر کو عام کرنا ہو گا۔طا لبات صرف امتحانات پاس کرنے کے لئے نہ پڑھیں اور نہ صرف اپنے آپ کو کلاس روم تک محدود رکھیں بلکہ ریسرچ کی طرف اپنا رجحان بڑھائیں۔تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی ملیحہ اصغر،صوابی یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نور جہاں،شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ،پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ قادراور معروف شاعرہ بشریٰ فرخ کے ساتھ دیگر نے بھی شرکت کی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...