مودی کے خواب ریزہ ریزہ

مودی کے خواب ریزہ ریزہ

  



بھارتی حکومت نے بالآخر اعتراف کر لیا ہے کہ پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں کی گئی ناکام فضائی کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی حکومت کا تازہ موقف یہ سامنے آیا ہے کہ یہ کارروائی محض ’’وارننگ‘‘ تھی۔ بھارت کے وزیر مملکت برائے الیکٹرونکس و آئی ٹی سریندر سنگھ آہلووالیہ نے بتایا ہے کہ حملے کا مقصد پاکستان کو ’’مکمل پیغام‘‘ دینا تھا جانی نقصان پہنچانا نہیں، متنبہ کرنا چاہتے تھے کہ ہم میں اتنی طاقت ہے کہ ضرورت پڑنے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور پارٹی کے کسی ترجمان نے 300سے زیادہ ہلاکتوں کی بات نہیں کی۔ تاہم بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پٹنہ (بہار) میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ منطق بھگاری کہ بالاکوٹ حملے کے ثبوت مانگنا فوج کا مورال گرانے کے مترادف ہے۔ امریکی تھنک ٹینک بھی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بھارتی طیاروں نے بالاکوٹ میں کسی عمارت کو تباہ نہیں کیا اس تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی طیاروں کے بموں سے چند درخت گرے۔ بھارت میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ عالم فاضل لوگ اور دانشور بھی مودی کے دعوؤں اور اب اختیار کی جانے والی تاویلوں کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔

نریندر مودی اور بھارت کے میڈیا نے سوچے سمجھے بغیر بالاکوٹ میں ’’دہشت گردوں کے کیمپ‘‘ تباہ کرنے اور 350دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا بے سروپا دعویٰ کر تو دیا تھا لیکن جب اپوزیشن جماعتوں نے اس پر سوال اٹھائے تو مودی کو کوئی جواب نہیں سوجھ رہا ان کی کابینہ کے وزیر تو برملا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ بھارتی طیاروں نے بالاکوٹ میں جو بم گرائے تھے ان سے صرف چند درخت ہی گرے تھے اب امریکی تھنک ٹینک نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ یہ بم چیٹر کے درختوں کے جنگل میں گرے تھے کسی عمارت یا آبادی پر نہیں گرے اس علاقے میں پہاڑی پر ایک ہی عمارت ہے جو اب تک موجود ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ اور مودی کی جماعت کی سابق کولیشن پارٹنر محبوبہ مفتی نے بھی کہا ہے کہ بالاکوٹ حملے پر سوال اٹھانا سیاست دانوں کا حق ہے اس کا جواب دینے کی بجائے غداری کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹے جائیں۔ بھارتی وزیراعظم نے بالاکوٹ حملے پر اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ بالعموم ان ملکوں میں ہر حکومت اختیار کرتی ہے جہاں جمہوریت کی جڑیں گہری نہیں ہوتیں۔ بھارت تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا داعیہ رکھتا ہے جس کے وزیراعظم مودی نے اپنی حکومت کی مخالفت کو ’’دیش‘‘ اور ’’سینا‘‘ کی مخالفت کا رنگ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ جو جھوٹ بھی بول رہے ہیں اور جویا وہ گوئی بھی کر رہے ہیں اسے من و عن قبول کر لیا جائے لیکن اپوزیشن کے سوالات کی یلغار سے گھبرا کر مودی کی حکومت کو اپنے وزیر کے ذریعے تسلیم کرنا پڑا کہ پاکستان پر بھارتی فضائی حملے سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ ضرور کہا گیا کہ ہمارا مقصد تو یہ بتانا تھا کہ ہم سرحد پار کرکے پاکستان کی حدود میں داخل بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ دعویٰ تو اس وقت عین پاکستانی فضا میں باطل ثابت ہو گیا جب پاکستانی شاہینوں نے 90سیکنڈ میں بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ بھی گرفتار کر لیا جسے خیرسگالی کے طور پر دو دن بعد ہی رہا کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے بھارت کا یہ دعویٰ تو باطل ثابت ہو گیا کہ وہ پاکستان کو ’’مکمل پیغام‘‘ دینا چاہتا تھا اب تو پاکستان کی طرف سے جوابی پیغام یہی دیا گیا ہے کہ جس طیارے نے بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اس کا واپس جانا ممکن نہیں۔

جنگی جنون پیدا کرنے سے مودی کا منصوبہ تو یہ تھا کہ وہ اپنے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ انہوں نے ’’پاکستان کو سبق سکھا دیا ہے‘‘ اس لئے جواب میں بھارتی جنتا انہیں ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھانے کے لئے ووٹ دے، لیکن لگتا ہے کہ یہ منصوبہ بری طرح فائر بیک کر چکا اور اب لالو پرشاد یا دیو جیسے رہنما یہ کہہ کر مودی کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ پٹنہ میں مودی نے سرکاری وسائل صرف کرکے جتنے لوگ جمع کئے اتنے تو میں کسی پان شاپ پر اکٹھے کر سکتا ہوں، بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرشاد نے یہ الزام بھی لگایا کہ ٹی وی ناظرین کو گمراہ کرنے کے لئے کیمروں کا استعمال بھی کیا گیا۔ مودی اگر اپنے ملک کی جنتا کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا نہ لیتے تو آج انہیں لالو پرشاد کے خندہ استہزا کا نشانہ نہ بننا پڑتا، لیکن مودی نے تو جگ ہنسائی کا سامان خود کیا تھا۔ اب اس خود کردہ کا کیا علاج ہے، پہلے انہوں نے 350 دہشت گردوں کی ہلاکت کا فسانہ گھڑا، لیکن یہ اتنا بڑا دعویٰ تھا کہ جنتا نے جب ثبوت طلب کئے تو درمیان میں حب الوطنی کو لانا پڑ گیا۔ اب اس کی تردید کرتے ہی بنی ہے تو رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق مودی کی جیت کے امکانات میں سترفیصد تک کمی آچکی ہے اس لئے آئندہ بھی وہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کریں گے جو اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے استعمال کرسکیں۔ اس لئے مودی کے عزائم اور سازشوں سے پوری طرح باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگرس کے سابق وزیر خزانہ پی چدم برم نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات خاصا پیچیدہ معاملہ ہے لیکن پھر بھی جنگ سے بچنے کے لئے یہی راستہ ہے۔ کانگرس کے سیکرٹری جنرل ڈگ وجے سنگھ نے کہا کہ مودی دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ حکومت بالاکوٹ پر حملے کے ثبوت سامنے لائے، اور تو اور بھارتی دانشور بھی مودی کی دروغ گوئی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ شاعر اور نغمہ نگار جاویداختر نے کہا کہ انہوں نے سکندر اعظم کی بہار میں موت کے متعلق غلط دعوی کیا حالانکہ سکندر اعظم تو بہار گیا ہی نہیں تھا یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اسی طرح ایک اور بھارتی مورخ نے بھگت سنگھ کے متعلق مودی کے بیان کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

بھارت کی وزیرخارجہ سشماسوراج نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرکے پاکستان پر جو الزام تراشی کی تھی اور الزام لگایا تھاکہ وہ خطے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا تھا جس کی وجہ سے بھارت اسے اپنی کامیابی پر محمول کرتا رہا، لیکن جب کشمیر میں کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کی مذمت کی قرارداد اجلاس میں منظور ہوگئی تو بھارتی کامیابی کا نشہ ہرن ہوگیا، چونکہ کانگرس نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ہے کہ او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کا کریڈٹ لینے سے کیا حاصل ہوا، مخالف جماعتیں ایسے تمام معاملات کو شدت سے اٹھا رہی ہیں جن کا مودی کے اعصاب پر اتنا اثر ہے کہ وہ ایک جلسے میں رو پڑے تھے۔ ان حالات میں مودی کی حکومت اور ان کی پارٹی جس مشکل صورت حال سے دو چار ہے اس کا حل یہی ہے کہ وہ اپنے پیدا کردہ جنگی جنون کو کنٹرول کرے۔ جنگ کی دھمکیوں سے باز آئے اور ثالثی کی پیشکش قبول کرکے تنازعات کے حل پر تیار ہو، ثالثی کی تازہ ترین پیشکش قطر نے کی ہے جس کا بھارت کو مثبت جواب دینا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...