دباؤ میں انسان کی ذہنی صلاحیت موقوف ہو جاتی ہے

دباؤ میں انسان کی ذہنی صلاحیت موقوف ہو جاتی ہے
دباؤ میں انسان کی ذہنی صلاحیت موقوف ہو جاتی ہے

  



جب انسان خود کسی پریشانی یا مشکل میں ہوتا ہے۔ جب اس کو کوئی مسلہ درپیش ہوتا ہے۔ تو اس وقت انسان کی ذہنی صلاحیتوں کا بھی اصل امتحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے مواقع پر اکثر انسانوں کی ذہنی صلاحیت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ جب کسی انسان پر کوئی دباو ہوتا ہے یا کوئی مشکل آتی ہے تو اس کی ساری سوچ اور ساری دنیا سمٹ کر اسی جگہ پر آجاتی ہے۔ اس کے دائیں بائیں کچھ نظر آتا ہے نہ آگے پیچھے کی سوچ رہتی ہے۔۔۔پچھلے 6 دن سے میرے ایک محترم بھائی اور ان کی شریک حیات میرے مہمان ہیں۔ وہ آئے تھے صرف ایک رات کے لیے کیوں کہ اگلے دن لاہور سے اوسلو ان کی فلائٹ تھی۔

رات کو سونے سے پہلے انہوں نے متعدد بار مجھے تاکید کی کہ صبح گھر سے جلدی نکلنا ہے۔ کہیں دیر نہ ہو جائے۔ انہی کے ساتھ ہی میرے چھوٹے بھائی نے بھی سفر کرنا تھا۔ لیکن اس کو زیادہ فکر نہیں تھی۔ ہم صبح اپنے طے شدہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی گھر سے نکل پڑے اور بہت اچھے وقت پر ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ میں اور میرے بھتیجے ان کو ایئرپورٹ پر الوداع کر کے واپس آگئے اور اپنے کچھ کام نمٹا کر گھر پہنچ گئے تو چھوٹے بھائی کا فون آیا کہ ہم جہاز میں سوار ہو گئے ہیں اور بہت جلد جہاز اڑان بھرے گا۔

لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ فون آیا کہ سول ایوی ایشن نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی صورتحال کی فضا میں اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ اور ابھی کچھ واضح نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ بہرحال وقفے وقفے سے ہماری بات ہوتی رہی اور بالآخر پیغام ملا کہ تمام لوگ واپس گھروں کو چلے جائیں اور اگلے پیغام کا انتظار کریں۔ مسافروں کا سامان بیلٹ پر بکھرا پڑا ہے۔

کسی مسافر کو کوئی پتا نہیں کہ اس کی اگلی منزل کون سی ہے، کیونکہ کسی کو یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ واپس اپنے شہروں اور دیہاتوں میں چلے جائیں یا لاہور ہی میں انتظار کرنا ہے۔

ادھر ہم دوبارہ اپنے مہمانوں کو لینے کے لیے ایئرپورٹ گئے تو رنگ روڈ سے ایئرپورٹ کی طرف جانے کی اجازت نہ تھی۔ لہذا مسافر سامان اٹھا کر ایک کلومیٹر تک چل کر گاڑیوں تک پہنچ رہے تھے۔ اب اس دن سے آج تک ہمارے معزز مہمانوں کے سر پر صرف ایک ہی بات سوار ہے کہ ہم ناروے کیسے پہنچیں گے۔ ہمارے دوست کی شریک حیات بیمار ہیں جس وجہ سے وہ جلدی واپس جانا چاہتے تھے۔ ہم ان کو لے کر دوبارہ ایئرپورٹ میں پی آئی اے کے دفتر گئے تو انہوں نے کہا کہ اگلے بدھ یعنی 6 مارچ کو یہ سب ناروے جا سکیں گے۔ لیکن اگلے دن میں نے پی آئی اے کے ہیڈ آفس کال کی تو پتا چلا کہ ہمارے دوست کی سیٹ کنفرم ہو گئی ہے۔

لیکن ان کی بیوی کی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ہمارے ایک اور دوست جو اپنی والدہ صاحبہ کو لینے کے لیے پاکستان آئے تھے ان کی واپسی کی سیٹ بھی 6 مارچ کی ہو گئی ہے لیکن ان کی والدہ محترمہ کی نہیں ہوئی۔ چلو اب پی آئی اے کے قضیے کو ادھر ہی چھوڑتے ہیں کیونکہ ہمارا اصل موضوع انسان کی سوچ اور فکر ہے۔ اب میں لاہور میں بیٹھا ہوں اور پیچھے بھمبر سے ایک خاتون بار بار فون کر رہی ہے کہ وہ اپنے لیے ایک گائے خریدنا چاہتی ہے جس کے لیے اسے مالی مدد کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے اس وقت دنیا میں اس سے بڑا کوئی مسلہ نہیں ہے۔ بس اسے گائے مل جائے اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ پاک بھارت جنگ کا خطرہ ہے یا پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے ہزاروں مسافر رل رہے ہیں اور پاکستان کی قومی ایئرلائین کروڑوں کا نقصان برداشت کر رہی ہے۔

ادھر ایک اور خاتون اپنی بیٹی کی شادی میں مالی مدد کے لیے بار بار رابطہ کر رہی ہے۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی کسی کا مسلہ نہیں ہے۔ ایک اور اور فیملی کی بیٹی بیمار ہے وہ اس کے علاج کے لیے مدد چاہتے ہیں۔ جب کہ ایک بیٹی کے والد صاحب دن میں کئی بار فون کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی پر اس کا خاوند (جس کی دو بیویاں ہیں) ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔

میری بیٹی کی مدد کی جائے۔ ان کے نزدیک اس سے ضروری اور کوئی کام نہیں ہے۔ اسی طرح ایک آدھ درجن بچوں کی ماں خاوند سے لڑ کر میکے میں بیٹھی ہے اور اس کے عزیز و اقارب اسے واپس بھیجنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی دنیا کا سب سے ضروری کام ہے۔ اس کے علاوہ بیسیوں لوگ جو میرے رابطے میں ہیں اسی طرح کے ایک ایک مسلے کا شکار ہو کر پوری دنیا سے بیگانہ ہیں۔ کسی کی نوکری کا مسلہ ہے۔ کسی کے تبادلے کا اور کسی کی زمین کا مسلہ ہے۔ لیکن اس وقت کسی ایک مسلے پر جس آدمی کا دماغ بہت بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

وہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ وہ ہے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو نیم پاگل ہو چکا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ انتہا پسند ہندووں کے بل بوتے پر اپنی سیاست کرتا ہے۔ جیسے اس نے اپنی گجرات کی وزارت اعلی کے زمانے میں مسلمانوں کا قتل عام کروا کر ہندووں کی حمایت حاصل کی تھی۔ اور وزارت عظمی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا۔

اب چونکہ بھارت میں عام انتخابات ہو رہے ہیں اور مودی کی کامیابی کا دارومدار مسلمانوں اور پاکستان کی مخالفت اور ان کو نقصان پہنچانے پر ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پلوامہ کے واقعہ میں مودی خود ملوث ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کی آڑ میں پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کر کے اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کر لے گا۔ لیکن یہاں اسے لینے کے دینے پڑ گئے۔

میں نے اوپر لکھا ہے کہ انسان جب کسی ایک چیز کا دباو لے جاتا ہے تو اس کی ذہنی صلاحیت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس کی مثال مودی سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ یہ اس کے پاگل پن ہی کا شاخسانہ تھا کہ بھارتی طیارے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی میل تک آزادکشمیر میں گھس آئے اور بغیر کسی ٹارگٹ کو ہٹ کیے واپس بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

اور پاکستان کی سخت وارننگ کے باوجود اگلے دن پھر وہی غلطی کی اور اب کی بار واپس نہ جاسکے۔ اب مودی کو چکر آنے شروع ہوگئے ہیں۔ کیونکہ بھارتی عوام پلوامہ کو بھول کر اپنے مارے جانے والے دو طیاروں اور ان کے پائلٹس کا سوچ رہے ہیں۔ اب پاکستان سمیت پوری دنیا مودی کو جنگ کے نقصانات بتا کر سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن مودی پر انتخابات جیتنے کا بھوت سوار ہے۔

اور ایسے بھوت باتوں سے کہاں مانتے ہیں۔ اب مودی سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اس بھوت کے زیر اثر اور کیا کیا گل کھلائے گا۔ اپنے ایئر چیف کی بھی چھٹی کروا چکا ہے۔ اب تو یہی ہو سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی سربراہ مودی کے بھوت کو چار لاتیں مار کر سمجھائے کہ تم مودی کو سمجھاو کہ یہ سب تمہاری غلطی سے ہو رہا ہے۔ جس سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...