پشاور سیف سٹی پراجیکٹ حکومتی عدم توجہی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، ثمر ہارون بلور

پشاور سیف سٹی پراجیکٹ حکومتی عدم توجہی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، ثمر ہارون بلور

  



پشاور ( سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے سیف سٹی پراجیکٹ میں تاخیری حربوں کے استعمال اور 2014میں اس منصوبے کیلئے مختص ڈیڑھ ارب روپے کی رقم’’ادھر اُدھر‘‘کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس خیبر پختونخوا کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں، اپنی رہائشگاہ پر پی کے78کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ اے این پی دور کا منصوبہ تھا ، تاہم تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو سر خانے کی نذر کر کے مختص کی جانے والی رقم ہیرا پھیرا کی نذر کر دی ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پشاور میں پانچ ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب منصوبے کا حصہ تھی لیکن پشاور کی سڑکوں پر حکومت آج تک ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگا سکی۔ثمر بلور نے کہا کہ شہر کو محفوظ بنانے کا منصوبہ نو سال سے ٹیبل پر دھرا پڑا ہے۔ سال 2009 میں سیف سٹی پراجیکٹ کیلئے حکمت عملی بنائی گئی۔ دو ہزار چودہ میں پی ٹی آئی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے دینے کا سوچا۔پچھلے سال سیف سٹی پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ بھی قائم ہوا، لیکن حسب معمول فنڈز کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے، جبکہ ہیڈکوارٹر کیلئے دی جانے والی اراضی بھی اب حکومت نے واپس لے لی ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں کس حد تک مخلص ہے،انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کئی بار اعلانات کئے لیکن اب فائلیں ہی گرد تلے دب گئیں،انہوں نے کہا کہ منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کی بڑی وجہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی ہے۔ صوبائی حکومت نے تمام تر توجہ بی آر ٹی منصوبے پر مرکوز کئے رکھی جو پشاور کی تباہی کی ایک الگ داستان ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی مفاد عامہ کے اس اہم ایشو پر خاموش نہیں رہے گی اور تمام فورمز پر اس کیلئے آواز اتھائے جائے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر