جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں

جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں
جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں

  



کیا جنگیں مسائل کا حل ہوتی ہیں ؟ اگر یہ سوال دنیا کے کسی بھی باشعور انسان سے کیا جائے تو اس کا جواب نہیں میں ہو گا، لیکن نجانے نریندر مودی اور انڈین میڈیا کی عقل کیوں سٹھیا گئی ہے کہ پلوامہ حملے کو جواز بنا کر جنگ،جنگ کا راگ آلاپ رہے ہیں ۔

حالانکہ انڈیا تا حال پاکستان پر اس حملہ کے الزامات ثابت نہیں کر سکا اور نہ ہی کسی قسم کے ثبوت فراہم کر سکا ہے ، بلکہ اس حملہ کے تانے بانے بھی مودی سرکار سے ملنا شروع ہو گئے ہیں اور خود بھارت کے اندر سے اپوزیشن اور دوسری جماعتوں کی طرف سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ اس حملے کی سازش میں بی جے پی اور نریندر مودی ملوث ہیں تا کہ اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر ووٹ بینک میں اضافہ کیا جائے ۔ بی جے پی کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے کہ مسلم دشمنی اور پاکستان مخالف کارڈ کھیل کر الیکشن جیتا جائے دوسرے الفاط میں اگر یہ کہا جائے کہ پلوامہ حملہ مودی کا الیکشن ڈرامہ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

خیر پلوامہ حملہ پاکستان سے منسوب کرنے کے لئے انڈیا نے عالمی فورم پر بھی بہت تگ و دو کی، لیکن شرمندگی اٹھانا پڑی کیونکہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کے شواہد موجود نہیں تھے یہاں تک کہ قوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس حملے کی مذمتی قرارداد میں پاکستان کا نام شامل کرنے سے انکار کر دیا ۔ بات صرف یہیں نہیں رکی، بلکہ چند روز قبل مودی سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا دعو یٰ بھی کر دیا اور پاکستان کو بھاری نقصان پہنچانے کا ڈرامہ بھی رچایا، لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو پوری دنیا میں انڈیا کی جگ ہنسائی ہوئی ۔ اس کے بعد جب ستائیس فروری کی صبح کو دو انڈین جنگی جہازوں نے پاکستانی سرحد میں دراندازی کی کوشش کی تو پاک فضائیہ کے طیارے فضا میں گرجے او ر دونوں بھارتی طیاروں کو پلک جھپکتے ہی زمین بوس کر دیاجبکہ ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار بھی کر لیا۔

بعد میں پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ کو بھارت کے حوالے کر دیا پاکستان کے اس اقدام،کو دنیا بھر میں سراہا گیا اور اس عمل کو سفارتی محاذ پر بہت بڑی کامیابی قرار دیا گیا، لیکن دوسری طرف جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار اور انڈین میڈیا نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ۔بہرحال انڈین طیاروں کے تباہ ہونے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حملہ نہیں کرنا چاہتا ،لیکن دفاع اس کا حق ہے،بھارت نے ایل او سی کی خلاف ورزی کی تو جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا انہوں نے یہاں تک کہا کہ جنگ میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی صرف انسانیت ہار جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جنگ میں پہل نہیں کریں گے۔

اس کے بعد پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم سے خطاب میں پوری دنیا پر واضح کیا کہ پاکستان جنگوں کا حامی نہیں اور دراندازی کا جواب دینے کا مقصد صرف یہی بتانا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ہم چاہتے تو بھارت میں جا کر کارروائی کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا کیونکہ معاملات کا حل صرف مذاکرات ہیں ۔اب ایک طرف تو پاکستان بار بار مذاکرات کی بات کرتا ہے کیونکہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں ،بلکہ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔

مودی سرکار نے شاید جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کے بارے میں سنا ضرور ہو گا ، لیکن دیکھیں نہیں۔ جنگوں کے نتیجے میں تباہی و بربادیوں کی ایسی داستانیں رقم ہوئی ہیں کہ آنے والی نسلوں کو بھی مدتوں بادل نخواستہ یاد رکھنا پڑتا ہے اورطرح طرح کے مصائب بھی جھیلنا پڑتے ہیں ۔صرف اقتدار کے حصول کے لئے سوا ارب انسانوں کو ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک کے ساتھ جنگ میں جھونک دینا کہاں کی انسانیت ہے ؟ اس موقع پر انڈین عوام ،میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہوں گے کہ انہیں کس آگ کی طرف دکھیلا جا رہا ہے ۔بھارتی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ معاملات کے حل کے لئے مذاکرات کی میز پر آئیں اور ہاں اگر مودی سرکار کو جنگ کا زیادہ ہی شوق ہے یا خدانخواستہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو یاد رکھنا کہ پاک فوج دنیا کی صف اول کی وہ فوج ہے جو انڈین فوج کو ناکوں چنے چبوا کے رکھ دے گی اور ساتھ ساتھ بائیس کروڑ عوام بھی سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہمارا تو مقصد حیات ہی یہی ہے کہ:

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

لیکن پھر بھی پاکستان امن کا پرچار چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔حالانکہ ایک طرف انڈیا تمام تر اخلاقی حدوں کو پار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان اپنے پرامن نقطہ نظر پر قائم ہے ا ور خطے میں امن کی فضا چاہتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...