وزیراعلیٰ اور پنجابی روایت

وزیراعلیٰ اور پنجابی روایت
وزیراعلیٰ اور پنجابی روایت

  



ٹیکسوں کی وصولی اور اس کے اہداف، خطے کی سلامتی کے مسائل، قانون سازی، حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات کی نوعیت۔مرکز اور صوبوں کے مابین رسم و راہ اور صوبائی خود مختاری کے معاملات، اندرونی و بیرونی مسائل اور معاملات پر حزب اقتدار اور حزب مخالف کے بیانات۔ میڈیا پر گرما گرم مباحث، ٹی وی اینکروں اور سیاستدانوں کے مابین نوک جھونک اور کبھی کبھار حالتِ جنگ۔

یہ سب باتیں عوام کے لئے دلچسپی کا باعث بھی بنتی ہیں اور ان کی زندگی پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں، لیکن جو مسئلہ ایک عام آدمی کے سامنے اس لمحے آتا ہے۔ جب وہ بازار میں خریداری کرتا ہے یا خاتون خانہ گھر کا سودا سلف خریدنے بازار جاتی ہے۔

گھر کی ترکاری، آٹا، کھانے کا تیل، نمک مرچ مصالحے تو حکومت کو اس وقت مصالحہ لگتا ہے۔ جب ایک روز خریدی ہوئی چیز دوسرے روز مہنگی ملتی ہے۔

جب بجلی اور گیس کا بل ناقابل برداشت ہو جاتا ہے تو سیاستدان بھی بیان جاری کرتے ہیں، لیکن جب آلو مٹر، ٹماٹر، گوبھی، لہسن پیاز اور دودھ مہنگا ہوتا ہے تو خاتون خانہ بھی دکاندار کے سامنے بیان جاری کرتی ہے اور وہاں اس بیان کا جواب دینے کے لئے فواد چودھری اور چوہان موجود نہیں ہوتے۔ بات سیدھی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے لئے ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے گزشتہ دنوں دیگر معاملات کے علاوہ بازاروں میں جعلی مہنگائی یا مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس اجلاس میں شہری انتظامیہ موجود تھی اور شہری انتظامیہ نے وزیراعلیٰ کو بریف بھی کیا ہو گا، لیکن وزیراعلیٰ یہ بھی جانتے ہوں گے۔

شہری انتظامیہ نوکر شاہی کے پسندیدہ ترین گروپ سے تعلق رکھتی ہے اور گزشتہ ستر برس سے اس گروپ کا کام محض بریف کرنا ہے اور اگر وزیراعلیٰ عوام کی زندگی اور بازاروں کی تجارتی سرگرمیوں کے نشیب و فراز سے واقف ہو تو اسے قائل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ ہے کام، یعنی فیلڈ میں رہ کر عوام کے مسائل کی خبر اور ان کا حل۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اب تک ثابت کیا ہے کہ وہ بے جا پروپیگنڈہ کے نہ صرف قائل نہیں ہیں، بلکہ حتی الامکان اس سے پرہیز کرتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کی اس چال پر ان پر ان لوگوں نے تنقید بھی کی جو وزیراعلیٰ کی ڈرامائی کارکردگی چاہتے ہیں، کیونکہ ہمارے ہاں ڈرامائی کارکردگی ہی پسند کی جاتی ہے۔ تعلیم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے انتہائی خوشگوار لائحہ عمل کا اعلان کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے ابتدائی تعلیم کے لئے انگریزی کی بجائے اردو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایک اخباری اشتہار کے مطابق جس پر وزیراعلیٰ کی تصویرنہیں تھی یہ اعلان کیا گیا کہ اب بنیادی تعلیم قومی زبان میں دی جائے گی۔ نجی سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اب غریب خاندانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ بچہ نجی سکول کے انگلش میڈیم میں داخل ہوگا تو کیا ہم اسے مکمل غذا فراہم کر سکیں گے۔

بجلی کا بلب جلانا ہے یا بچے کی کتابیں اور کاپیاں خریدنی ہیں۔ اس تعلیمی پروگرام میں بچے کی غذا اور اس کی صحت مندی کو بھی پیش نظررکھا گیا ہے۔ جس روز سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ملک میں مقامیت نظر آتی ہے ، لباس میں بھی، بول چال میں بھی۔ اور ایسا بھی نظر آ رہا ہے۔

شاید بعض لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ ایسا نہ ہو، لیکن اپنی زبان، ثقافت اور تاریخی ورثوں کے بغیر کوئی قوم اپنی شناخت نہیں بنا سکتی۔ وزیراعلیٰ کو پنجابی زبان کے فروغ اور پنجاب کے تاریخی ورثہ اور ثقافتی مظاہر کے متعلق بھی سوچنا ہو گا۔ عثمان بزدار کو اب پنجاب اپنی اصلی اور روایتی انداز میں پھر سے دکھانا چاہیے، جس کی کبھی دیہات میں بھی پچاس فیصد سے زائد شرح خواندگی ہوتی تھی۔

مزید : رائے /کالم


loading...