’’ جیسے گم ہوگئی شناخت مری ‘‘

’’ جیسے گم ہوگئی شناخت مری ‘‘
’’ جیسے گم ہوگئی شناخت مری ‘‘

  



وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ہا ؤ سنگ سوسائٹیز ہماری اراضی کو تباہ کررہی ہیں۔ ہماری زرعی زمین پر تعمیرات مستقبل میں فوڈ سیکیورٹی کے لئے بھی خطرہ ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم عالمی قوانین کے تحت عمارتوں کی تعمیرات سے متعلق قانون بنارہے ہیں۔

قانون کا مقصد دنیا کے بہترین شہروں سے مقابلہ کرنا ہے۔وزیراعظم کا ایک اور ٹوئٹ میں کہناتھا کہ مستقبل کے شہروں سے متعلق میرا ایک و ژن ہے، میرا وژن ہے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت ہو۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہیں ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہے، کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے گرین ایریازکیلئے زیادہ جگہ دستیاب ہو گی۔ وزیر اعظم درست سوچ رہے ہیں حالانکہ اب بہت تاخیر ہو چکی ہے۔

بلڈر اور ڈیو لپر حضرات نے ہمارے شہروں اور ان کے اطراف میں مکانات کے نام پر جس طرح کی تعمیرات کی ہیں، ان کی وجہ سے شہروں میں موجود سہولتیں متاثر ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ شہروں کا چہرہ ہی مسخ ہو گیا ہے اور شہروں کے اطراف میں قائم کی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر جس انداز میں تعمیرات کی گئی ہیں وہ موجودہ شہروں پر ہی بوجھ بن گئی ہیں۔ بلڈر اور ڈیولپر حضرات کو کچھ کہنا اس لئے بے مقصد ہے کہ وہ تو اپنا کاروبار کرنے نکلے ہیں اور پاکستان میں کاروبار کرنا سوائے پیسہ بنانے کے کچھ اور نہیں ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ حکومتیں عوام کی رہائشی سہولتوں کے لئے سرکاری زمینوں پر رہائشی اسکیمیں قائم کیا کرتی تھیں حالانکہ اس دور میں شہروں میں ترقیاتی ادارے قائم نہیں تھے ۔

جب ترقیاتی ادارے قائم ہوئے تو افسران نے سوائے من مانی کرنے ، تاکہ پیسہ بنا سکیں کچھ اور نہیں کیا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ محکمہ بلدیات کے وزراء نے بھی ملی بھگت اختیار کر لی ،تاکہ وہ بھی غیر قانونی آمدنی میں حصہ دار بن سکیں۔ اس ضمن میں اربوں روپے کمائے گئے۔

کوئی بھی بلڈر اپنی آمدنی میں سے کسی کو کچھ نہیں دیتا۔ اوپر کے تمام اخراجات کا بوجھ وہ مکانات خریدنے والوں پر ڈال دیتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ حکومت پاکستان کے تمام شہروں میں عوام کو معقول قیمتوں پر زمین فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری سے ہی دست بردار ہو گئی۔ اسلام آباد جیسے شہر میں ترقیاتی ادارہ لوگوں کو سالہاسال زمین فروخت کرنے کے باوجود بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے ۔ حیدرآباد میں ترقیاتی ادارے نے ہاؤسنگ اسکیموں کا اعلان کیا، زمین فروخت کر دی ،لیکن کسی قسم کا ترقیاتی کام نہیں کرایا گیا ۔ حالانکہ تیس اور چالیس سال گزر گئے ہیں۔

ذاتی مکانات رکھنے کے خواہش مند حضرات دفاتر کے چکر ہی لگاتے رہتے ہیں۔ ترقیاتی اداروں کی نا اہلی کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ، جسے پلاٹوں کے خریداروں کی طرف ہی منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ٹا ؤ ن پلانگ کا محکمہ بھی برائے نام ہو گیا ہے وہاں بھی ڈیولپر پیسہ دے کر جو چاہتے ہیں کرالیتے ہیں۔ شہروں کے قریب ہاؤسنگ اسکیمیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ کوئی نہیں سوچتا کہ ان کی وجہ سے شہروں پر ہی بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری پہلے سے موجود سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔

اسی مرحلہ پر بلڈر اور نام نہاد ڈیولپر حضرات میدان میں آگئے۔ شہروں میں تعمیر ہونے والی کثیرالمنازل عمارتوں میں دو، تین یا اس سے زیادہ کمروں کے فلیٹوں کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں پچاس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرنے والا شخص بھی زندگی بھر ذاتی مکان کا خواب ہی دیکھ رہا ہوگا۔ پھر تعمیر اتنی ناقص کہ عمارت پانچ اور دس سال کے اندر ہی خستہ حال ہوجاتی ہیں۔

صوبہ سندھ کے کسی بھی شہر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کثیر المنزلہ عمارتیں تو شہروں میں موجود سہولتوں پر بوجھ ہی بن گئی ہیں۔ سب سے زیادہ پینے کے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا نظام متا ثر ہوا ہے۔

دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جہاں حکومتیں شہروں کی حد مقرر کرتی ہیں جن کے اندر کسی قسم کی کثیر المنازل عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔

کراچی ادارہ ترقیات کے ایک سابق سربراہ زیڈ اے نظامی کہا کرتے تھے کہ وہ مستقبل میں ایسا وقت دیکھ رہے ہیں کہ کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے شہروں کے اندر کشتیاں چلا کریں گی۔ نکاسی آب کے بہتر نظام کی غیر موجودگی کی وجہ سے سڑکوں پر گندا پانی کھڑا رہنا تو اب معمول بن گیا ہے۔ یہ سب کچھ کسی مربوط منصوبہ بندی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہوا ہے۔

عمارتوں میں نقشوں میں تو پارکنگ کی جگہ مقرر کی جاتی ہے، لیکن بلڈروں کی اکثریت اس جگہ کو افسران کی ملی بھگت سے فروخت کر دیتی ہے۔ بلڈروں کے منافع کی کوئی حد تو حکومت کو مقرر کرنا چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بھاری بھاری قیمتوں میں شہروں میں فلیٹ خریدنے والے پریشانی کا ہی شکار رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ممکن نہیں ہے کہ موجودہ شہروں کے اندر کثیر المنازل عمارتوں کی تعمیر پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ شہروں کے اطراف میں موجود زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ کی تعمیرات پر بھی پابندی عائد ہونا چاہئے۔

ایسی صورت میں شہروں میں زندگی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ پاکستان میں غیر زرعی زمین کا رقبہ بہت بڑا ہے ۔ کیوں نہیں بلڈر اور ڈیولپر حضرات کو حکومت یہ زمینیں سستے سرکاری نرخوں پر فراہم کرے تا کہ نئے شہر بسا ئے جا سکیں اور مکانات کی تعمیر کی قیمتوں کو حکومت خود مقرر کرے۔ وفاقی حکومت کو خود کچھ کرنا چاہئے اور صوبائی حکومتوں کو بھی پابند بنانا چا ہئے کہ شہروں کے اندر کثیر المنازل عمارتوں کی تعمیر اور شہروں کے اطراف میں ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیرات پر پابندی عا ئد کریں ۔ شاعرہ محترمہ یاسمین حمید کہتی ہیں :

جیسے گم ہوگئی شناخت مری

اب مجھے کوئی دھونڈتا بھی نہیں

مزید : رائے /کالم