صد شکر کہ چیف جسٹس کی پہلی ترجیح نظام انصاف ہے

صد شکر کہ چیف جسٹس کی پہلی ترجیح نظام انصاف ہے
صد شکر کہ چیف جسٹس کی پہلی ترجیح نظام انصاف ہے

  



جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ جب سے چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں، عدلیہ کا شور کم ہے اور کام زیادہ ہے وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جوبالواسطہ طور پر ایک بڑے ریلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب یہ خبر آئی ہے کہ انہوں نے قتل کے مقدمات کی سماعت اور فوری فیصلوں کے لئے ہر ضلع میں ایک ماڈل عدالت بنانے کا حکم دیا ہے۔

یہ عدالتیں 15 مارچ تک قائم ہو جائیں گی۔ ایسی عدالتوں کو اس امر کا پابندی کیا گیا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد وہ مقدمے کا فیصلہ چار دنوں میں کریں گی۔ پولیس کو کوئی استثنا ملے گا اور نہ وکلاء کو، البتہ جو وکلاء قتل کے مقدمے میں مصروف ہوں گے اور انہی دنوں میں ان کی حاضری ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں بھی ہو گی، تو وہاں اُنہیں استثنا مل جائے گا لیکن سیشن جج کی عدالت میں انہیں پیش ہونا پڑے گا۔ یہ بہت اہم فیصلہ ہے، اگر یہ اپنی پوری روح کے ساتھ نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے ہمہ جہت اثرات مرتب ہوں گے۔

بہت عرصے سے یہ تجویز پیش کی جا رہی تھی کہ خصوصی عدالتیں بنانے کی بجائے موجودہ عدالتوں کے ذریعے ہی انصاف کی فراہمی کو تیز تر اور یقینی بنایا جائے۔ پہلے بھی اس حوالے سے ذکر ہو چکا ہے کہ مقدمات کی عدالت میں دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اب کسی مقدمے میں التوا صرف اسی صورت میں ملے گا جب وکیل یا جج کی وفات ہو جائے۔

وگرنہ سماعت ہر صورت مکمل ہو گی۔ اب وہ یہ معاملہ نچلی عدالتوں تک لے آئے ہیں اور یہ بہت بڑا قدم ہے۔ فی الوقت صرف قتل کے مقدمات پر فوکس کیا گیا ہے اور ان کی سماعت کے لئے ماڈل عدالتیں بنائی جا رہی ہیں۔امکان ہے بعد میں یہ سلسلہ دیگر مقدمات تک بھی دراز ہو جائے گا۔

قتل کے مقدمات کی فوری سماعت اور فیصلوں کا معاملہ درست ہو گیا تو اس سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری کی روک تھام میں بڑی مدد ملے گی۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ کوئی قتل کرتا ہے تو پندرہ بیس سال تک مقدمہ ہی چلتا رہتاہے پھر یا تو وہ بری ہو جاتا ہے یا پھر پھانسی چڑھتا ہے۔

اتنے طویل عرصے میں مقدمے کے مدعیوں پر جو بیتتی ہے وہ بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی، ان کا پیسہ، وقت اور سکون برباد ہو جاتا ہے قاتل کی فیملی تو ایک سزا بھگت ہی رہی ہوتی ہے مقتول کے ورثاء غم سہنے کے ساتھ ساتھ نظام کا جبر بھی برداشت کر رہے ہوتے ہیں سزاؤں میں برسوں تک کی تاخیر قانون کا خوف ختم کر دیتی ہے۔

آج آپ اخبارات دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ روزانہ ہی درجنوں افراد کو معمولی سی بات پر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پولیس کا کھیل شروع ہوتا ہے، جو دونوں طرف سے پیسے لیتی ہے شواہد ذرا سے بھی کمزور ہوں تو اس کی چاندی ہو جاتی ہے کیونکہ وہ تفتیش میں کسی کو بھی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ جتنی تاخیر سے عدالت میں چالان پیش ہوتا ہے، اتنا ہی کیس میں کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں سنا ہے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پولیس کے بارے میں اصلاحات لا رہے ہیں، خاص طور پر قتل کے مقدمات میں پولیس کی کارکردگی کو بہتر اور مبنی بر انصاف بنانے کے لئے ان کی کوششیں جاری ہیں، تاہم انہوں نے قتل کیسوں کے لئے ماڈل کورٹس بنانے کا جو حکم جاری کیا ہے، ان کی وجہ سے بھی پولیس کے کئی حربے ناکام ہو جائیں گے، کیونکہ یہ پولیس ہی ہے جو گواہوں اور دیگر شہادتوں کو پیش کرنے میں تاخیر کرتی ہے تاکہ مقدمے میں کسی فریق کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ خاص طور پر ایسے مقدمات میں گواہوں کی پیشی اور ان کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کا مرحلہ بڑا جاں لیوا ہوتا ہے کئی بار گواہ عدالت آتے ہیں مگر شہادت ریکارڈ نہیں ہوتی یا پھر پولیس یہ رٹا رٹایا بیان دے دیتی ہے کہ گواہ کسی وجہ سے دستیاب نہیں اس لئے تاریخ دے دی جائے۔

اس کا ایک منفی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ گواہ دباؤ میں آ جاتے ہیں اور بعض اوقات تو انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔

اب تمام صوبوں کے آئی جی صاحبان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے یہ ماڈل کورٹس فرد جرم عائد ہونے کے چار دن بعد فیصلے کریں گی۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ فرد جرم اس وقت عائد ہوتی ہے جب پولیس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کرتی ہے۔ اب اگر پولیس تفتیش کے نام پر مقدمے کا چالان ہی ایک سال تک پیش نہیں کرتی تو فرد جرم بھی عائد نہیں ہو سکے گی۔ اب لازماً یہ ہوگا کہ لوگ پولیس کی سطح پر چالان بھجوانے میں تاخیری حربے اختیار کریں گے پولیس کی پراسیکیوشن برانچ جس کی کارکردگی پہلے ہی اچھی نہیں اس کے بعد مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس لئے صوبوں کے آئی جی اس حوالے سے کوئی ایس او بی بنائیں۔

مقدمات کا چالان مرتب کرنے میں تاخیری حربوں کا سد باب کریں۔ اس کے لئے انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن برانچوں کے درمیان مثالی کوآرڈی نیشن کی ضرورت ہے اگر انویسٹی گیشن بروقت مکمل ہو گی تو پراسیکیوشن کا آغاز ہو گا۔ جس طرح کی ٹائم لمٹ ان کیسوں کے فیصلوں کو یقینی بنانے کے لئے نافذ کی گئی ہے، اسی طرح انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن برانچوں میں بھی چالان تیار کرنے کی کوئی حد ضرور ہونی چاہئے۔ کم از کم قتل کے کیسوں میں اسے اس کی اشد ضرورت ہے پاکستان میں قتل کرنا اب ایسے ہی ہے جیسے بچوں کا کھیل ہو۔ ایک ہی شخص دو یا تین قتل کرتا ہے اور اطمینان سے پولیس کو گرفتاری دے دیتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ آج نہیں دس سال بعد آئے گا۔

اس لئے اس مدت کے دوران کچھ بھی ہو سکتا ہے مدعی تھک ہار کے بیٹھ سکتے ہیں، گواہان مکر سکتے ہیں یا وفات پا سکتے ہیں پھر پولیس کو بھی خریدا جا سکتا ہے، گویا اتنے زیادہ راستے اس کے سامنے کھلے ہوتے ہیں کہ اسے سزا کا خوف ہی نہیں رہتا۔

یہ بے خوفی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے جب سب کو یہ پیغام جائے گا کہ قتل کے کیس کا فیصلہ صرف چار دن میں ہونا ہے اور اس کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر بھی زیادہ وقت نہیں لگنا تو کوئی بھی شخص ایک بار یہ انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے سوچے گا ضرور اور سوچ کا وقفہ مل جائے تو انسان اس انتقامی فضا سے نکل آتا ہے جو قتل جیسے انتہائی اقدام پرابھارتی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اس لئے انصاف کے ضمن میں اہم قدم اٹھا سکتے ہیں کہ ان کی سوچ ماضی کے چیف جسٹس صاحبان سے مختلف ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارے ہاں نظام انصاف کو سب سے زیادہ دھچکا اس وقت لگا جب افتخار محمد چودھری نے سیاسی مقاصد کے لئے وکلاء کو اپنا دست و بازو بنا لیا۔ ان کے دور میں عدالتوں کی جتنی تذلیل ہوئی، اس کی مثال نہیں ملتی کسی جج میں جرأت نہیں تھی کہ وہ تاریخ مانگنے پر کسی وکیل کو انکار کرے بعض وکیل اس لئے سب سے مہنگے ہو گئے کہ وہ مقدمات کو طول دینے میں شہرت رکھتے تھے۔ خاص طور پر قتل کے مقدمات میں ملزم کے ورثاء، کی پہلی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ مقدمہ طول پکڑے فیصلہ نہ ہو اس لئے وہ تگڑا وکیل کرتے ہیں جو تاریخ پر تاریخ لے تاکہ مقتول کے ورثاء مجبور ہو کر صلح کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

یہ کھیل اس دور میں بہت چلا پھر تو گویا ایک معمول بن گیا میاں ثاقب نثار بھی چونکہ عدالتی امور سے ہٹ کر دیگر معاملات کو دیکھنے لگے تھے۔ جس پر اعتراضات ہوئے تو انہیں مجبوراً وکلاء کو اپنی طاقت کہنا پڑا اس میں ان کی غلطی تھی، جس کے باعث وہ عدالتی نظام کی طرف نہیں دیکھ سکے کیونکہ وہ درست ہو ہی نہیں سکتا جب تک آپ وکلاء کو کسی قانون قاعدے کا پابند نہیں کرتے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اس معاملے میں بالکل مختلف ہیں انہیں وکلاء کی سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں نہ ہی وہ عدالتی امور کے سوا کسی اور شعبے میں مداخلت کے قائل ہیں۔ وہ شاید اس روائتی بیانیہ کے بھی قائل نہیں کہ بار اور بنچ مل کر انصاف کو یقینی بناتے ہیں کیونکہ اس بیانیئے کا ہمیشہ منفی نتیجہ نکلا ہے اور بار ہمیشہ بنچ پر غالب آتی رہی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جب مقدمات کے التواء کی بابت یہ ریمارکس دیئے کہ وہ صرف وکیل یا جج کی وفات پر ہی دیا جا سکتا ہے، اس پر وکلاء کی تنظیموں نے خاصے ردعمل کا اظہار کیا۔

مگر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا جو کہہ دیا ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔

امید کی جانی چاہئے کہ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں ظاہری و کاغذی تبدیلیاں نہیں آئیں گی بلکہ حقیقی معنوں میں ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا جو انصاف کی راہ میں حائل ہیں، اور جنہوں نے معاشرے کو نہ صرف انصاف سے محروم کر رکھا ہے بلکہ اسے جنگل بنانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

مزید : رائے /کالم


loading...