خانیوال ’’زہریلا دودھ ‘‘گلی محلوں میں سپلائی کرنیکا انکشاف فوڈ اتھارٹی ٹیمیں غائب

خانیوال ’’زہریلا دودھ ‘‘گلی محلوں میں سپلائی کرنیکا انکشاف فوڈ اتھارٹی ...

  



خانیوال (نمائندہ پاکستان )منافع خوری کے لالچ میں مبتلا ہوس پرستوں نے خانیوال شہر کیمیکل زدہ زہریلا اور مضرصحت پاؤڈر سے (بقیہ نمبر40صفحہ7پر )

تیار ہونے والا دودھ پینے پر مجبور ۔تفصیلات کے مطابق کیمیکل سے تیار ہونے والا ایسنس کو مختلف مراحل سے گزار کر ’’خالص دودھ‘‘ کا نام دے کر شہر بھر میں فروخت کیا جارہا ہے،مختلف اداروں کی ملی بھگت سے انتہائی مضر صحت اور ناقص دودھ کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھائی جارہی ہیں بھانوں اور ڈیری مصنوعات کی دکانوں میں بڑی بڑی مدھانیوں اور موٹروں کو ڈرموں میں چلا کر ’’فل کریم ملک‘‘اور ہاف کریم ملک کے نام کے پاؤڈر میں پانی ڈال کر اسے ’’خالص دودھ‘‘ کی شکل دی جاتی ہے،اسے مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے،خانیوال سمتی ودیگر علاقوں میں دہی،رس ملائی اور پیڑے سمیت کئی مصنوعات بھی اسی ایسنس سے تیار ہونے والے دودھ سے تیار کی جارہی ہیں،پاؤڈر سے تیار ہونے والا دودھ دکاندار کو 26 سے 31روپے فی کلو پڑتا ہے،اور اسے مارکیٹ میں70روپے سے85روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے،خانیوال میں درجنوں مقامات جسونت نگر چوک ، گونگے بہرے سکول ، کھوکھر آباد چوک ، نظام آباد ، عارصی چوک ، ایوب چوک ، پرانی سبزی منڈی ، کامران کالونی سمیت مختلف علاقوں میں ایسنس اور کیمیکل دودھ تیار کرنے کی ڈیری مراکز جیسے بڑے شہروں میں سپلائی کیا جاتاہے،سفید پاؤڈر بوریوں میں بند کر کے مختلف ڈیری فارموں اور بھانہ مالکان کو ترسیل کیا جارہا ہے، دودھ تیار کرنے والے پاؤڈر ہڈی چور (ہڈیوں کا بورایا برادہ) کیمیکل پاؤڈر شامل کیا جارہا ہے،یوریا کھاد،سفید رنگ اور سنگاڑے کا پاؤڈر کیمیکلز میں مکس کر نے سے دودھ تیار کے بعد قدرے ٹھنڈا رہتا ہے،اور دودھ میں کلر سکیم کو برقرار رکھتا ہے،شہر کے تمام گنجان آباد علاقوں کی مٹھائیوں کی دکانوں پر کھویا،برفی،فالودہ،رابڑی دودھ،آئس کریم،دود ھ سوڈا کی بوتلیں،مخصوص برانڈ کے پیڑے اور دہی تیار کر کے مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے،شہر سمیت بیشتر علاقوں میں چائے کے ہوٹلوں پر بھی مضر صحت جعلی دودھ استعمال کیا جارہا ہے،ذرائع کے مطابق فل کریم ملک پاؤڈر اور چائنہ پاؤڈر سے تیار ہونے والے دودھ میں وقتی طور پر چیکنگ کے دوران فیٹس بھی ظاہر ہوجاتے ہیں،جو خالص دودھ ہونے کا تاثر دیتے ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں سے45فیصد سے زائد دودھ ملٹی نیشنل کمپنیاں اٹھا رہی ہیں جو اس دودھ میں کیمیکلائزیشن کر کے اس کو پیک کرنے کے بعد مارکیٹ میں 4گنا زائد قیمت میں فروخت کر رہی ہیں۔شہریوں کی بڑی تعداد ناصر ، قیصر ، محمد اختر ، خضر حیات ، نصیر ، منیر ، اختر عباس ، محمد افضل ، محمد بشیر ، نے ڈپٹی کمشنر خانیوال سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...