سٹوڈنٹس کی صلاحتیں نکھارنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر سوچنا ہوگا ‘ ڈاکٹر طارق محمود انصاری

سٹوڈنٹس کی صلاحتیں نکھارنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر سوچنا ہوگا ‘ ڈاکٹر ...

  



ملتان ( سٹاف رپورٹر)جامعہ زکریا میں کانفرنس کے اختتام پر ماہرین اپنی سفارشات کا جو خلاصہ پیش کرتے ہیں وہ جامعات کے لئے فکری غذا ہوتی ہے اور اس پر مختلف شعبے تحقیق اور غور و فکر کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ۔ کانفرنس کی سفارشات اس خطے میں اہم کردار ادا کریں گی ۔ اس کانفرنس میں(بقیہ نمبر47صفحہ7پر )

طلباء کو مکمل ریسرچ کی گائیڈ لائن فراہم کی گئی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیر اہتمام 2 روزہ چوتھی انٹرنیشنل کانفرنس بعنوان"ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر خوراک اور غذا کا تحفظ" کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے کیا۔ طلباء کی تعلیمی استعداد اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے تمام وسائل برؤئے کار لائے جائیں ۔ وائس چانسلر نے کہا ہمیں بین الاقوامی سطح پر سوچنا ہوگا اور اپنے مقامی حالات کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔ اس موقع پر نامور صنعت کار شیخ احسن رشید، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب، ڈاکٹر جاوید احمد، ڈاکٹر محمد ریاض، ڈاکٹر مقرب اکبر، خزانہ دار ڈاکٹر عمر فاروق بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن ڈاکٹر سعید اختر نے کانفرنس کی سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ غذا اور خوراک کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ وفاقی، سوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو اس اہم کام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ آئندہ پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور حکومت وقت کو دیہاتی اور شہری آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز کااجرا کرنا چاہئے۔ ماحولایات تبدیالیاں خوراک کی فراہم کو بھی اثر انداز کرتی ہیں لہذا یہ محققین، سٹیک ہولڈر پر منحصر ہے کہ وہ اس طرح کے قوانین بنائیں جس میں فوڈ انڈسٹریز جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنائیں۔ پیداوار سے استعمال تک تقریباً 40فیصد خوراک ضائع جاتی ہے جس کو محفوظ کرلیا جائے تو لاکھوں سے کروڑوں افراد کو مستقل پیمانے پر خوراک فراہم کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت فوڈ ٹیکنالوجسٹ کو قرضے دے کر چھوٹی فیکٹریاں تعمیر کرواسکتی ہیں جس سے خوراک کے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں ۔ پاکستان پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس میں نئے ڈیمز کی تعمیر ، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا اور آبپاشی کے جدید طریقوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال ضروری ہے ۔ زراعت کے شعبہ میں جدت کی ضرورت ہے اور کسانوں کو بروقت ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگاہی فصلوں کے نقصان کو کم کرسکتی ہے ۔ لائیو سٹاک کا شعبہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس شعبے کو حکومت پاکستان کی خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ اس شعبہ کی ترقی پاکستان کے عوام کو دودھ اور گوشت کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔ لائیو سٹاک کا شعبہ کچھ نئی سمتوں میں بھی ترقی کرسکتا ہے جس میں شطر مرغ، بٹیر اور دیسی مرغیوں کی افزئش نسل او رفراہمی شامل ہے ۔ غذائی تعلیم کا شعور، تعلیمی نصاب کا مستقل ہونا چاہیے۔ تمام تعلیمی ادارے یونیورسٹیز تک اپنے لوگوں کی تربیت کا اہتمام کریں۔ تربیت کا عمل مستقل بنیادوں پر جاری رہنا چاہئے تاکہ لوگ اپنے گھروں میں خوراک کو محفوظ کرنے کے جدید طریقے اپنا سکیں۔پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو اپنے دائرے اختیار میں رہتے ہوئے پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے چاہیں۔ یہ ادارے اساتذہ اور طالبعلموں کوپالیسی بنانے کے عمل سے روشناس کروائیں۔ کانفرنس میں ڈاکٹر محمد عظیم خان پلاننگ کمیشن، پروفیسر ڈاکٹر ظہور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، ڈاکٹر اعجاز احمد پی سی ایس آر لاہور، جسٹس شاہزیب سعید انوائرمینٹل ٹربیونل، پروفیسرڈاکٹر جاوید عزیز اعوان، ڈاکٹر عاصم فاروق، عائشہ ملک ، ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹرقسور علی، ڈاکٹر صبغہ نورین نے "ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نٖظر خوراک اور غذا کا تحفظ "کے حوالے سے ریسرچ پیپرز پیش کئے۔ کانفرنس میں انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ نیوٹریشن کے اساتذہ اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر