ورلڈ کپ،18سے 20کھلاڑیوں کے پول پر کام جاری ہے: انضمام الحق

ورلڈ کپ،18سے 20کھلاڑیوں کے پول پر کام جاری ہے: انضمام الحق

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین انضمام الحق نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کی ٹیم ذہن میں ہے لیکن اس بات کا ڈر ہے کہ کھلاڑی بہت زیادہ کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے کہیں ان فٹ نہ ہو جائیں،میں چاہتاہوں کہ پاکستانی کرکٹرز جسمانی اور ذہنی طور پر تازہ دم ہوکر عالمی کپ میں جائیں۔بی بی سی کو انٹر ویو میں انضمام الحق نے کہا کہ ورلڈ کپ میں کون سے کھلاڑی کھیلیں گے یہ کافی عرصے سے ان کے ذہن میں ہے کیونکہ وہ تمام کھلاڑیوں کو کافی عرصے سے کھیلتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور انہیں مواقع دے رہے ہیں۔18 سے 20 کھلاڑیوں کا پول ہے جس پر کام ہورہا ہے۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز اتنی زیادہ کرکٹ کھیل رہے ہیں کہ انہیں فکر ہے کہ عین موقع پر وہ ان فٹ نہ ہوجائیں۔وہ اپنے کرکٹرز کو ان فٹ نہیں دیکھنا چاہتے اور خواہش ہے کہ پاکستانی کرکٹرز جسمانی اور ذہنی طور پر تازہ دم ہوکر عالمی کپ میں جائیں۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ ابھی تک صرف ایک بڑی انجری محمد حفیظ کی سامنے آئی ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو فٹنس کے کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی کھلاڑی کی فارم اچھی نہیں ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسے مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے آرام نہیں مل رہا ۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے میں پاکستانی ٹیم سیریز نہیں جیت سکی۔ ٹیم کو جیتنے کے مواقع ملے لیکن ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا تاہم اس دورے میں کچھ پہلو مثبت بھی رہے۔اس سیریز میں نئے کھلاڑیوں کو کافی تجربہ ملا اور جوں جوں وہ دورہ گزرتا گیا ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آتی گئی۔انضمام الحق کے خیال میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں روٹیشن کی پالیسی کے تحت کچھ کھلاڑیوں کو آرام دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ون ڈے اور ٹی ٹونٹیسیریز میں روٹیشن کی پالیسی نہ اپنانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو وہاں کی سخت کنڈیشنز میں ایک سخت ٹیم کے سامنے کھلاکر انہیں تجربہ فراہم کرنا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ایشیا کپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں سیریز کھیلنے کے بعد جنوبی افریقہ کے دورے پر گئی اور اب کھلاڑی پی ایس ایل میں مصروف ہیں جس کے بعد مزید دو بڑی سیریز ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...