پاکستان فرنیچر کونسل کو سارک چیمبر کے زیر اہتمام اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی دعوت

پاکستان فرنیچر کونسل کو سارک چیمبر کے زیر اہتمام اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی ...

  



لاہور ( این این آئی)سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان فرنیچر کونسل کو نیپال میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ سارک چیمبر کے زیر اہتمام ’’علاقائی اقتصادی انضمام کو مضبوط بنانے میں چیمبرز آف کردار‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرس نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں 16 مارچ کو منعقد ہوگی۔ یہ بات پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے پیر کو یہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ فرنیچر سیکٹر کے تمام سٹیک ہولڈرز رکن ممالک کے مابین فرنیچر کی تجارت کو فروغ دینے اور پاکستان کے فرنیچر سیکٹر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کانفرنس میں شریک اپنے ہم منصبوں کو دعوت دینے کے لئے جامع منصوبہ تیار کریں۔ خطے کے اقتصادی انضمام کے لئے حکومت اور نجی شعبے کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا اور اگر ضروری اقدامات کیے جائیں تو صرف فرنیچر مارکیٹ کا حجم 2020 تک 5.4 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جبکہ علاقائی تجارت کا مجموعی حجم دو سال کے اندر اندر 170 بلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فی کس آمدنی، صارفین کے طرز زندگی میں بہتری اور جی ڈی پی میں نمایاں اضافے سے جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر مارکیٹ گروتھ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ترقی کی وجہ سے بھی گھریلو اور کمرشل فرنیچر کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان اس شعبہ میں اپنے ہمسایہ ممالک بھارت اور چین کی نسبت بھی کافی پیچھے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے میں کاریگری، مہارت اور جدت کے شاندا ریکارڈ کے باوجود فرنیچر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کی سماجی، اقتصادی اور معاشی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیلئے سارک رکن ممالک کے درمیان سماجی و سیاسی مباحثہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے اندر اقتصادی روابط اور خطہ کو ایشیا کے دیگر حصوں کے ساتھ منسلک کرکے اقتصادی ترقی، غربت میں کمی، علاقائی استحکام اور سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی قیادت مل بیٹھ کر امن کی بحالی کا قابل عمل فارمولہ بنانا چاہئے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے قیام اور بزنس فرینڈلی ماحول پیدا کرنے کے لئے جنوبی ایشیا کو ماضی کی تلخیوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے، جب تک امن مذاکرات کے ذریعے دو طرفہ تنازعات حل نہیں ہونگے خطے میں پائیدار امن کا قیام اور سلامتی کی صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔

مزید : کامرس


loading...