دہشتگرد تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات پر عملدر آمد شروع

دہشتگرد تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات پر عملدر آمد شروع

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل دہشتگرد تنظیموں کے اثاثہ جات منجمند کرنے کے حکم پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیئے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں سلامتی کونسل کے احکاما ت پر عملدرآمد سلامتی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت کیا گیا ہے جس کے تحت دہشتگرد تنظیموں کے اثاثہ جات منجمند کرنے کے 2019 کے احکامات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیہ جاری کرنے کا مقصد سلامتی کونسل کی پابندیوں پرعملدرآمد کا طریقہ کار طے کرنا ہے، یہ آرڈر افراد یا اداروں پر سلامتی کونسل کی پابندیوں پر عملدرآمد کیلئے جاری کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق پابندیوں کے تحت حکومتوں کو افراد یا اداروں کے اثاثے منجمد کرنا ہوتے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق آرڈر 2019 کو سلامتی کونسل اور ایف اے ٹی ایف کے معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ادھر دہشت گردوں اور تنظیموں کے حوالہ سے وزارت خارجہ میں سینٹرل اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ سینٹرل اتھارٹی دہشت گرد افراد اور تنظیموں کے اکاؤنٹس سے متعلق کارروائی کی سفارش کرے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق یہ فیصلہ 28فروری کو دفتر خارجہ میں ہونیوالے اجلاس میں کیا گیا تھا ۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پہلے ہی مطالبات کی ایک فہرست آئی ہوئی ہے تاہم ان پر عملدرآمد کیلئے پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو بین الاقوامی فورمز اور پاکستان کے ایسے اداروں کیسا تھ رابطہ کاری کا کام کرسکے جو دہشت گردی سے متعلق معاملات کوہینڈل کرتے ہیں ۔سینٹرل اتھارٹی قائم کرنے کے حوالہ سے رہنما اصول گزشتہ اجلاس میں مرتب کرلئے گئے تھے ۔ بین الاقوامی اداروں اور فورمز کی جانب سے اثاثوں کی ضبطی اور اکاؤنٹس فریز کرنے کے حوالہ سے جو ہدایات آئیں گی ان پر عملدرآمد کا کام متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے کیا جائے گا اور متعلقہ بین الاقوامی فورمز کو عملدرآمد رپورٹ بھی بھجوائی جائے گی۔

اکاؤنٹس منجمند

مزید : صفحہ اول


loading...