شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست پر حکومت اور نیب کو نوٹس

شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست پر حکومت اور نیب کو نوٹس

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور مسٹر جسٹس وقاص رؤف پر مشتمل دورکنی بنچ نے قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف میاں شہبازشریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل )سے نکالنے کے لئے دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12مارچ تک جواب طلب کر لیا ہے،دوران سماعت سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ درخواست میں وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیاہے ،اس لئے درخواست گزار کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے ،جس پر فاضل بنچ نے قراردیا کہ وفاق کے حوالے سے کیس میں کسی بھی ہائی کورٹ کو سماعت کا اختیار حاصل ہے ۔سرکاری وکیل نے یہ اعتراض بھی کیا کہ میاں شہباز شریف کے پاس مجاز فورم پر اپیل کا حق ہے ،اس لئے درخواست قابل پیش رفت نہیں ہے ۔عدالت نے یہ اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔فاضل بنچ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے خلاف درخواست کی سماعت سنگل بنچ بھی کرسکتاہے۔نیب کے وکیل فیصل بخاری نے کہا کہ ایسے کیسوں کی سماعت کا اختیارصرف سنگل بنچ کوحاصل ہے ۔میاں شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب کے مقدمات میں ڈویژن بنچ ہی مقدمات کی سماعت کرتاہے ،میاں شہبا زشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا موقف ہے کہ درخواست گزار کو شنوائی کا موقع دیئے بغیر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیا،محض خدشات پر کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا، نیب نے رمضان شوگر ملز اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم کا کیس بنایا،درخواست گزار نے گرفتاری کے دوران اپنی بے گناہی کے ثبوت دئیے، نیب اپنا کیس ثابت نہیں کرسکاجس پر عدالت عالیہ نے ان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔وکیل نے مزید کہا کہ میاں شہباز شریف اپنی پوتی کی تیمار داری اور دیگر امور کی انجام دہی کے لئے برطانیہ جاناچاہتے ہیں،نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے نام ای سی ایل میں شامل کردیاہے،عدالت ان کا نام ای سی ایل سے نام نکالنے کا حکم دے،عدالت نے اس کیس میں نوٹس جاری کرتے ہوئے مزیدسماعت 12مارچ پر ملتوی کردی ہے ۔

شہباز، ای سی ایل کیس

مزید : صفحہ آخر


loading...