پاکستان کا موقف واضح بھارت کبھی او آئی سی کا ممبر نہیں بن سکتا ،حکومت

پاکستان کا موقف واضح بھارت کبھی او آئی سی کا ممبر نہیں بن سکتا ،حکومت

  



اسلام آ با د (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی نے الیکشنز(ترمیمی)بل 2018کثرت رائے سے منظور کر لیا،بل کے تحت الیکشن کمیشن کے دو ارکان پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جا سکے گا۔ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے ایم ایم اے کی جانب سے نجی ٹی وی پر توہین آمیز کلمات کی شکایت پر وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل وواڈا کو پر وضاحت کیلئے آج بروز منگل طلب کرلیا جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان کا پا ر لیمان عاشقان رسول ؐ کی محفل ، ہمیں غلامی رسولؐ پر فخر ہے، کسی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا درست نہیں، فیصل ووڈکو وضاحت کا موقع ملنا چاہیے، پاکستان نے او آئی سی اجلاس میں نہ جا کر بھی وہ حاصل کر لیا جو بھارت جا کر حاصل نہ کر سکا، پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے الیکشنز(ترمیمی)بل 2018 پیش کیااور کہا الیکشن کمیشن کے پانچ ممبرز ہوتے ہیں جبکہ ان کا ایک بینچ بنتا ہے ،اس ترمیم کے بعد 2ممبرز پر مشتمل بینچ بھی بنایا جاسکتا ہے ،اب دو بینچ بھی بن سکتے ہیں ،اس موقع پر ارکان اسمبلی نے بل کی کاپی فراہم نہ کرنے کا شکوہ کیا ،مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا بل پہلے پیش کرتے ہیں اور بعد میں تقسیم کرتے ہیں ،یہ طریقہ کار غلط ہے، ہماری قومی زبان اردو ہے ،بل بھی اردو میں ہونا چاہیے تھا ،اردو کو فوقیت دینی چاہئے ،اس موقع ڈپٹی سپیکر نے بل پر رائے شماری کرائی ،جس کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں نکتہ ہائے اعتراض پر متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالشکور نے کہا ایوان کے معزز رکن اور وزیر نے 3 مارچ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں توہین آمیز کلمات کہے جو ا نتہا ئی متنازعہ اورخلاف آئین ہے،متعلقہ وزیر کیخلاف کارروائی کی جائے ، مولانا عصمت اللہ نے کہا اگر مذکورہ وزیر نے دانستہ طور پر یہ کہا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں، اگر نادانستہ طور پر کہا ہے کہ وہ معافی مانگ کر اپنے ایمان کی تجدید کریں۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا دو لت کے نشے میں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئیں، مذکورہ وزیر کو اقتدار اللہ نے دیا، ہماری جان، مال و آبرو نبی کریم ؐ اور انبیاء پر قربا ن ہے، مذکورہ وزیر کا بیان نا قابل قبول ، مذکورہ وزیر کو معافی مانگنی چاہیے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا پورے ایوان نے او آئی سی کے اجلاس سے متعلق تحفظات ظاہر کئے جس کے تناظر میں ہماری وہاں پوزیشن مستحکم ہوئی، او آئی سی کے اجلاس میں منظور کی گئی قراردادیں بھارت کیخلا ف ہمارے موقف کی تائید ہیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کسی بھی مذہب کیلئے اس طرح کے کلمات ادا نہیں کرنے چاہئیں، کوئی بھی مذہب، قانون، آئین اور معاشرہ لوگوں کی دل آزاری والے کلمات کی اجازت نہیں دیتا، وزیر کے بیان سے ہر مسلمان کی دل آزاری ہوئی، یہ سیاست کی بات اور نہ ہی اسکو سیاست میں الجھانا چاہیے، وزیر موصوف نے غیر ذمہ دارانہ الفاظ استعمال کئے ہیں، پارلیمان عاشقان رسول ؐ کا ہے، وزیر کو یہاں آ کر اللہ، عوام، پارلیمان اور پورے عالم اسلام سے معافی مانگنا چاہیے۔ وفاقی وزیر فیصل ووڈا کے بیان سے متعلق نکتہ ہائے اعتراض پر جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا فیصل واوڈا کو وضاحت کا موقع ملنا چاہیے۔ جس پر ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزیر آبی وسائل کو اپنے بیان پر وضا حت کیلئے آج منگل کو طلب کرلیا ۔بعدازاں پالیسی بیان میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا پاکستان نے او آئی سی اجلاس میں نہ جا کر بھی وہ حاصل کر لیا جو بھارت جا کر بھی حاصل نہ کر سکا،پاکستان کا موقف واضح ہے،بھارت کبھی او آئی سی کا ممبر نہیں بن سکتا،اگر مسلم آبادی کی بنا پر بھارت کو ممبر شپ ملی تو پھر اسرائیل بھی او آئی سی کی ممبر شپ کا امیدوار ہوجائیگا، پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کے نتیجہ میں اسلامی تعاون تنظیم نے پاکستان کے حق اور بھارت کیخلاف قراردادیں پاس کی ہیں، او آئی سی کی ان قراردادوں میں ایوان کے پورے موقف کی وضاحت موجود ہے۔ طویل عرصے سے کوشش ہو رہی ہے ہندوستان مسلمانوں کے نام پر او آئی سی کا ممبر یا مبصر بن جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا، کیا اسرائیل اور میانمر میں مسلمان نہیں ہیں؟، اگر یہ ملک او آئی سی کے ممبر نہیں بن سکتے تو بھارت بھی کسی صورت او آئی سی کا ممبر نہیں بن سکتا، یہ ایوان کا متفقہ فیصلہ تھا۔ ہندوستان کو او آئی سی کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم بے نقاب کرنے پر تکلیف ہوتی ہے، او آئی سی کی حالیہ قراردادوں سے بھارتی مظالم بے نقاب ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے پوچھا جا رہا ہے اگر او آئی سی کے اجلاس میں یہی قراردادیں منظور ہونا تھیں تو وہ ابوظہبی کیا لینے گئی تھیں۔بعد ازاں آج تک کیلئے اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر


loading...