توازن بہتری کی خاطر

توازن بہتری کی خاطر

  



خواتین کا عالمی دن 2019ء

ناصرہ عتیق

8 مارچ خواتین کا عالمی دن ہے۔ اس سال اس کا موضوع ہے Balance for better مطلب یہ کہ توازن بہتری کی خاطر اور Better the balance, better the world یعنی توازن جس قدر بہتر ہوگا، دنیا اسی قدر بہتر ہو گی۔ اس بار عالمی دن کی علامت املتاس کا درخت قرر پایا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین میں اس دن کی اہمیت کی جوت جگانے کے لئے کاروباری اداروں نے ہمیشہ کی طرح معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی ہے۔ تاہم اس بار کارپوریٹ بزنس نے اپنے عمل دخل کو معمول سے بڑھ کر مہمیز لگائی ہے۔ انہیں خدشہ ہے شاید کہ اس بادگاری دن کی گہما گہمی کے حوالے سے خواتین کی توجہ بتدریج کم ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ خواتین کے حقوق کی اہمیت اور پاسداری کے لئے امریکہ کی اشتراکی جماعت نے 26 فروری 1909ء کو نیویارک میں ایک اجتماع منعقد کیا تھا جس کی روشنی میں 1910ء میں تجویز دی گئی کہ خواتین کا عالمی دن ہر سال منایا جائے۔ چنانچہ 8 مارچ 1911ء کو یہ دن باقاعدہ طور پر منایا گیا۔ 64 برس بعد، 1975ء میں اقوام متحدہ نے خواتین کے عالمی دن کو تسلیم کرتے ہوئے اس دن کو اپنا لیا۔ تب سے لے کر اب تک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا میں اس دن کی افادیت کے پیش نظر خواتین کا عالمی دن زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں حکومتی، جماعتی اور انفرادی سطح پر منعقد ہونے والی تقریبات میں خواتین کے حقوق بارے اور ان کو درپیش مسائل سے متعلق بات چیت ہوتی ہے اور خواتین کی بہتری کے لئے تجاویز پر غور کیا جاتا ہے۔ اس برس جرمنی کے شہر برلن میں 8 مارچ کو تعطیل کا اعلان ہو چکا ہے۔ دیکھا جائے تو اس دن کی غرض و غایت قابل قدر اور مفید اصولوں پر استوار ہے لیکن کارپوریٹ بزنس کے دَر آنے سے جو حال دیگر یادگاری ایام کا ہوا ہے، ویسی ہی صورتحال سے خواتین کا عالمی دن بھی دو چار ہو رہا ہے۔ اس عالمی دن سے مستفید ہونے والے کاروباری طبقے نے اصل مقصد پر کم اور بے مقصد موضوعات اور بے جا اخراجات پر زیادہ زور دے رکھا ہے۔

بہتری کے لئے توازن کا نعرہ اس امر کا اظہار ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں دنیا کو توازن کی ضرورت ہے۔ یقیناً توازن ہی میں بہتری ہے۔ توازن بال برابر بھی بگڑ جائے تو تباہی اور بربادی کا وقوع پذیر ہونا لازمی قرار پاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ خواتین ہی کی وجہ سے تصویر کائنات میں رنگ ہے۔ بنیادی سطح سے لے کر وسیع تر دنیاوی سرگرمیوں میں خواتین اپنا حصہ بٹا رہی ہیں اور تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اس دنیا میں توازن کو قائم رکھنے کے لئے جتنی ذمہ داری مردوں پر عائد ہوتی ہے اسی قدر ذمہ داری عورتوں کے کندھوں پر بھی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے اس برس کا نعرہ معنی خیز اور دُور رس دکھائی دیتا ہے۔

وطن عزیز میں دیکھا جائے تو خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے عموماً انہی خطوط پر توجہ دی جاتی ہے جو مغرب کے دانشور اور رائے سنوارنے والے ترقی پذیر ممالک کے لئے وضع کرتے ہیں جبکہ ہمارے مسائل ناخواندگی، جہالت، صحت عامہ سے نا آگاہی، غربت، بھوک اور بنیادی حقوق کی عدم دستیابی سے متعلق ہیں۔ ہمارے لئے یہ عالمی دن جب ہی سود مند قرار دیا جا سکتا ہے اگر ہم تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی حقوق کی فراہمی پر نہ صرف توجہ دیں بلکہ ان کے حصول کے لئے تگ و دو اور سعی کریں۔ اس روز ہم عہد کریں کہ ہم خواتین اپنے ملک کی بہتری اور سلامتی اور فوزو فلاح کے لئے تن دہی سے اپنے فرائض ادا کریں گی اور زندگی کے کسی بھی شعبے میں کسی بھی صورت توازن کو بگڑنے نہیں دیں گی۔

اس بار 8 مارچ کو ہم کشمیر اور فلسطین کی ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ یک جہتی کا بھرپور اظہار کریں جن کے شوہر، بھائی اور بیٹے آزادی کی خاطر اپنے لہو کی قربانی دے رہے ہیں۔ اپنے افعال سے ثابت کریں کہ ہم Balance for better کا نعرہ کشمیر اور فلسطین کے لئے بھی چاہتی ہیں۔

کاروباری یلغار سے قطع نظر دیکھا جائے تو یادگاری ایام اپنے اچھے پہلو عیاں ضرور کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں ان باتوں اور کاموں کے بارے میں جو ہماری بے دھیانی اور کوتاہی کے باعث ہماری سوچ سے عارضی طور پر محو ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی سوچ میں یکسوئی پیدا کریں، دنیا بھر کی خواتین کی اس جدوجہد کو سامنے رکھیں جو دنیا کی بہتری اور بھلائی کے ضمن میں کی جا رہی ہے اور ایک ایسی اجتماعی فکر کو جلا دیں جو نیکی اور اچھائی کے کاموں میں ہمارے لئے مشعل راہ ہو۔

8 مارچ 2019ء کے روز پڑھی لکھی خواتین پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواتین کے عالمی دن کے مفہوم اور اس کی افادیت سے ان عورتوں کو آگاہ کریں جو پریشانیوں اور مسائل کے انبوہِ کثیر میں اپنی شناخت تک بھول چکی ہیں اور جو حالات کی چکی کے پاٹوں کے بیچ بس پسی چلی جا رہی ہیں۔ انہیں بتائیں کہ نا انصافی اور زیادتی کے خلاف بلا خوف و خطر اپنی آواز بلند کریں اور اپنے حقوق کے حصول اور تحفظ کی خاطر بے خوفی سے ڈٹ جائیں۔ وطن عزیز کو اس وقت نڈر اور جری لوگوں کی ضرورت ہے جو ملکی استحکام کے لئے آگے بڑھیں اور ترازوں کے پلڑوں میں خم نہ آنے دیں۔

ہماری عورتیں اگرچہ ایک ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھتی ہیں تاہم ان کی کارکردگی ترقی یافتہ ممالک کی خواتین سے کسی طور کم نہیں ہے۔ہماری خواتین نے علم و ادب، تحقیق، طبق، انجینئرنگ، سائنس، مہم جوئی اور عسکری میدان میں خوب نام پیدا کیا ہے۔ہماری قابل اور ہنر مند خواتین ملکی عزت و وقار کا جھنڈا اس طرح لہراتی ہیں کہ پوری دُنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔

بلاشبہ یہ بات صحیح اور سچی ہے۔ صحافت کے میدان میں مجھے29برس ہو رہے ہیں۔ میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ ہماری خواتین میں زبردست ذہنی، علمی اور عملی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ آج پاکستانی خاتون پر اعتماد ہے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار بہ احسن و خوبی سرانجام دے رہی ہے۔ فوج، فضائیہ اور بحریہ کی22 خواتین نے پیرا ٹروپنگ میں جس ہمت و جرأت کا مظاہرہ کیا ہے وہ میری رائے کی تصدیق کرتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...