تمباکو پیداکرنیوالے اضلاع کیلئے ٹوبیکوڈیویلپمنٹ سس فنڈز کی اصولی منظوری دیدی ، محمود خان

تمباکو پیداکرنیوالے اضلاع کیلئے ٹوبیکوڈیویلپمنٹ سس فنڈز کی اصولی منظوری ...

  



پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع کیلئے ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سس فنڈز کی یوٹیلائیزیشن کی اصولی منظوری دی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ اضلاع کیلئے حقیقت پسندانہ ایلوکیشن یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے اعداد و شمار پر نظر ثانی کے بعد فنڈز جاری کئے جائیں گے۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیربلدیات شہرام خان ترکئی، وزیرقانون سلطان محمد خان، معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم، متعلقہ اضلاع کے اراکین صوبائی اسمبلی، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ کو ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سس محاصل برائے مالی سال 2016-17 اور 2017-18 کی یوٹیلائزیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ، اجلاس میں ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سس جمع کرنے کے طریق کار ، اس کی یوٹیلائزیشن، کمیٹی کے قیام ، ٹی ڈی سی محاصل کی بنیاد پر سکیموں کی منظوری کے علاوہ مالی سال برائے 2016-17 اور 2017-18 کیلئے حقیقی مالی محاصل پر بھی بریفنگ دی گئی جو بالترتیب263.415 ملین روپے اور 397.66 ملین روپے بنتے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2017-18 کیلئے مجموعی اے ڈی پی ایلوکیشن 100 ملین روپے جبکہ 2018-19 کیلئے کل اے ڈی پی ایلوکیشن 261.928 ملین روپے ہے تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع کیلئے ٹی ڈی سی فنڈز تمباکو کی پیداوار کی بنیاد پر مختص کئے جاتے ہیں جس کیلئے پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی طرف سے ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ضلع کے اندر فنڈز کی تقسیم تمباکو کے زیر کاشت زمین کی بنیاد پر کی جاتی ہے جس کا ڈیٹا متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر فراہم کرتا ہے۔ اجلاس کو تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع صوابی ، مردان، چارسدہ ، بونیر، نوشہرہ، ملاکنڈ اور مانسہرہ کیلئے ٹوبیکو ڈویلپمنٹ سس فنڈز میں مالی سال 2016-17 اور 2017-18 کیلئے مجوزہ شیئرسے بھی آگاہ کیا گیااورمنظوری کی درخواست کی گئی، وزیراعلیٰ نے مختلف حلقوں کیلئے ڈویلپمنٹ سس فنڈز کی مجوزہ ایلوکیشن کی اصولی منظوری دی تاہم انہوں نے اراکین صوبائی اسمبلی کی تجویز پر اعداد وشمار پر نظر ثانی کے بعد فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے نئی حلقہ بندیوں کے تناظر میں مالی سال 2018-19 کیلئے ڈیٹا پر بھی نظر ثانی کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام شعبوں کو سٹریم لائن کر رہی ہے تاکہ مختلف امور اور چیزوں کو خلط ملط ہونے سے بچایا جائے اور ادارے صحیح سمت میں اپنے دائرہ اختیار کے اندر بہتر خدمات انجام دے سکیں۔ اس مجموعی کاوش سے عوام کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا اور وسائل کا منصفانہ اور شفاف استعمال یقینی ہوگا انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ بجٹ میں اس سلسلے میں مثبت پیش رفت اور تبدیلی نظر آئیگی۔اجلاس کو تجویز دی گئی کہ متعلقہ اضلاع کا شیئر تمباکو کی پیداوار پر نہیں بلکہ ریٹ پر ملنا چاہئے کیونکہ مختلف اضلاع میں تمباکو کے ریٹ اور کوالٹی میں فرق ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں غور و فکر کر کے بہتر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ تمباکو پیدا کرنے والے لوگوں کو بھی فائدہ مل سکے اور ان کا نقصان نہ ہو ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پسماندہ اضلاع کے مسائل اور مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ وہ خود بھی ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوشش ہے کہ صوبے کے تمام پسماندہ علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لاکھڑا کرسکوں صرف ملاکنڈ ہی نہیں بلکہ صوبے کے تمام اضلاع پر نظر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دوروں کی شروعات میں نے کرک سے کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایم پی اے ریاض خان کی قیادت میں بونیر کے کثیر رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 200 کے قریب افراد پر مشتمل وفد حلقہ پی کے ۔ 20 ضلع بونیر سے منتخب عوامی نمائندوں ، ناظمین ، کونسلرز ، آئی ایس ایف ، آئی ڈی ایف اور یوتھ کے عہدیداروں اور کارکنان پر مشتمل تھا ۔اس موقع پر بونیر سے سابق تحصیل کونسلر ڈاکٹر عبد اﷲ نے اپنے درجنوں ساتھیوں اور خاندان سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے پارٹی میں شمولیت پر ڈاکٹر عبد اﷲ اور اُن کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا اور اُنہیں خوش آمدید کہتے ہوئے پارٹی کی ٹوپیاں بھی پہنائیں ۔ وفد کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بونیر میں گیس کی فراہمی ، ماربل سٹی کے قیام اور ایکسپریس وے کے مطالبات سے اُصولی اتفاق کیا اور کہاکہ ابھی ان منصوبوں کی فیزبلیٹی اور سروے پر کام شروع کرتے ہیں جیسے ہی مالی حالات بہتر ہوتے ہیں تو فیزبلیٹی کی بنیاد پر ممکنہ منصوبے ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ خود ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت کے مشکور ہیں کہ اُس نے ایک پسماندہ ضلع سے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا۔ اُنہوں نے کہاکہ وہ صرف اپنے ضلع یا علاقے کی ترقی پر توجہ نہیں دیتے بلکہ پورے صوبے خصوصاً پسماندہ اضلاع کی یکساں ترقی پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے عمل سے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ گو کہ مسائل زیادہ ہیں مگر یہ امر خوش آئندہ ہے کہ مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے جو مسائل سے نمٹنے میں ضرور معاونت کرے گی ۔ مالی حالات بہتر ہوجائیں تو ہر ضلع کو اُس کا حق ضرور ملے گا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مشرقی سرحد پر حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور واضح کیا کہ ہم جنگ سے نہیں ڈرتے البتہ ہم امن کے داعی ہیں اور ہمیں امن ہی کی فکر ہے جس کیلئے ہم نے طویل قربانی دی ہے ۔ ہمارے امن کی خواہش کو اگر کوئی کمزوری سمجھتا ہے تو وہ صریح غلطی پر ہے ۔ اگر دشمن نے ہمیں آزمانے کی کوشش کی تو ہم اپنا بھر پور دفاع کریں گے ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارشوں اور بالائی علاقوں میں شدید برفباری کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ ، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے ریلیف سرگرمیاں زیادہ تیز کرنے اور انہیں لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرنے نیز پراگرس رپورٹس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ بھیجوانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ تمام اضلاع میں ریلیف اور بحالی کا کام زور و شور سے جاری ہے جس میں متعلقہ ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کی دلچسپی بھی قابل تعریف ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کواپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانا ضروری ہے اور انہیں کسی بھی قیمت پر حالات اور مشکل موسمی صورتحال کی رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے حتیٰ کہ متاثرین کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بھی پورا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ضمن میں متاثرین کی طرف سے کسی بھی شکایت کا وہ سخت ترین نوٹس لینگے اور انتظامیہ یا کسی بھی ادارے کی طرف سے کوتاہی یا غفلت کے ارتکاب پر تادیبی کاروائی سے گریز نہیں کرینگے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...