اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 139

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 139

  



شہر پناہ کے دروازے پر راجہ چندر بھاٹے کے سپاہیوں نے ہمیں روک کر پوچھا کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے انہیں بتایا کہ ہم کالنجر کے جنوبی قصبے سے فرار ہوکر آرہے ہیں کیونکہ دہلی کے بادشاہ کی فوج چڑھائی کرتی چلی آرہی ہے۔ ہمیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ گجرات کا تاریخی شہر سمندر کے کنارے اس طرح آباد کیا گیا تھا کہ ایک بہت بڑی بندرگاہ شہر کے اندر ہی آگئی تھی۔ جنوب کی طرف شہر کی فصیل سے باہر سومنات کے مندر کی وسیع و عریض عمارت تھی۔ اس مندر کی تباہی میں سلطان محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ وہ کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا مگر ہندو راجراؤں نے اسے پھر سے تعمیر کروادیا تھا۔ مندر کے اردگرد ایک مضبوط اور اونچی فصیل بنی ہوئی تھی۔ اس فصیل کے برجوں میں بھی تیر اندازوں کے دستے پہرہ دے رہے تھے۔ رات کے وقت ان برجوں میں مشعلیں روشن تھیں۔ شہر گجرات سمندر تجارت کی وجہ سے بہت ترقی یافتہ تھا۔ لوگ خوشحال تھے مگر خلجی بادشاہ کی فوج کی چڑھائی کی خبر نے شہر میں لوگوں کو پریشان کیا ہوا تھا۔ راجہ کے فوجی تلواریں اٹھائے جگہ جگہ گشت کررہے تھے۔ فصیل شہر کے ساتھ بھی بھاری فوج متعین تھی۔ کھولتے ہوئے تیل کے بڑے بڑے کڑھاؤ فصیل کے اوپر چڑھادئیے گئے تھے۔ شہر کے وسط میں راجہ کا قلعہ تھا۔ اس قلعے کے باہر اور اندر بھی فوج تعینات تھی۔ گویا مسلمان لشکر سے مقابلے کی پوری تیاری ہوچکی تھی۔ ہم ایک سرائے میں آگے جہاں آس پاس کے دیہاتوں سے بھاگ کر آئے ہوئے لوگ پناہ گزین تھے۔ یہاں کے لوگوں کو راجہ کی طرف سے مفت کھانا ملتا تھا۔ سوئیکارنی رات کو دال بھات کھانے کے لئے کہنے لگی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 138 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مسلمانوں کی فوج جس ملک پر چڑھائی کرتی ہے۔ اس پر قبضہ کرلیتی ہے۔ اگر پھر بھی مسلمان آگئے تو وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

میں خود اس خیال سے پریشان تھا کہ میرے ذہن میں یہ سکیم تھی کہ میں شہر کی بندرگاہ پر صبح جاؤں گا اورمعلوم کروں گا کہ کوئی بادبانی جہاز دوسرے ملک کی طرف جارہا ہے یا نہیں۔ اگرچہ شہر کی ہنگامی صورتحال کو دیکھ کرمجھے شک ہوگیا تھا کہ ایسی حالت میں شاید ہی کوئی جہاز بندرگاہ سے روانہ ہو۔ بہرحال میں نے سوئیکارنی کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ مسلمان فوجی عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ وہ میری طرف دیکھ کر بولی

’’تمہاری جان تو خطرے میں ہوگی۔ پھر میں کیا کروں گی؟ کہاں جاؤں گی؟‘‘

میں نے اس موقع پر اسے دل کی بات بتادی

’’سوئیکارنی! میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں کسی شریف ہندو برہمن سے بیاہ رچالو۔ اس سلسلے میں مَیں تمہاری مدد کروں گا۔‘‘

سوئیکارنی میرے چہرے کو تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے آہستہ سے کہا

’’میں کسی دوسرے سے بیاہ نہیں کروں گی۔‘‘

میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہے۔ اسی لئے میں خاموش ہوگیا۔

میں نے اس منصوبے پر غور کرنا شروع کردیا کہ کیوں نہ سوئیکارنی کو بھی ساتھ لے کر شہر سے نکل جاؤں؟ ابھی میں اس منصوبے پر غور کر ہی رہا تھا کہ ایک روز صبح صبح شور مچ گیا کہ مسلمانوں کی فوج آگئی ہے۔ لوگ گھروں میں گھس گئے۔ مکانوں کے دروازے اندر سے بند کرلئے گئے۔ فوج شہر فصیل پر چڑھ گئی۔ مسلمان فوجوں نے شہر پر حملہ شروع کردیا۔ فصیل پر سنگ باری شروع ہوگئی۔ دو روز تک سنگ باری جاری رہی مگر فصیل اتنی پکی تھی کہ سوائے معمولی سے نقصان کے اس پر کچھ زیادہ اثر نہ ہوا۔ علاؤالدین خلجی کا بھائی الغ خان خود فوج کی قیادت کررہا تھا۔ اس نے ایک خاص فوجی دستے کو تیار کیا، جس نے اپنی جان کی بازی لگا کر تین جگہوں پر سے فصیل کے نیچے زمین کھود کر بارود بھر دیا۔ پھر اسے آگ لگادی گئی۔ دھماکے ہوئے اور شہر کی فصیل تین جگہوں سے منہدم ہوگئی۔ مسلمان لشکری اللہ اکبر کے نعرے لگاتے شہر میں داخل ہوگئے۔ گلیوں، بازاروں میں جنگ شروع ہوگئی۔ اسلامی لشکر کا دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔ انہوں نے راجہ چندر بھاٹے کے قلعے کی دیوار بھی بارود سے اُڑادی اور قلعے میں داخل ہوگئے۔ شہر فتح ہوگیا۔ راجہ چندر بھاٹے کو گرفتارکرلیا گیا۔ اس کی رانی کنولا دیوی کے ساتھ ایک غلام بھی گرفتار ہوا جو بعد میں ملک کفور کے نام سے مشہور ہوا۔

ہم لوگ اس دوران سرائے کے زمین دوز تہہ خانے میں چھپے رہے لیکن بہت جلد شاہی فوج کے سپاہی وہاں بھی پہنچ گئے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ ہمیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ ابھی تک میری شناخت نہ ہوئی تھی۔ میرے سر پر موت کا شدید خطرہ منڈلارہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ جب مجھے علاؤالدین خلجی کے بھائی اور سپہ سالار الغ خان کے سامنے پیش کیا جائے گا تو مجھے پہچان لے گا کہ میں جلال الدین خلجی کامصاحب خاص تھا اور اسی وقت میری گردن اڑادی جائے گی۔

لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب مجھے اور سوئیکارنی کو الغ خان کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے مجھے فوراً پہچان لیا اور بولا

’’ہمیں تمہاری ایک عرصے سے تلاش تھی۔‘‘

میں سمجھ گیا کہ انجام آپہنچا۔ کوئی دم تلوار کا وار میری گردن پر پڑے گا اور میرا سر کٹ کر نیچے گر پڑے گا۔ مگر پانسہ الٹ گیا۔ الغ خان نے مسکراتے ہوئے کہا

’’تم جلال الدین کے امیر ضرور تھے مگر میں جانتا ہوں کہ تم طبیب خاص بھی تے اور تمہیں جڑی بوٹیوں پر بہت دسترس حاصل ہے۔ میں بھی تمہیں اپنا طبیب خاص بناتا ہوں۔‘‘

مجھے نئی زندگی مل گئی تھی۔ اب مجھے سوئیکارنی کی فکر تھی کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ الغ خان نے مجھ سے پوچھا

’’یہ لڑکی کون ہے؟ شکل سے یہ ہندو لگتی ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’عالی جاہ! یہ ایک برہمن زادی تھی لیکن مجھ سے شادی کرنے کے بعد مسلمان ہوگئی ہے۔‘‘

الغ خان ہنس دیا۔ اس نے اپنے گلے میں سے موتیوں کا ایک قیمتی ہار اتار کر میری طرف بڑھایا اور کہا

’’یہ ہماری طرف سے تمہاری شادی کا تحفہ ہے۔‘‘

ہمیں شاہی محل کے مہمان خانے میں پ ہنچادیا گیا۔ وہاں آتے ہی سوئیکارنی نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے اسے یہ کیوں نہیں بتایا کہ مسلمان ہوں اور بادشاہ کا شاہی طبیب رہ چکا ہوں۔ اس کے چہرے پر شدید حیرت اور شکایت کے اثرات تھے۔ اب میرے لئے سوائے اعتراف کرلینے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔ میں نے اپنے بارے میں صرف اتنا ہی صاف صاف بتایا کہ میں مسلمان ہوں اور جلال الدین خلجی کا طبیب خاص تھا۔ اور بادشاہ کے قتل کے بعد میں لشکر سے فرار ہوکر گوالیار کے قرب و جوار کے جنگلوں میں پہنچ گیا تھا۔

سوئیکارنی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ میں اسے کس طرح تسلی دوں۔ اس نے اچانک میر اہاتھ تھام لیا اور بولی

’’تم نے مجھے اپنی پتنی کہا ہے۔ اب میں تمہاری پتنی ہوں۔ میں تمہارا مذہب قبول کرتی ہوں۔‘‘

میں بھونچکا سا ہوکررہ گیا۔ عجیب صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ میں سوئیکارنی سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرکے مجھ پر ایک بھاری دینی ذمہ داری عائد کردی تھی۔ اب میرا فرض تھا کہ اسے حلقہ بگوش اسلام سے منع نہ کروں اور اس سے شادی کرلوں۔ میں نے سوئیکارنی سے کہا کہ مجھے ایک دن سوچنے کیمہلت دو۔ سوئیکارنی آنسو پونچھتی خواب گاہ میں چلی گئی۔ میں پریشانی کے عالم میں ٹہلنے لگا۔ جتنا سوچتا اسی نتیجے پر پہنچتا کہ سوئیکارنی سے شادی کرنا میرا دینی فرض بن چکا ہے۔ دوسرے روز میں نے سوئیکارنی کو ساتھ لیا اور لشکر کے ایک مولوی صاحب کے خیمے میں جاکر ان سے کہا کہ یہ عورت زبانی طور پر حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اقرار کرچکی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ باقاعدہ طور پر اسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کریں۔ مولوی صاحب نے اسی وقت سوئیکارنی کو سامنے بٹھا کر کلمہ پڑھایا اور میرے اصرار پر ہمار انکاح پڑھادیا۔

سوئیکانی میری منکوحہ بیوی بن گئی۔ میں نے اس کا اسلامی نام زبیدہ رکھا۔ میرا نام وہی عبداللہ ہی تھا۔ گجرات پر قبضہ کرنے کے بعد ہم بھی الغ خان کی فوج کے ساتھ پایہ تخت دہلی آگئے۔ میں الغ خان کے محل میں ہی اس کے طبیب خاص کی حیثیت سے تعینات رہا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 140 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار


loading...