اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 102

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 102
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 102

  



ایک مرتبہ حضرت میاں میرؒ کے مرید و خلیفہ ملا خواجہ بہاری نے آپ کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کیا کہ ایک روز کچھ لوگ میرے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک مکان گرجانے کے آثار پیدا ہوئے۔

میں نے لوگوں سے کہا کہ فوراً باہر چلے جاؤ۔ سب لوگ اٹھ کر باہر چلے گئے لیکن میں وہیں جم کے بیٹھا رہا اور باآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھتا رہا۔ حتیٰ کہ چھت گری اور دو لکڑیاں آپس میں اس طرح ملیں جن کے درمیان میں سلامتی کے ساتھ بیٹھا ہوا درود ونوکرکرتا رہا۔

جب بہاری یہ واقعہ بیان کرچکے تو حضرت میاں میرؒ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’ہائے مرتبہ، ہائے مرتبہ، کیا تم نے کلمہ طیبہ کو بلند آواز سے اس لیے پڑھا کہ لوگوں کے دل میں تمہاری درویشی کی قدروقیمت پیدا ہوجائے اور لوگ تمہارے بارے میں یہ کہیں کہ دیکھو کتنا بڑا درویش ہے کہ مرتے وقت بھی خدا کو یاد کرتا رہا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ بلند آواز سے پڑھنے کی بجائے آہستہ آہستہ پڑھتے۔‘‘

آپ کی بات صرف مریدوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ خود بھی ایسا کرتے۔ چنانچہ آپ کو تمام عمر کسی شخص نے بھی ہاتھ میں تسبیح لیے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ رات کو حجرے کا دروازہ بند کیے بیٹھے رہتے اور ذکر خدا میں مشغول رہتے۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 101 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت شیخ خیر نساجؒ کو خیر نساج کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ حج کے ارادہ سے گھر سے وانہ ہوئے تو بوسیدہ گدڑی اور سیاہ رنگ کی وجہ سے کوفہ میں ایک شخص نے پوچھا 

’’کیا تم غلام ہو؟‘‘

آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر اس نے پوچھا ’’کیا تم اپنے آقا سے فرار حاصل کیے ہوئے ہو؟‘‘ آپ نے اس بات کا بھی اثبات میں جواب دیا۔

اس نے کہا ’’چلو مَیں تمہیں تمہارے آقا سے ملوادوں۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’مَیں تو ہمیشہ سے اس کا متمنی ہوں کہ کوئی ایسا فرد مل جائے جو مجھ کو میرے آقا سے ملوادے۔‘‘

اس کے بعد اس نے آپ کا نام خیر رکھ کر کپڑا بننا سکھادیا اور اسی نسبت سے آپ کو خیر نساج کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

غرض کہ عرصہ درواز تک آپ اس کی خدمت کرتے رہے اور جس وقت وہ آپ خیر کہہ کر پکارتا تو آپ جواب میں لبیک فرمایا کرتے لیکن جب اس کو آپ کے زہد و تقویٰ کا علم ہوا تو آپ کو بہت تعظیم کے ساتھ اپنے ہاں سے رخصت کرتے ہوئے عرض کیا ’’حقیقت میں آپ کو آقا اور مجھے غلام ہونا چاہیے تھا۔‘‘

***

ایک دفعہ شیخ ابو طالب جو لاہو ریں دہ ہزاری منصب دار تھا۔ حضرت شاہ بلاولؒ کا بڑا عقیدت مند تھا اور حلقہ ارادت میں داخل تھا، آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ’’میرے دیہات کی جاگیر میں بارش نہیں ہوئی، عا فرمائیے۔‘‘

حضرت شاہ بلاولؒ نے آسمان کی طرف منہ کر کے دعا کی، فوراً بادل نمودار ہوئے۔ آپ نے فرمایا ’’جاؤ اور ابو طالب کی جاگیر پر برسو۔‘‘

بادل وہاں سے اُڑے اور ابوطالب کی جاگیر پر جاکر خوب برسے۔

***

مائی بھاگی قوم راجپوت منہاس سے تھی جس زمانہ میں پنجاب میں اڑھائی سیراقحط پڑا، یہ اپنی ماں حبیباں اور مہنت لوگوں کے ساتھ جو پہاڑوں سے آرہے تھے امرتسر چلی آئی۔ جہاں اس کی والدہ فوت ہوگئی پھر یہ بارہ سال کی عمر میں لاہور چلی آئی اور اندروں دہلی دروازہ لاہور میں طوائف بن بیٹھی۔

عالم جوانی اور حسن خدا داد تھا، بے شمار لوگ اس کے فریفتہ ہوگئے۔ اس کے علاوہ اس نے دو دکانیں شراب کی کرلیں جس سے وہ مالدار ہوگئی۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دفعہ ایک مرد خدا ذوالفقار نامی اس کے پاس آیا اور شراب کا پیالہ طلب کیا۔ اس نے پیالہ بھر کر دے دیا۔ ذوالفقار نے ایک گھونٹ خود پیا او رباقی اس کے حوالے کردیا کہ پی لے۔

شراب کا بقیہ پیالہ پیتے ہی وہ مجذوبہ ہوگئی۔ کپڑے پھاڑ ڈالے۔ تمام زیور اتار کر پھینک دیا۔ گھر کا تمام اثاثہ لُٹادیا اور ایک پرانی گودڑی لے کر اکبری دروازہ کے پاس ایک میدان میں قیام پذیر ہوئی۔ حالت جذب و استغراق میں جو زبان سے کہتی وقوع میں آتا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ اس کا بے حد معتقد تھا۔ اگرچہ یہ اس کو گالیاں دیتی مگر وہ اس کا پیچھا نہ چھوڑتا۔

رنجیت سنگھ کے معتقد ہونے کا واقعہ یوں ہے کہ قدرت الہٰی سے مہاراجہ تک اس کی شہرت پہنچی۔ وہ پہلی مرتبہ پانچ سو روپیہ لے کر اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ چونکہ وہ اپنے پاس آنے والوں کو اینٹیں مارتی تھی۔ اس لیے مہاراجہ بھی کئی بار اینٹیں کھا کر اس کے آگے پیچھے پھرتے۔

جب مہاراجہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو راجہ دھیان سنگھ وزیراعظم اور راجہ سوچیت سنگھ اس کو مہاراجہ کے پاس شاہی قلعہ میں لانے کے لیے گئے اور بہت سا نقدس و جنس نذرانہ دیا۔ مگر وہ ان کے ساتھ نہ گئی۔ آخر مہاراجہ کھڑک سنگھ اس کو اپنے ہمراہ لائے اور وہ گیارہ روز تک سرکار کے پاس رہی۔

اس دوران مہاراجہ کو کچھ آرام ہوا۔ اس کے شکریہ میں ایک حویلی بصرف زر کثیر مائی بھاگی کو بنوادی۔ ازاں بعد اس کی بہت شہرت ہوئی۔ گنگارام پنڈت بھی اس کے پاس ہر روز آتا۔

ایک روز اس کی زبان سے نکلا ’’جادر بار میں دیوانی کا کام کر۔ میرے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے۔‘‘ پس اسی روز اس کو دیوانی کا کام مل گیا۔

مائی بھاگی کی قبر کا نشان کہیں نہیں ملا۔ البتہ علاقہ کا نام محلہ مائی بھاگی مشہور ہے۔ جو سلطان پورہ لاہورکے نزدیک ہے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 103 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے