”ایمان“ کے نام

”ایمان“ کے نام
”ایمان“ کے نام

  

یہ مَیں جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں، یہ ”ایمان“ کے نام ہے۔ ”ایمان“ اوکاڑہ میں بسنے والے میرے وسیع تر خاندان کی ایک چھوٹی سی بچی ہے۔ اسے مَیں نے کیا پیغام دیا ہے یا دینا چاہتا ہوں، یہ مَیں ابھی بتاتا ہوں، لیکن اس سے پہلے بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ آپ اسے سن لیں گے تو میرے پیغام کا پس منظر واضح ہو جائے گا……مَیں تو ادھر امریکہ میں اپنی بیگم اور تین بیٹیوں کے ساتھ رہ رہا ہوں، جسے واشنگٹن کا میٹرو پولیٹن ایریا کہا جا سکتا ہے۔ میرا وسیع تر خاندان اوکاڑہ میں رہتا ہے،یعنی اوکاڑہ شہر جہاں مَیں نے ہوش سنبھالا اور بچپن گزارا۔ اس کے بعد اس کے نواح میں دریائے راوی کی طرف شہر سے تقریباً آٹھ دس کلومیٹرکے فاصلے پر چک نمبر48/4R ہے،جہاں میرے والد کی زرعی زمین تھی۔ وہ اس گاؤں کے نمبردار بھی تھے، لیکن وہ شہر میں رہتے اور کاروبار کرتے تھے، اس لئے انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو سربراہ نمبردار بنا رکھا تھا۔ اس گاؤں کی نواحی آبادی نیامی اور دریا کی طرف مزید آگے جائیں تو برج جیوے خان میں بھی میرے خاندان کے لوگ آباد ہیں۔

چک 48/3R میں رہنے والے میرے ایک ماموں اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی گلی میں ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی رہتے ہیں۔ اپنے بزرگ کے نام کی نسبت سے مَیں اسے ”نور گلی“ کہتا ہوں۔ مَیں بچپن میں اپنے نمبردار چچا کی بجائے اپنے ماموں کے گھر چھٹیاں گزارنے کے لئے آکر رہتا تھا یا پھر کبھی چھٹیوں میں اپنی ایک پھوپھی کے پاس برج جیوے خان چلے جاتے تھے۔ اس گلی میں پچھلے دنوں ایک شادی ہوئی تھی۔ دلہے وقاص اور دلہن سارہ کے لئے مَیں نے ایک سہرا نما آزاد نظم لکھ کر یہاں سے تحفتاً بھیجی تھی، کیونکہ مَیں اتنا دور ہونے کے باعث اس میں شرکت نہیں کر سکا تھا۔ پچھلے سال یہاں ایک اور شادی بھی ہوئی تھی۔جب ہمارے بھتیجے اسد ایک بہت پیاری سی دلہن مریم کو بیاہ کر لائے تھے۔ ارادہ ہے کہ ان دونوں جوڑوں کو اپنی روایت کے مطابق جب بھی اوکاڑہ گیا تو ایک استقبالیہ دوں گا۔

میری بات آہستہ آہستہ ”ایمان“ کے لئے پیغام تک پہنچ رہی ہے۔ ”ایمان“ اسی ”نور گلی“ میں رہنے والی بچی ہے، جس کے تایا زاد بھائی وقاص کی شادی کا مَیں نے ذکر کیا ہے۔ اس شادی پر میری آزاد نظم سن لیجئے، جس سے اس ”نور گلی“ کا کھل کر تعارف ہو جائے گا۔ ناموں کے حوالے سے معذرت چاہتا ہوں،کیونکہ یہ خاندان کے لئے لکھی گئی تھی، جسے وہی سمجھ سکتے ہیں۔

نور گلی

دین کا فضل ہے یہاں اور دین ہی کا نور ہے

نور بھری اس گلی میں فقط سرور ہی سرور ہے

یہ گلی خلوص کی، صداقتوں سے مالا مال

اس کمال میں مگر بڑوں کی دعا ضرور ہے

پروین خالق کی گلی، نرگس جاوید کی گلی

صفیہ واحد کی گلی، بلقیس و رشید کی گلی

نیک دل بزرگوں کا ہے پریوار اس گلی میں

حسن سلوک کی ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار اس گلی میں

سارا سال یہاں ہوتی ہے خوشیوں کی برسات

دکھ سکھ کی سانجھ ہے ان کی دن ہو یا رات

اس گلی میں اظہر کا بھی بچپن گزرا ہے

اس گلی میں رہ کے اس نے بھی کچھ سیکھا ہے

اس لئے وہ بھی دعوے سے یہ کہہ سکتا ہے

اس گلی کی ریت یہی ہے، اس کا یہی طریقہ ہے

بہو کو یہ بہو نہیں، بیٹی بنا کے رکھتے ہیں

باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں

نور بھری اس وکھری گلی میں

خوشیاں اتریں ممالک کے صحن میں

آئی سارہ وقاص کے آنگن میں

ناچے مور جیسے کسی بن میں

جیسے برکھا جھوم کے برسے

جیسے چمکیں تارے گگن میں

اس گلی کی نئی یہ جوڑی

عبدالواحد کے سانس کی ڈوری

سارہ! ایسے گھر میں رہنا، جیسے باغ میں کلیاں

جوبن بولے خوشبو سے اپنی پہچان بنائے

نرمی کی ایک مثال بنو تم، مہک ہو جس کی ہر سُو

ایسا سلوک نظر آئے،جو گلی کی شان بڑھائے

رم جھم برسے، دھیمی دھیمی برسات رہے

سارہ وقاص کا ایسا ہر دم ساتھ رہے

”نور گلی“ کے اس تعارف کے بعد مَیں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں رہنے والی چھوٹی بچی اور نویں جماعت کی طالبہ ”ایمان“ کو مَیں کیا پیغام دینا چاہتا ہوں اور یہ کیوں ضروری ہے؟ مَیں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا حامی تو بہت پرانا ہوں اور شاید اسی وجہ سے مجھے قدرت نے صرف بیٹیاں ہی دی ہیں۔ اپنی تینوں بیٹیوں کو شفقت دینے کے ساتھ ساتھ مَیں نے عزت اور وقار کے علاوہ اعتماد بھی بہت دیا، جو اب ماشاء اللہ یہاں امریکہ میں بہت کامیاب زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے بعد مَیں نے خاندان کی لڑکیوں، بھانجیوں، بھتیجیوں سے بھی خصوصی شفقت کا سلسلہ قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان سے گپ شپ کرتے ہوئے انٹرٹینمنٹ کے بہانے غیر محسوس طریقے سے زندگی کے اچھے اصول بھی انہیں سمجھائے،ان کی مصروفیات میں دلچسپی لی اور ان کی زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

بہت چھوٹی بچیوں کے ساتھ کھیلا تو جا سکتا ہے، لیکن انہیں کوئی سبق نہیں پڑھایا جا سکتا۔ ماشاء اللہ ”ایمان“ اب نویں جماعت میں ہو گئی ہے اور ایک دو اور لڑکیوں کے سوا کوئی لڑکی اوکاڑہ میں اس ”ایج گروپ“ میں نہیں ہے، جنہیں اب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، جن کی پڑھائی اور تربیت پر خاص دھیان دینا چاہیے۔ پرائمری کے دنوں میں یہ ”جھلی“ سی لڑکی سارے گھروں میں اَدھر اُدھر بھاگتی پھرتی تھی۔مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ہے کہ وہ اب کچھ بڑی ہو کر بہت ذمہ دار، لائق اور محنتی سٹوڈنٹ بن چکی ہے۔ وہ چند میل دور شہر کے ایک اچھے انگلش میڈیم سکول میں میڈیکل سائنس کے مضامین پڑھ رہی ہے اور ڈاکٹر بننے کا ارادہ رکھتی ہے۔کچھ عرصے سے مَیں یہاں سے فون پر اس سے ہفتے دو ہفتے بعد باقاعدہ مکالمہ کر رہا ہوں۔ اس کی اپنی پڑھائی میں دلچسپی اور محنت مجھے مسلسل حیران کر رہی ہے۔ ایک اچھی بات یہ ہے کہ میری طرح وہ بھی گوشت بالکل نہیں کھاتی۔ مَیں اس کے والد فیاض اور بھائی فہد کے ذریعے یہ خیال رکھ رہا ہوں کہ اس کی خوراک متوازن ہو اور مَیں ”غذائیت“ کے اپنے علم کے مطابق اسے پھلوں، سبزیوں اور دودھ کے مناسب استعمال اور موسمی اثرات سے بچنے کے لئے خصوصی اجزاء پر مشتمل خاص قہوہ پینے کے طریقے بتاتا رہتا ہوں، جن پر وہ باقاعدگی سے عمل بھی کرتی ہے۔

”ایمان“ سے جنون کا لفظ سن کر مَیں چونک اٹھا۔ اس نے شہر کے ایک بڑے شہرت یافتہ کالج کا نام لے کر مجھے بتایا کہ مجھے میٹرک کے بعد ایف ایس سی کے لئے اس کالج میں داخل ہونے کا جنون ہے۔ وہ سکول میں مسلسل نمایاں پوزیشن حاصل کر رہی ہے۔ پڑھائی میں یقینا اس کی دلچسپی جنون کی حد تک ہے۔ وہ الارم لگا کر ہر روز صبح ساڑھے تین بجے اٹھتی ہے۔ سکول سے آکر بھی وہ پڑھائی میں مصروف رہتی ہے۔ پہلے مجھے شبہ تھا، لیکن اب یقین ہوتا جا رہا ہے کہ وہ تعلیم میں ضرور بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ مَیں وثوق سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس راستے پر وہ چل رہی ہے،وہ ایک اچھی بیٹی، ایک اچھی طالبہ اور سب سے بڑھ کر ایک اچھی انسان ضرور بنے گی۔ پھر بھی مَیں نے ”ایمان“ بیٹی کو پیغام دینا ہے، جس مقصد کے لئے مَیں نے یہ کالم لکھا ہے اور اس کے ذریعے ”ایمان“ جیسی بیٹیوں تک بھی اپنا پیغام پہنچانا ہے اور بیٹی کی چھوٹی عمر کو ملحوظ رکھتے ہوئے پیغام کو آسان بھی رکھنا ہے۔

کچھ باتیں وہ اپنے ”تاؤ زمان“ کی سوچ کے بارے میں پہلے سے ہی جانتی ہے، کیونکہ اس نے کچھ کالم پڑھ رکھے ہیں۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے تاؤ نے اپنے والدین کے گھر میں خواتین کے حقوق کی حمایت شروع کی تھی، جب انہوں نے اپنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کے برابر حق دلانے کے لئے آواز اٹھائی تھی۔ اسے معلوم ہے کہ جب بھی کسی مقام پر خواتین یا لڑکیوں پر ظلم کی خبر ان تک پہنچے گی تو ان کا قلم اس پر احتجاج کرنے کے لئے حرکت میں ضرور آئے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے تاؤ کو خواتین کے حقوق کی حمایت میں لکھنے پر 2018ء میں لندن میں ایک خصوصی تقریب میں ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ملالہ یوسف زئی تعلیمی مصروفیت کے باعث برمنگھم سے لندن نہیں آ سکی تھی، لیکن اس نے وہاں سے مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا۔اس لئے میرا کام آسان ہو گیا ہے اور ”ایمان“ کے ذہن کی سطح کے مطابق پیغام کو سادہ ہی رکھنا ہے۔ وہ اچھے اداروں میں پڑھ کر اچھی تعلیم حاصل کرے۔ ڈاکٹر بننا ضروری نہیں ہے کہ یہ کوئی آخری منزل نہیں ہے۔

کوئی بھی باعزت پروفیشن ہو سکتا ہے۔ ناموری یا شہرت حاصل کر نا بھی ضروری نہیں ہے، البتہ اخلاق اور طور طریقوں میں کمال ایسا ہونا چاہیے کہ جو کوئی ملے تو پوچھتا پھرے کہ اس کا تعلق کس نوبل خاندان سے ہے۔لڑائی جھگڑوں سے پرہیز اور گھر کے اندر اور باہر جہاں بھی موقع ملے، سب عزیز و اقارب میں فاصلہ پیدا کرنے کی بجائے ان کو جوڑنے کی کوشش کریں، رنجشیں بھلا کر معاف کر دینے کی عادت اپنائیں، بڑوں کا احترام لازمی ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں، لیکن مَیں چاہوں گا کہ ”ایمان“ اپنے گھر میں، اپنی گلی میں، اپنے گاؤں میں اور اپنے سکول میں اپنے ساتھ ساتھ اپنے جیسی لڑکیوں اور بڑی خواتین کو احترام کا مقام دلانے کے لئے کام کرے۔ وہ یہ کام کرے گی تو مجھے خوشی ہو گی، تاہم ایک کام مَیں ضرور کروں گا کہ کم از کم ”ایمان“ کے ساتھ اپنے گھر میں شہزادیوں جیسا سلوک ہو اور اپنی گلی اور اپنے گاؤں میں اسے لڑکوں سے کم تر نہ سمجھا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -