قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں طالبان عافیہ صدیقی کو کیسے بھول گئے؟

قیدیوں کی رہائی کے معاملے میں طالبان عافیہ صدیقی کو کیسے بھول گئے؟

  

تجزیہ ایثار رانا

افغانستان کے حالات یہ بتاتے ہیں کہ امن معاہدہ طالبان حملوں اتحادیوں کے فضائی دھماکوں میں دب کے رہ جائے گا۔بدھ کے روز کے واقعات کوافغانستان میں خانہ جنگی کی ابتدا قرار دیا جاسکتا ہے۔اور یہی امریکی منصوبہ ہے۔وہ یہاں ایک ایسی آگ بھڑکا کے جائے گا جو کئی اور مسلمانوں کی زندگیوں کونگل جائے گا۔رہی بات ڈونلڈ ٹرمپ کے ملا عبدالغنی کو ٹیلی فون کی تو یہ فون خود دونوں فریقوں میں اعتماد کی کمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔گفتگو میں ملا عبدالغنی نے ٹرمپ سے کہا کہ آپ ہمیں دھوکہ نہ دیں ہم بھی آپکو دھوکہ نہیں دینگے۔میں حیران ہوں کہ طالبان امن معاہدوں کی شرائط میں انکے لیے اذیتیں جھیلنے والی بے بس عافیہ صدیقی کو بھول گئے۔ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے میں انکا ذکر تک نہیں جو کہ ایک مایوس کن بات ہے۔عافیہ صدیقی کے حوالے سے آخری خبر یہ تھی کہ امریکا انکے بدلے ڈاکٹر شکیل کی رہائی چاہتا ہے۔ یہ سودا برا نہیں اگر ایک غدار کے بدلے ایک کچلی ہوئی اور زخمی روح والی عافیہ کو واپس لے آیا جائے تو کوئی برا کام نہیں ہوگا۔ہم ایک غدار کو کب تک ٹکڑوں پہ پالیں گے۔میرا یقین ہے اگر وزیراعظم عمران خان ایسا کرجاتے ہیں تو ایک تاریخی قدم ہوگا۔ایسا کرنا ہم پہ قرض ہے اور فرض بھی ہے۔ طالبان کے لیے صعوبتوں  اور اذیتوں کے پہاڑ جھیلنے والی عافیہ ہماری منتظر تو ہوگی

تجزیہ ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -