ذیا بیطس کے مریضوں میں اضافہ!

ذیا بیطس کے مریضوں میں اضافہ!

  

کراچی میں ہونے والی طبی ماہرین کی کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 25فیصد سے زائد افراد ذیا بیطس میں مبتلا ہیں، اگر کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی اور توازن پیدا نہ کیا گیا تو آئندہ دس سال میں یہ تعداد دوگنا ہو جائے گی۔ماہرین کے مطابق چاول اور مشروبات کا استعمال زیادہ ہو چکا، جو اِس مرض میں اضافے کی وجہ ہیں۔ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا کہ ملک بھر میں بریانی کھانے کے رجحان میں بہت اضافہ ہو گیا ہے، جو نقصان دہ ہے ایسے پکوان زیادہ کھانے سے بھی ذیا بیطس ہوتی ہے، جبکہ کیمیکلز والے مشروبات نہ صرف ذیا بیطس،بلکہ معدے اور گردے کے امراض بھی پیدا کرتے ہیں۔ماہرین نے خوراک میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا، یہ انتباہ سو فیصد سے بھی زیادہ درست ہے کہ شفا خانوں اور مطب پر مریضوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ ذیا بیطس کے مریض کے گردے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جب ڈائیلاسز کی نوبت آتی ہے تو مصیبت دو چند ہو جاتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ ملک میں روایتی خوراک کا رجحان کم ہوا، طبی ماہرین سادہ اور متوازن غذا تجویز کرتے ہیں،لیکن یہاں صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ ماہرین طب تو خبردار کر کے اپنا فرض ادا کرتے چلے جاتے ہیں یہ اب شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقصان دہ خوراک اور مشروبات سے گریز کریں، حکومت کو بھی آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -