وزارتِ تنہائی 

وزارتِ تنہائی 
وزارتِ تنہائی 

  

جاپان میں خود کشی کرنے والے افرادکی سالانہ تعداددنیا میں سب سے زیادہ ہے۔یہ معاملہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ سال ہا سال سے یہی روایت چلی آرہی ہے۔ انسانی تاریخ میں اجتماعی خودکشی کا سب سے بڑاواقعہ بھی جاپان ہی کے ایک جزیرے پر پیش آیا،جب دوسری جنگ عظیم کے آخری دنوں میں امریکی فوج ہیروشیما اورناگاساکی پر ایٹم بم گراچکی توگھیرے میں آئے ہوئے جاپانی فوجیوں نے سرنڈرکرنے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دی تھی۔چشم زدن میں 6500 افرادنے خودہی اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی تھی۔

حکومت کی پریشانی اور تشویش کا سبب یہ ہے کہ اس سال خود کشی کرنے والے افراد کی تعداد نے جاپان میں گزشتہ پوری دہائی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔بدقسمتی سے اس منفی رجحان میں مسلسل تیزی آرہی ہے۔قارئین بھی شائد حیران ہوں کہ اس برس جاپان میں کرونا کے وبائی مرض میں مبتلا ہو کرہلاک ہونے والے افراد کی تعدادخودکشی کرنے والے افراد کے مقابلے میں تقریباًآدھی ہے۔حالانکہ جاپان ان ممالک میں شامل ہے جوCOVID-19سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔اکتو بر کے مہینے میں جب کرونا وبا عروج پر تھی تواس سے متاثر ہوکرہلاک ہونے والے افرادکی تعدادستر ہ سوتھی،جبکہ اسی عرصے میں خودکشی کاارتکاب کرنے والے لوگوں کی تعدادتقریباً ڈھائی ہزارکے قریب تھی۔خودکشی کے مرتکب افرادکاگیارہ سالہ ریکارڈٹوٹنے کی وجہ کرونا کے باعث پید اہونے والے معاشی اور سماجی مسائل بھی ہیں۔مگرتنہائی کو اس کابنیادی سبب سمجھا جاتا ہے۔ان حالات کو مدنظررکھتے ہوئے سرکارنے جاپانیوں کی تنہائی دورکرنے اورسماجی اعتبار سے زیادہ میل جول بڑھانے کی طرف راغب کرنے کے لئے ایک خصوصی وزارت قائم کی ہے۔اس وزارت کو یہاں تنہائی کی وزارت کا نام دیا گیا ہے۔

خود کشی کی شرح میں مسلسل اضافے سے نمٹنے کی کوششوں کے تحت ساکاموتوکو پہلاوزیربرائے تنہائی تعینات کیا گیا ہے۔وزارت تنہائی کو حکومتی پالیسیوں کے ذریعے شہریوں میں تنہائی اورلوگوں کے درمیان الگ تھلگ رہنے کے رجحان میں کمی لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔نئی وزارت کا چارج دیتے ہوئے وزیراعظم سوگانے وزیر تنہائی کو بتایاکہ خواتین میں خود کشی کا رجحان مردوں کی نسبت ان دنوں زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس بابت ان کا کہنا تھا کہ مردوں کے مقابلے مین خواتین کی زیادہ تعدادتنہائی کا شکار ہے۔ اور شائد یہی وجہ بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس سارے افسوس ناک معاملے میں یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ وزیر تنہائی کے پاس بچوں کی پیدائش میں کمی سے نمٹنے کی وزارت کا قلمدان بھی ہے۔آپ شائد حیران ہو رہے ہوں گے،چونکہ پاکستان میں توہم نے بچپن سے خاندانی منصوبہ بندی کی وزارت اور آبادی میں اضافے کی شدت میں کمی لانے کے وزیر ہی دیکھے ہیں۔ہر ملک کے اپنے مسائل ہوتے ہیں،جاپان آبادی میں کمی کا شکارملک ہے۔مستقبل میں یہ سفید بالوں والے افراد کی اکثریت کا دیس بن جائے گا۔یہی رجحان رہا توپچاس سال میں ایک کروڑآبادی مزید کم ہو جائے گی۔اسی شرح پیدائش میں کمی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے بھی ایک وزارت خصوصی طور پر کا م کر رہی ہے۔ اور تنہائی کے وزیر ساکاموتو ہی اس وزارت کی باگ ڈورسنبھالے ہوئے ہے۔

وزارت تنہائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ اس دیس میں پورے عالم سے زیادہ بلند خود کشی کی شرح ہونے کی اور بھی بہت ساری اہم وجوہات موجودہیں۔دیگرمحرکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ وجوہات مذہبی، سیاسی، سماجی اور تاریخی نظریات وروایات بھی ہیں۔ پہلے اس حقیقت کو سمجھناہوگاکہ اس سماج میں خودکشی بہادری اور غیرت کی علامت کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ سمجھی جاتی ہے۔صدیوں سے یہاں ایک رسم قائم رہی ہے،جسے ”ہاراکیری“یعنی خنجرسے اپنا پیٹ چاک کرنا کہتے ہیں۔جب کوئی اہم عہدیدا، معزز اہلکار یا پھر حکومتی ذمہ دارکوئی غلطی کرلیتا تو عمومی طور پرخودفرمائش کرتا کہ اسے غیرت کے ساتھ مر نے کا موقع دیا جائے اور ”ہاراکیری“کی اجازت دے دی جائے۔ بعض صورتوں میں بادشاہ، سمورائی اور بڑے عہدے دارغلطی کے مرتکب فردکوتلوار یا خنجرخود پکڑادیتے تھے،جس کا مطلب یہ ہوتا تھاکہ وہ اگر عزت کے ساتھ اپنا پیٹ خود چاک کر لے تو اس کے خاندان کے دیگر افراد کو کوئی ایذانہیں پہنچائی جائے گی۔ہارا کیری بذات خودایک مضمون کا متقاضی موضوع ہے کہ انسانی جسم میں ایک جگہ ایسی ہے کہ اگر پیٹ چاک سے تلوار یا خنجراس نقطے سے ٹکرائے تو درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔اور ایک پر سکون موت مقدر میں آتی ہے،مگر اس موضوع پر پھرکبھی بات ہوگی۔

آتما ہتیاکرنے کی ایک وجہ سماج میں خیرات دینے کا عمومی عدم تصورہے۔اس لئے معاشی بحران کا شکارشخص اول توکسی سے مددمانگتانہیں ہے،چونکہ پورے ملک میں مدد مانگنے اور خیرات دینے کاکوئی تصورہی موجودنہیں۔اگرکوئی اپنی غیرت مارکر مدد مانگ بھی لے توکوئی بھیک دینے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔شائد اسی سبب سے پورے ملک میں آپ کو کوئی بھکاری نہیں ملے گا۔مگر یہ رویہ خودکشی میں اضافے کا سبب بھی ہے کہ جب کوئی مالی بحران کا شکار ہوتاہے تو اس کی آس بھی ٹوٹ جاتی ہے۔اورحالات میں بہتری کی امید بھی مر جاتی ہے۔

پاکستان میں مشکل معاشی حالات کے باوجودخودکشی کرنے کی شرح زیادہ نہیں ہے،اس خو ش قسمتی کی وجہ ایک تو ہمارا مذہب اسلام ہے جواس عمل کوحرام قراردیتاہے۔ورنہ طرح طرح کے دباؤ،پریشانیاں اور الجھنوں کے سبب خود کشی کرنے والے افراد کی تعدادبہت زیادہ ہوتی۔دوسری اہم وجہ ہمارامشترکہ خاندانی نظام ہے۔جو کہ ہمیں تنہائی کا شکار ہونے سے بچائے رکھتا ہے۔اس تنہائی کے تدارک کے لئے جاپان میں توایک خصوصی وزارت تشکیل دینا پڑتی ہے اور اربوں روپے اب تک خرچ ہو بھی چکے ہیں۔تیسری وجہ زندگی میں عدم مقصدیت ہے جو اس ہلاکت خیزی کا سبب بنتی ہے،ہمارے ہاں زندگی کا مقصد صرف اپنی ذات ہی نہیں ہوتی،بلکہ ماں باپ،بہن بھائی،بیوی بچے،اوردیگر دوست احباب کے مسائل بھی، ہم لوگ ذاتی مسائل اورمقاصد سمجھتے ہیں،اس لئے پاکستانیوں کی زندگی میں عدم مقصدیت کا رواج اور جگہ نہیں ہے۔ یہاں جو بڑی بڑی رضا کار تنظیمیں ہیلپ لائن قائم کر کے کام کرتی ہیں،ہمارے ہاں ہر آدمی ہی کسی نہ کسی کی ہیلپ لائن ہوتاہے اور اسے احسان بھی نہیں سمجھتا۔

مزید :

رائے -کالم -