کیا موجودہ بے راہروی کا علاج تصوف میں ممکن ہے؟

کیا موجودہ بے راہروی کا علاج تصوف میں ممکن ہے؟
کیا موجودہ بے راہروی کا علاج تصوف میں ممکن ہے؟

  

موجودہ ہو یا پرانی بے راہروی تو پھر بے راہروی ہے۔ جب رات کالی ہوتی ہے حرص اور لالچ کی  تیز بارش برس رہی ہو خواہشات کا جن سر چڑھ کر بات کر رہا ہو تو ایسی صورت حال میں ہر کوئی گھر کا راستہ بھول جاتا ہے۔ بھول جانے کا انجام دھکے ہیں اور جب بندہ دھکے کھا کھا کر تھک جاتا ہے تو پھر اس کو نیند آجاتی ہے اور وہ لمبی تان کر سوجاتا ہے۔لمبی تان کر سونے والے موت کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ یوں بھول جانے کا انجام موت ٹھہرا اور زندگی اللہ کا بہت بڑا انعام ہے اور اس انعام کو ایک نہ ایک دن چھن جانا ہے لہٰذا کیوں نہ انسان بھول چوک سے بچے۔ بھول جانا ویسے انسان کی سرشت میں ہے کیونکہ انسان اور نسیان کا ایک ہی مادہ ہے اسی لئے تو شاید یہ بھول جاتا ہے کہ تخلیق نسل انسانی کا کوئی مقصد تھا۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کی جملہ تخلیقات کی کتنی اہمیت ہے اور پھر وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کی اوقات کیا ہے۔

موضوع کے حوالے سے موجودہ بے راہروی اور تصوف کا تفصیلی جائزہ لینے  ہی سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کیا موجودہ بے راہروی کا تصوف میں علاج ممکن ہے۔ بنیادی طور پر بے راہ روی سے مراد بھٹک جانا، راستہ سے ہٹ جانا یا قرآن پاک کی اصطلاح کے مطابق گمراہ ہو جانا ہوتا ہے۔ موجودہ بے راہ روی تشدد پسندی، استحصال اور ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دینا ہے۔ مزید یہ کہ حرص، لالچ، بغض، حسد، کینہ پروری، نفرت، کساد بازاری، بے حیائی،دروغ گوئی، غیبت، مکروفریب،قتل وغارت وغیرہ اس کی تفصیل ہے۔ ان سارے عیوب کا جب انسان رسیا ہو جاتا ہے تو  انسان اور حیوان میں فرق ختم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے مفادات کے لئے مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ بیٹے اپنے ہاتھوں باپ کی داڑھی نوچ لیتے  ہیں۔

بیٹی ماں کو لوٹ لیتی ہے بھائی بھائی کا خون کر کے دولت مند ہو جاتا ہے۔ دوست دوست کی عزت سے کھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اقتدار کے حصول کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔جھوٹ بولا جا سکتا ہے، لالچ دیا جا سکتا ہے،مخالف کو دوست اور دوست کو دشمن بنایا جا سکتا ہے، حرام اور حلال کے فرق کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ استحصال تو کسی چیز کا بھی کیا جا سکتا ہے بشمول مذہب اور پھر حسب ضرورت بندے بھی مارے جا سکتے ہیں۔بلاشبہ یہ سارے کام کرنے کے لئے اندر کے انسان کو مارنا پڑتا ہے اور اگر اندر کا انسان مر جائے تو کائنات میں دنگا فساد اور خون خرابہ شروع ہوتا ہے اور یہی تو بے راہ روی ہے جس کا انسان آج شکار ہے۔ بلکہ پوری دنیا افراتفری کا شکار ہے۔

امریکہ دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے عراق افغانستان تو کیا اپنے آپ کو بھی آگ میں جھونک سکتا ہے۔ انفرادی یا اجتماعی طور پر کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ بھی کو مزید وسیع تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے بے راہروی کی حدود و قیود کھل کر سامنے آتی ہیں لیکن شاید انسان یہ سارا کچھ دیکھ نہیں سکتا گوشت پوست کے بنے اس بت کی بھی تو کوئی قوت برداشت کی حدود و قیود ہیں۔ اس کے اندر کے انسان اور شیطان کا بھی کوئی رول ہے اب اس نے یا تو اندر کے انسان کو مارنا ہے اور یا پھر اندر کے شیطان کو مارنا ہے۔اگر یہ ڈبل مائنڈڈ ہو جاتا ہے تو پھر ڈیپریشن، مایوسی، اضطراب، پریشانی،بے چینی اور غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی آج کی بے راہروی ہے۔

تصوف کی تعریف،تاریخ،تنقید اور توصیف ایک لمبی بحث ہے۔ مختصراً یہ کہ یہ دین اسلام کی تعلیمات کا ہی وضاحتی پروگرام ہے جس کے خدو خال یہ ہیں کہ انسان کی اللہ تعالیٰ نے لفظ "کن" فرما کر تخلیق فرمائی اور الست بربکم اور "قالو بلیٰ" کے عہد و پیمان کی بدولت انسان کو دنیا میں اتارا گیا۔ اب اس پر لازم ہے کہ وہ اس عہد کی پاسداری کرے۔ اہل تصوف اسی بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ اے انسان تو اپنے اندر جھاتی مار اور اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کر کہ شایدیہی کوشش تجھے اللہ سے ملا دے یعنی تو واصل بالحق ہو جائے گا۔ تو یہ جان جائے گا کہ تیرا دنیا میں قیام مختصر ہے اور تیرا دنیا میں آنا محض ٹورا پھیرا نہیں اس کا ایک خاص مقصد ہے اور اس مقصد کی پاسداری تجھ پر لازم ہے۔ تو نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ اپنے ہم جنسوں کی ڈور ناکنگ کرنی ہے۔

شام سے پہلے بھانڈا بھرنا وقت کی ضرورت ہے۔یہی وہ ضرورت ہے جو نفرت، حسد، بغض، عداوت،حرص،لالچ جیسی لعنتوں کا خاتمہ کرتی ہے اور مواخات قائم کر کے ریاست مدینہ کا عملی نقشہ پیش کرتی ہے۔ لیکن اس سارے پروگرام کو قابل عمل بنانے کے لئے "میں " کو مار کے منج کرنا پڑتا ہے اور پھر منج کو بھی باریک پیسنا پڑتا ہے تب جا کر ”قالو بلیٰ“ کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی رحمت کے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔ پھر دنیا امن اور محبت کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ یوں تصوف کے مقصد کی تکمیل ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ بے راہروی کا علاج تصوف میں ممکن ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر تصوف سے موجودہ بے راہروی کا علاج ممکن ہے تو پھر اس سے چھٹکارا کیوں نہیں حاصل ہو رہا؟ بغور مطالعہ سے  یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تصوف کے بارے میں اتنی بحث ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اس کی اصل شکل کم ہی نظر آتی ہے۔ پیری مریدی نے تصوف کو مکمل طور پر ریپلیس کردیا ہے۔

جس میں نذر نیاز ٹیکس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پیر مریدوں کو رعایا سمجھ کر کاروبار تو کر ہی رہا ہے ساتھ سیاست بھی اس کے گھر کی لونڈی بن چکی ہے۔ دل میں جھانکنے کی بجائے وارثان اہل تصوف ارد گرد دیکھ رہے ہیں۔ ارتکاز دولت کی بدولت بے نیازی طمع اور لالچ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ بزرگان دین کی کتابوں کو طاق میں رکھ کر قصے کہانیوں کو عام کیا جا رہا ہے۔ لبرل طبقہ تصوف کو ناچ گانے سے تعبیر کر کے تصوف کا ٹکا کر استحصال کر رہا ہے۔ بعض حضرات تصوف کو قرآن سے متصادم علم ثابت کرنے کی بھی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس ساری تصویر کشی کامقصد یہ ہے کہ اصل تصوف تو یقینا موجودہ بے راہروی کا علاج ہے لیکن اس کی موجودہ صورت حال کوئی تسلی بخش نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ موجود ہ بے راہروی کا علاج مروجہ تصوف سے ممکن ہے۔ بہر حال قرآن فہمی آج کی اہم ضرورت ہے جس سے ہم دور بہت دور ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -