چاقو چل گئے

چاقو چل گئے
چاقو چل گئے

  

سینیٹ انتخابات میں چاقو چل گئے اور انتہائی خاموشی سے چل گئے۔ گراری والے چاقوؤں کی طرح کڑ کڑ کی آوازیں نہیں آئیں بلکہ جس خاموشی سے چلے، اسے خاموشی سے چلانے والوں نے چلا کر دوبارہ بند کرکے نیفوں میں اڑس لئے اور حکومت اب گرے دودھ پر واویلا کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمت عملی تو پوری پی ڈی ایم کی تھی، مگر کریڈٹ آصف زرداری کو ملا ہے، اور کیوں نہ ملے کہ ڈس کریڈٹ بھی تو اکیلے زرداری ہی سمیٹتے چلے آئے ہیں۔ آج اگر وہ خطروں کے کھلاڑی اور سب پر بھاری نظر آتے ہیں تو مسٹر ٹین پرسنٹ کا ہار بھی تو انہی کے گلے میں ڈالا گیا تھا اور انہوں نے دانت نکالتے ہوئے خوشی خوشی پہن لیا تھا۔ نوازشریف میسنے ہیں، بدنامی تو کیا بدنامی کے خوف سے بھی بھاگتے ہیں، مگر ان کی احتیاط  پسندی کو ان کی کرپشن بنا کر پیش کردیا جاتا ہے اور لوگوں کو بھٹو سے اس قدر پیار تھا کہ جھٹ سے یقین کر لیتے تھے۔ ان کے ساتھ یہی المیہ ہے کہ پاکستانیوں نے بھٹو کو اووراسٹیمیٹ اور نواز شریف کو انڈر اسٹیمیٹ کیا ہے۔

خیر سینٹ انتخابات کے دوران قومی اسمبلی میں جس انداز میں سارا دن خاموشی چھائی رہی اس کو دیکھ کر خیال آتا تھا کہ یا تو کچھ نہیں ہو رہا ہے یا پھر جو کچھ ہو رہا ہے، انتہائی خاموشی سے ہو رہا ہے۔ شام ڈھلے عقدہ کھل گیا اور سمجھ آئی کہ وہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھی، خاص طور پر جس خاموشی سے وزیر اعظم ووٹ ڈالنے کے بعد پتلی گلی سے قومی اسمبلی کے ایوان سے باہر نکلے اس سے تو بہت کچھ کھل کر سامنے آگیا۔ وگرنہ تو ہمارے پاس گیلانی صاحب کے جیتنے کی ایک ہی توجیہہ تھی کہ وہ سابق وزیر اعظم ہیں اور کسی بھی صورت اپنی پت گنوانے کے لئے سینٹ کی نشست پر قسمت آزمائی نہیں کریں گے۔ مقصد اگر محض ایک نشست جیتنا ہی ہوتا تو آصف زرداری اعتزاز احسن کو نہ کھڑا کر دیتے، مگر یہاں مقاصد اس سے بالاتر تھے، ایسے مقاصد کہ جن میں اعتزازا حسن فٹ نہ بیٹھتے تھے۔

اس میں شک نہیں کہ عمران خان نے جس انداز سے اڑھائی برس حکومت میں گزارے ہیں اس سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر جیتنے والوں کی کوئی قدروقیمت نہ تھی۔ بس وہی لوگ ان کے دربار میں معتبر ٹھہرے ہوئے تھے جو یا تو اسٹیبلشمنٹ سے مہریں لگوا کر آئے تھے یا پھر جو ان کے یار دوست تھے یا پھر اسد عمر کے یار دوست تھے۔ چنانچہ سینٹ انتخابات کے موقع پر ان بے قدروں نے اپنا سکور سیٹل کرلیا۔ اب عین ممکن ہے کہ اعتماد کے ووٹ کے مرحلے پر وہ دوبارہ سے اپنی پارٹی کے حق میں ووٹ ڈال دیں اور یوں بجٹ کے پیش ہونے تک عمران خان مزید وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہ سکیں، جس کے لئے نہ صرف وہ بلکہ خاتون اول بشریٰ بی بی بھی بھاگ دوڑ کرتی نظر آئیں کہ پناہ گاہ کو چیک کرنے کے بہانے داتا دربار دوڑی آئیں، مگر ان سے چوک یہ ہو گئی کہ جب ایک رپورٹر کے اکسانے پر کہہ بیٹھیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، اِس لئے اگر عمران خان کامیاب ہیں تو انہی کی وجہ سے ہیں۔ داتا علی ہجویری ؒکی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اتنا بڑا دعویٰ کون مائی کا لال کرسکتا ہے کہ بے سبب کی کامیابی اس کے سبب ہے۔ بس پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے کہ عمر بھر کے نماز روزے گنوا بیٹھیں!

اخباری اطلاعات کے مطابق سینٹ میں پی ڈی ایم کے پاس 53اور حکومت کے پاس 47 نشستیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یوسف رضا گیلانی اگلے چیئرمین سینٹ ہو سکتے ہیں اور اگر زرداری صاحب زیادہ مہربان ہوگئے تو یہ قرعہ فال شیری رحمٰن کے نام بھی نکل سکتا ہے، اسی لئے انہوں نے یہ معاملہ پی ڈی ایم پر چھوڑ دیا ہے۔ تاہم اس سارے گھن چکر سے یہ بات طے ہو گئی ہے کہ حکومت پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے اور وزیراعظم عمران خان کو جو زخم لگا ہے اس کا گھاؤ بہت گہرا ہے، یوں کہئے کہ گوشت مکمل طور پر پھٹ چکا ہے اور اندر سے ہڈی نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ ایسے میں اگر اعتماد کا ووٹ لینے جا رہے ہیں  اس دوران اگر ان کو قومی اسمبلی میں دستیاب اکثریت سے ایک آدھ ووٹ بھی کم ملا تو ساری ایکسر سائز کھو کھاتے میں جا پڑے گی اور وہ پہلے سے بھی زیادہ قابل رحم نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ انہیں ان کے مشیران کرام بے دست و پا کرنے میں کوئی کسر باقی چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔ 

بہتر یہ ہوگا کہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے معاملے کو جس قدر ممکن ہو لٹکائیں اور اگلے بجٹ کے بعد اپنے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد سے بچاؤ پر کام کریں،کیونکہ تحریک عدم اعتماد تو ان کے خلاف آنی ہی ہے، خواہ وہ اعتماد کا ووٹ لیں یا نہ لیں۔ یہی نہیں،بلکہ ڈسکہ میں دوبارہ سے ضمنی انتخاب کے دوران ان کے خلاف عوامی غیظ و غضب کا عالم انہیں مزید کمزور کردے گا اور اسی طرح فیصل واوڈا کی سیٹ پر ہونے والا ضمنی انتخاب بھی پی ڈی ایم کی جھولی میں جا پڑے گا۔ 

دوسری جانب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم اگلی چال کب چلتی ہے اور کیا واقعی اب لانگ مارچ کی ضرورت نہ ہوگی، بلکہ پی ڈی ایم اسے ماہ رمضان، عید اور بجٹ کے بعد پر اٹھارکھے گی!اس اعتبار سے اب سے آئندہ جتنی احتیاط کا مظاہرہ عمران خان کو کرنا پڑے گا اس سے کہیں زیادہ پی ڈی ایم  کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عمران خان کے ووٹ تو کم ہو سکتے ہیں، عمران خان کے فین کم نہیں ہیں!

مزید :

رائے -کالم -