کرشماتی جیت، پریشان کن شکست

 کرشماتی جیت، پریشان کن شکست
 کرشماتی جیت، پریشان کن شکست

  

میں نے 8 فروری 2021ء کے کالم بعنوان ”سید یوسف رضا گیلانی اور اقتدار کا ہما“ میں لکھا تھا…… سید یوسف رضا گیلانی کو اگر چیئرمین سینٹ کے لئے میدان میں اُتارا گیا تو کیا ہوگا؟ پی ڈی ایم تو ان کی حمایت کرے گی ہی کیا بعید کہ تحریک انصاف بھی انہیں اپنا امیدوار بنا لے۔ ابھی چیئرمین سینٹ کا مرحلہ تو باقی ہے۔ تاہم سینٹ کا ممبر بنانے کے لئے تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی کی طرف سے سید یوسف رضا گیلانی کو بھرپور سپورٹ ملی ہے۔ انہیں دس ارکان نے ووٹ ڈالے اور سات نے ووٹ خراب کئے یوں گیلانی صاحب 169 ووٹ لے کر حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ یہ کالم شائع ہوا تو مجھے تحریک انصاف کے چند دوستوں نے فون کر کے طعنے دیئے کہ میں بے پر کی اڑا رہا ہوں۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی واضح اکثریت ہے اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں مل کر بھی اس اکثریت سے کم از کم بیس ووٹ دور ہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی رکن سینٹ ہی منتخب ہو سکیں چیئرمین سینٹ بننا تو نا ممکن سی بات ہے اس کے بعد بھی میں نے اس موضوع پر دو کالم لکھے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ سید یوسف رضا گیلانی ایسے چھپے رستم ہیں  جن پر اسٹیبلشمنٹ کو بھی کوئی اعتراض نہیں  ہوگا۔

ایک کالم جو ”کیا سید یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے؟“ میں ماضی کے حوالوں سے یہ کہا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی سول و آمر حکمرانوں کے ادوار میں اہم عہدے اسی وجہ سے لیتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو کبھی اپنا مخالف نہیں بنایا۔ ایک ایسے تجربہ کار، منجھے ہوئے اور سرد و گرم چشیدہ امیدوار کے مقابلے میں عبدالحفیظ شیخ کو لا کر حکومت نے اپنی شکست کے اسباب خود ہی پیدا کر دیئے تھے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے اکثر ارکانِ اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی کے مرہون منت ہیں کئی ایک نے تو اپنے گھروں میں ان کے والد سید علمدار حسین گیلانی کی تصویر اپنے روحانی پیشوا کے طور پر لگا رکھی ہے سو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ گیلانی صاحب سینٹ الیکشن جیت گئے ہیں اب اپنی خفت مٹانے کے لئے حکومتی وزراء بے شک یہ کہتے رہیں کہ ووٹوں کو خریدا گیا ہے حالانکہ ملتان کے لوگ جانتے ہیں کہ  سید یوسف رضا گیلانی عام انتخابات میں مختلف برادریوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے اپنا سیاسی اثر و رسوخ تو صرف کرتے ہیں، پیسہ ایک نہیں دیتے۔

جس دن وزیراعظم عمران خان نے پارلیمینٹ میں بیٹھ کر ارکانِ اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کی تھیں میں نے دوستوں کی ایک محفل میں اسی دن کہا تھا کہ جس نے کپتان کو یہ مشورہ دیا ہے، وہ ان کا کوئی خیر خواہ نہیں ہو سکتا اس سے لا محالہ یہ تاثر ابھرا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر ایک بغاوت موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لئے عمران خان کو خود سامنے آنا پڑا ہے، مگر اس کا الٹا یہ تاثر گیا کہ اب اڑھائی سال بعد وزیراعظم کو ارکانِ اسمبلی کی یاد آئی ہے پہلے ان کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی تھیں اور کپتان تک انہیں پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ پھر یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ایسے مواقع پر کئے گئے وعدے اور دی گئی گرانٹیں کیا معنی رکھتی ہیں سو جن ارکانِ اسمبلی سے خطرہ تھا، شاید ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں بھی ہوا کا رخ نہ بدل سکیں۔

اس بار یہ بھی لگتا ہے کہ حکومت کی انٹیلی جنس بہت کمزور تھی یا پھر ارکانِ اسمبلی نے انتہائی مہارت اور رازداری سے اپنی ”بغاوت“ کو چھپائے رکھا۔ حکومت کو اتنا تو پتہ تھا کہ کوئی گڑبڑ ہو سکتی ہے، اسی لئے پے در پے ایسے اقدامات اٹھائے گئے جو حکومت کی اضطراری حالت کو ظاہر کرتے تھے۔ مثلاً سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس،اسمبلی میں اوپن بیلٹ کا ترمیمی بل اور پھر صدارتی آرڈیننس۔ بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے تمام وزراء اس بات میں جت گئے کہ خرید و فروخت کا بازار گرم ہونے والا ہے اس لئے اسے روکنا ہے اب ظاہر ہو گیا ہے کہ بے وفائی کرنے والے تمام ارکانِ اسمبلی کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جتنی کوششیں اور زور سپریم کورٹ سے ترمیم کرانے پر صرف کیا گیا، اس سے کہیں کم توجہ اپنے ارکانِ اسمبلی کی شکایات اور ناراضی کے ازالے پر صرف کی جاتی تو شاید تحریک انصاف کو سینٹ کی یہ عبرت ناک شکست نہ ہوتی۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کو اسلام آباد کی نشست پر سید یوسف رضا گیلانی کے مقابل اتارا ہی کیوں گیا؟ جب یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنا ووٹ اسلام آباد منتقل کرا لیا ہے اور وہ اسلام آباد کی نشست پر انتخاب لڑیں گے تو تحریک انصاف کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی چاہئے تھی۔ عبدالحفیظ شیخ کو پنجاب یا خیبر پختونخوا کی نشست سے انتخاب لڑانا چاہئے تھا اگر سید یوسف رضا گیلانی کا ووٹ اسلام آباد منتقل ہو سکتا ہے تو عبدالحفیظ شیخ کا بھی لاہور یا پشاور منتقل ہو سکتا تھا سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں کسی سیاستدان کو میدان میں لایا جاتا تو شاید پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی اس طرح ”بغاوت“ نہ کرتے جس طرح انہوں نے کی، عبدالحفیظ شیخ ایک غیر سیاسی آدمی ہیں جو ارکانِ اسمبلی سے کبھی ملتے ہیں نہ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کی وفاداری اقتدار کے ساتھ ہے، وہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) حتیٰ کہ آمرانہ دور میں بھی وزیر خزانہ کے طور پر ایڈجسٹ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے حالات میں اس بات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا کہ اسلام آباد کی ایک جنرل نشست پر انہیں الیکشن لڑانے کا رسک لینے کی بجائے کسی اور جگہ سے لڑایا جائے تاکہ متناسب نمائندگی کے تحت ان کی جیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

خیر اب تو جو ہونا تھا ہو گیا۔ حکومت کے خلاف نئے محاذ کھل گئے ہیں پی ڈی ایم نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ شکست کے فوراً بعد پریس کانفرس کرتے ہوئے وفاقی وزراء نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ کیا اعتماد کا ووٹ لینے سے جو عموماً شو آف ہینڈ یا لابیوں میں تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے، حکومت پر دباؤ کم ہو جائے گا؟ کیا اپوزیشن جو پہلے ہی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے لنگوٹ کس کر بیٹھی ہے اس اقدام سے خاموش ہو جائے گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیا کپتان اپنی اسی معاشی ٹیم کے ساتھ قوم کو مطمئن کر سکیں گے۔ آخر ان کے خلاف سترہ ارکان اسمبلی نے بغاوت کیوں کی ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ارکانِ اسمبلی اب مہنگائی اور برے معاشی حالات کی وجہ سے اپنے ووٹروں کا سامنا نہیں کر پاتے جس کا اظہار انہوں نے سینٹ انتخابات میں کیا، حقیقت یہ ہے کہ کپتان کو اب ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔ صرف اپوزیشن کو چور لٹیرے کہنے سے بات نہیں بنے گی عوام کے لئے عملی اقدامات سے حالات سازگار نہ بنائے گئے تو بھریا میلہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -