گیلانی جیت گئے جمہوریت ہار گئی؟

گیلانی جیت گئے جمہوریت ہار گئی؟
گیلانی جیت گئے جمہوریت ہار گئی؟

  

تین مارچ سینیٹ کے انتخابی معرکے کے دن ہمارے گروپ ایڈیٹر محترم ایثار رانا نے روزنامہ ”پاکستان“ کے صفحہ اول پر اپنے تجزیے میں فرمایا تھا کہ سینیٹ نے جمہوریت کو برہنہ کر دیا، دولت کے انبار،ارکان کے اغوا، ضمیرکی خرید و فروخت اسمبلیوں میں مار پیٹ جمہوریت کو اتنا برہنہ نہ کر دے کہ اسے ڈھانپنے کے لئے کوئی اور سسٹم مجبوری بن جائے، گیلانی صاحب سینیٹ کے چیئرمین حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب عمران خان وزیراعظم اور صدرِ پاکستان کے آگے خالی سوالیہ نشان کی سوشل میڈیا پر گردان، زرداری سیاست کے گند، نئی کہانی کا شاخسانہ قرار دی جا رہی ہے اسمبلی میں پولنگ کے دوران بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی طرف سے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے ساتھ گروپ فوٹو عوام کو تاریخ یاد دِلا رہی تھی، آئی ایم ایف کے نمائندے کو شکست دینے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ”زندہ ہے بھٹو زندہ“ کا نعرہ لگانے والے قوم کو بتا دیں حفیظ شیخ کون ہے۔ پیپلزپارٹی کا وزیر خزانہ، مسلم لیگ(ن) کا وزیر خزانہ یہ وہی حفیظ شیخ ہے جو سب کی آنکھوں کا تارا تھا اور رہے گا۔

گیلانی کی جیت کا طعنہ جمہوریت کے علمبردار کس کو دیں گے اس میں کوئی شک نہیں گیلانی کی فتح حکومت کو شکست ہے اس سے عوام کو کیا ملے گا، جمہوریت کو کیا ملے گا، بڑی معذرت کے ساتھ ڈسکہ الیکشن سے شروع ہونے والی انہونی کہانی سینیٹ الیکشن کے انعقاد کے بعد ختم نہیں ہوئی۔ڈسکہ کے الیکشن میں پولنگ افسروں کے غائب ہونے کا نوٹس ضلعی انتظامیہ کے تبادلے الیکشن کمیشن کی طرف سے ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کا اعلان بظاہر بڑا خوش آئند ہے،الیکشن کمیشن کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے مگر سینیٹ الیکشن سے پہلے علی گیلانی اور ناصر شاہ کی مبینہ وڈیو کا معاملہ پولنگ سے پہلے یوسف رضا گیلانی صاحب کی طرف سے کامیابی کا اعلان الیکشن سے پہلے زرداری صاحب کی طرف سے گیلانی کی فتح کا اعلان، الیکشن کمیشن کی طرف سے صرف نوٹس لینا الیکشن کمیشن کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا، بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے زرداری نے ایک دفعہ پھر ثابت کیا ہے زرداری سب پر بھاری،مگر لفظ زندہ رہتے ہیں۔

شاہ بکتے ہیں، فقیر بکتے ہیں 

جہاں فقیر و کبیر بکتے ہیں! کچھ سرعام، کچھ پس ِ دیوار بکتے ہیں!اس شہر میں ضمیر بکتے ہیں، یہاں تہذیب بکتی ہے! یہاں فرمان بکتے ہیں!

ذراتم ”دام“ تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں! یہ نظم نئی ہے بہت پرانی ہے، مگر ہمارے ہاں سب کچھ نیا ہے جمہوریت کا کمال ہے ہر دور میں غسل واجب ہوتا ہے اس کے بعد سب کچھ نیا ہو جاتا ہے، زیادہ دور کی بات نہیں پی ڈی ایم کی ساری جماعتوں کے نعرے وعدے منشور صرف چند منٹوں کے لئے سامنے رکھ لیا جائے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ اوپن بیلٹ دھاندلی کا راستہ روک سکتا ہے، خرید و فرخت روک سکتا ہے، اگر یہ پی ڈی ایم کرے تو ایسا ہو سکتا ہے،عمران خان نے ایسا کیا ہے تو یہ غلط ہے۔

اگرجمہوریت ہے تو جلد عوام توبہ توبہ کرنے لگے گی، میرے بزرگ ہیں گزشتہ روز انہوں نے گاڑی میں بیٹھے ہی مبارک باد دی اور کہا کہ گیلانی جیت گئے، مَیں نے جواب میں پوچھا پھر کیا ہو گا، فرمانے لگے ہمارا مقصد عمران سے نجات ہے۔ مَیں نے سوال کیا آپ سمجھ لیں اس کو اتار دیا ہے قوم کو اس سے نجات مل گئی اس کی جگہ کس کو لائیں گے، بزرگ فرماے لگے یہ مَیں نہیں جانتا پی ڈی ایم کالے چور کو لے آئے اس کو دفعہ کر دے، مَیں نے تنگ کرنے کے لئے پھر پوچھ لیا، کالے چور کو کیوں لائیں آپ کے پاس تو گیارہ جماعتیں ہیں مجھے بتائیں آپ کی تنخواہ بڑھ جائے گی، چینی آٹا،گھی، تیل سستا ہو جائے گا، بے روزگاری ختم ہو جائے گی، میرے بزرگ کا جواب  تھا مجھے یہ نہیں پتا بس اس کو بھیج دیں۔

میرے قارئین! سوال جواب کا خود جائزہ لیں اور فیصلہ کریں ہم کس طرف جا رہے ہیں ہم اقتدار میں لانے کے لئے بھی سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں اور امیدیں بھی پہاڑ جیسی باندھ لیتے ہیں اور ایوان میں پہنچانے کے بعد اسے الٰہ دین کا چراغ بھی نہیں دیتے کہ وہ ایوان وزیراعظم ہاؤس پہنچ کر پھونک مارے اور سارے مسئلے حل کر دے، ہم بے صبری قوم ہیں چٹکی میں مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ موجودہ جمہوری رویوں نے عوام کو جو تلخ حقیقتوں سے روشناس کرایا ہے باریاں لینے کی سیاست کو پروان چڑھایا ہے اس کا اصل امتحان اب آیا ہے، پہلے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی باریاں تھیں اب بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی گیارہ جماعتوں کا مقابلہ ہے۔ سرخ سبز پاکستان سے بات آگے بڑھ چکی ہے، سیاست اور مذہب پر خاندانی ڈکٹیٹر شپ کا راج ہے۔ وطنِ عزیز کو نوچ نوچ کر کھانے والے نجس گدھ مادرِ وطن کو نوچ رہے ہیں،انتہائی تشویشناک حقیقت ہے۔سیاسی اور مذہبی کلچر کے علاوہ کرپشن پورے معاشرے کی جینز میں سرایت کر چکی ہے۔ کنواں نجاست کو نکال کر ہی پاک ہو سکتا ہے، سیاسی مداری اپنی اپنی بساط کے مطابق کنواں گند سے مزید بھر رہے ہیں۔پاک وطن کو اس سے نجاست سے پاک کرنا،ان جمہوریت سے عاری جماعتوں کے بس میں نہیں،عوام کو بیدار ہونے اور حقیقی جمہوریت لانے کے لئے بڑا فیصلہ کرنا ہو گا،کبھی تو سوچنا ہو  گا، کبھی تو روکنا ہو گا،پیشہ ور سیاست دانوں کو کون روکے گا کب تک ان کے کھیل میں شامل رہیں گے، یہ میرے اور آپ کے سوچنے کی بات ہے آئیں مل کر سوچیں۔

مزید :

رائے -کالم -