سلیم صافی الیکشن کمیشن کے گرویدہ ہو گئے ، شاباشی دینے کے ساتھ ماضی کا طعنہ بھی دے دیا

سلیم صافی الیکشن کمیشن کے گرویدہ ہو گئے ، شاباشی دینے کے ساتھ ماضی کا طعنہ ...
سلیم صافی الیکشن کمیشن کے گرویدہ ہو گئے ، شاباشی دینے کے ساتھ ماضی کا طعنہ بھی دے دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کے قوم سے کئے جانے والے خطاب پر الیکشن کمیشن کی جانب سے شدید  ردعمل نے سینئر صحافی سلیم صافی کو خوش کردیا اور اسی خوشی میں انہوں نے پہلے الیکشن کمیشن کو شاباشی دیتے ہوئے تھپکی دی تاہم ساتھ ہی اُنہوں نے الیکشن کمیشن کو اس کے تین سالہ کردار پر طعنہ دیتے ہوئے شکوہ بھی کردیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے الیکشن کمیشن پر کی جانے والی سخت تنقید پر الیکشن کمیشن نے جوابی ردعمل دیا تو  مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر قومی ادارے کی پریس ریلیز شیئر کرتے ہوئےاپنے ٹویٹ میں معروف تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا تھا کہ  "ویل ڈن الیکشن کمیشن، حکومت کے منہ پر الیکشن کمیشن کا ایک اور اصولی، آئینی اور قانونی طمانچہ ہے ۔سلیم صافی نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں شکوہ کے انداز میں طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا کہ  الیکشن کمیشن گذشتہ تین سال کےدوران بھی اسی طرح اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتااورلاڈلے کی خاطر آرٹی ایس فیل کرنےسےلےکرپارٹی فنڈنگ کیس کولٹکانے تک جیسےجرائم کامرتکب نہ ہوتا تو آج پاکستان کی یہ حالت ہوتی اور نہ پہلی مرتبہ آئینی کردار ادا کرنے پر اسے اس نازیبا ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں وزیراعظم  عمران خان اور وزراءکی جانب سے لگائےجانے والے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم  کے خطاب میں لگائے گئے الزامات سن کر دکھ ہوا ہے،ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالا جائے،کسی کے دباؤ میں آئے ہیں نہ آئندہ آئیں گے،کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتے، کسی کو فیصلوں پر اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کرے۔وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا انہیں پارلیمنٹ سے منظورکرانے میں کیا رکاوٹ تھی؟ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے۔

مزید :

قومی -