پاکستان میں خوفناک حالات

پاکستان میں خوفناک حالات
پاکستان میں خوفناک حالات
کیپشن:   sabiq justice سورس:   

  

قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان میں پاکستانی ایک دوسرے کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پاکستانی قوم کا مستقبل تاریک تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ 99.9فیصد پاکستانی اس سے سخت پریشان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس جنگ کو جلد از جلد ختم کر دیا جائے۔ زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا بھی علم نہ ہے کہ یہ خانہ جنگی کیوں ہو رہی ہے؟ وہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور ان کے مطالبات کیا ہیں؟ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے پاکستانی سرحدی بھائی محب وطن ہیں۔ خدانخواستہ وہ پاکستان کے خلاف نہ ہیں۔یہ سارے لوگ ہمیشہ سے پاکستان کی آزادی کی جنگ میں صف اول میں شامل ہوئے تھے۔یہ تاریخی واقعہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس وقت کے سرحدی اور حال کے صوبہ خیبرپختونخوا میں لوگوں نے یک زبان ہو کر رائے شماری میں پاکستان کی حمایت کی تھی۔وہ لوگ آٹے کے نمک کے برابر تھے، جو پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ان لوگوں کا ہندوستان اور پاکستان کے متعلق علیحدہ اپنا نکتہ نظر تھا۔ان کے خیال کے مطابق برصغیر کے مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر کمزور ہو جائیں گے۔ان کا یہ نظریہ آج سو فیصد غلط اور بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے۔آج اس خطے کے مسلمان دنیا کی ایک عظیم طاقت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ اس طاقت کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے۔ پاکستان دنیا کی ایک ایٹمی طاقت ہے۔ افواج پاکستان دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہیں۔کوئی بھی طاقت آج پاکستان کی طرف میلی نظر سے نہ دیکھ سکتی ہے۔ 1948ئ، 1965ءاور 1971ءکی جنگوں کے بعد بھارت کے ہاں بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بن چکا ہوا ہے۔ یقینی طور پر آج کا پاکستان 1946-47ئ، 1965ءاور 1971ءوالا پاکستان نہ ہے۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔صدیوں سے پاکستان کے تمام حصے ایک یونٹ کی حیثیت سے موجود رہے ہیں۔یہی وجہ ہے پاکستان بغیر کسی جنگ کے قائداعظم محمد علی جناح ؒکی قیادت میں بن گیا تھا۔

دشمن تو روز اول سے پاکستان کے خلاف تھا۔ وہ تو مسلمانوں کے وجود کو ہی ختم کر دینے کی خواہش رکھتا تھا۔ 1947ءمیں کروڑوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا۔ لاکھوں مسلمانوں کو اپنے گھروں سے زبردستی خون خرابہ کے بعد بے دخل کر دیا گیا تھا۔ وہی کروڑوں لوگ آج پاکستانی قوم کا جزوِ لاینفک بن چکے ہوئے ہیں۔ان لوگوں کا بے مثال جذبہ ہے ۔وہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار رہتے ہیں۔مَیں خود ان لوگوں میں سے ایک ہوں۔دشمن کو اس بات کا بھرپور احساس ہو چکا ہوا ہے کہ وہ جنگ سے کبھی بھی پاکستان کو نیچا نہ دکھا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن نے اپنی چال کو سرے سے ہی تبدیل کردیا ہوا ہے۔دشمن نے 1971ءمیں خانہ جنگی سے ہی پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا تھا۔اب بھی بھارت پاکستان میں اسی طرح کی سازش پر عمل کررہا ہے۔ بھارت کبھی بھی اس ناپاک سازش میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔بنگلہ دیش کے لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ان کے دل ہمارے ساتھ دھڑکتے ہیں۔وہ بھارت کی تمام چالوں سے واقف ہو چکے ہیں۔یہ ہمارے سیاست دانوں کی نااہلی ہے کہ مشرقی اور مغربی مسلمانوں کے درمیان کوئی قابل عمل قسم کا اتحاد نہ ہو سکا ہے۔جلد وہ وقت بھی آئے گا، جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دو آزاد خود مختار ملکوں کی کنفیڈریشن معرض وجود میں آئے گی۔

خیبرپختونخوا کے لوگ پہلے بھی پاکستانی ہیں اور وہ آخر میں بھی پاکستانی ہیں۔ ان میں اسلام اور پاکستان کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔وقت کی یہ ایک اہم ترین ضرورت ہے کہ ان ناراض پاکستانیوں کی بات کو غور سے سنا جائے اور ان کے تمام مطالبات کو آئین پاکستان کے تحت پورا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ایک اطلاع کے مطابق وہ اسلامی آئین کا نفاذ چاہتے ہیں۔میری سوچ کے مطابق پاکستان کے قوانین اسلامی ہیں۔جن قوانین کو ہمارے علما غیر اسلامی کہتے ہیں۔ان تمام قوانین کو قرآن و سنت کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔قرآن کی تعلیمات ابدی ہیں۔آنے والے اوقات کی تمام ضروریات کو بھی قرآن کی روشنی میں پورا کیا جا سکتا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی قرآن پاک کے سنہری اور ابدی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ساری کی ساری سائنس سوچ ہے۔قرآن بھی انسانوں کو بار بار سوچ و بچار کی دعوت دیتا ہے۔اسی سوچ کی بدولت ہی انسان آج چاند پر پہنچ چکا ہے۔ سائنس کے تحت ابھی تو اور حیرت انگیز انکشافات جلد ہونے والے ہیں۔

میرا اس بات پر پورا یقین ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات سے ہی تمام قسم کے اپنے مسائل کو حل کر پائیں گے۔ہم میں بے مثال اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا۔ قرآنی سوچ سے ہم میں اتحاد ہوگا اور اسی سوچ ہی سے ہم معاشی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی کریں گے۔یہ بات یاد رکھی جائے کہ آج کی دنیا کاسارا معاشی نظام سود کی بنیاد پر رکھا گیا ہے۔غور کریں کہ ہم 60ارب ڈالر کے مقروض ہیں۔اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم قرض لے کر قرض پر اٹھنے والی سود کی رقوم دنیا کو واپس کرتے ہیں۔قرضوں کے جال میں ہم لوگ بُری طرح پھنس چکے ہوئے ہیں۔ خواہش کے باوجود مستقبل قریب میں ہم اس سودی نظام سے باہر نہ آ سکتے ہیں، اگر واقعی ہم بیرونی قرضوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو اس کام کے لئے ہمارے پاس ایک راستہ موجود ہے۔حال ہی میں امریکی ذرائع نے یہ خبر دی ہے کہ پاکستان کے امیر لوگوں نے دنیا کے بنکوں میں83کھرب ڈالرز جمع کرا رکھے ہیں۔ اِن لوگوں میں پاکستان کے تمام بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ قانون سازی سے اس دولت کو واپس پاکستان منگوایا جا سکتا ہے، اِسی رقم سے ہم اپنے تمام بیرونی قرضوں کو ”چشم زدن“ میں واپس ادا کر سکتے ہیں۔

لوگوں میں مایوسی اور محرومی کے احساسات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے بعض لوگوں نے کھل کر بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ مہنگائی انتہا کو پہنچ چکی ہے، لوگ بھوک اور غربت کے ہاتھوں تنگ ہو کر خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تھر کے علاقے میں خوفناک قحط پڑا ہوا ہے۔ ”بھوک اور پیاس“ سے لوگ مر رہے ہیں۔ ”زندگی تو ایک بار ہی ملا کرتی ہے“۔ کیا یہ حکمرانوں اور سیاست دانوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ ان فاقہ کشوں کی امداد کے لئے اپنے ذاتی اور ملکی خزانوں کا رُخ اِن قحط زدہ علاقوں کی طرف موڑ دیں۔ ان لوگوں کو مفت راشن دیا جائے، ان لوگوں کے روزگار کے متعلق کوئی مستقل منصوبہ بندی کا قیام ضروری ہو گیا ہے۔

اس بات کو سامنے رکھا جائے گا کہ تباہ حال لوگوں میں سے کم از کم ہر خاندان سے ایک فرد کو جنگی بنیادوں پر روزگار دیا جائے گا۔ حکومت کا یہ فرض اول ہے کہ وہ پورے پاکستان سے ان غربت اور قحط زدہ علاقوں کو جدید سڑکوں سے ملا دے۔ اس طرح تیز رفتاری سے ان آفت زدہ لوگوں کی مدد کی جا سکے گی۔ یہ کتنی خوفناک بات ہے کہ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں وہ لوگ ابھی تک بامقصد تعلیم سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک سازش ہے،جس کے تحت کروڑوں پاکستانیوں پر ابھی تک جدید علوم کے دروازے نہ کھل سکے ہیں۔ جان بوجھ کر اگر اس سازش پر عمل ہو گا، تو یہ بات غداری کے ذمہ میں شامل ہو گی۔ ذرا پاکستان کے کونے کونے میں گندگی اور کچرے کے ڈھیروں کو دیکھ اور ساتھ ہی بے انتہا مکھیوں اور مچھروں کو دیکھ کر جو دن رات انسانوں کے قتل ِ عام میں مصروف ہوتے ہیں۔ ”مکھی مچھر وبا“ کو ختم کرنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہ ہو گی۔ یہ تو انسانی ہاتھوں کا کام ہے۔ چند روز میں ان انسانی ہاتھوں سے گندگی کے لاتعداد ڈھیروں کو ہٹا کر ”مکھی اور مچھر“ کی تباہی سے انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف، آصف علی زرداری،عمران خان اور دوسرے رہنما اپنے ہاتھوں میں جھاڑو تھام کر پاکستان میں صفائی کا آغاز کریں۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے کروڑوں لوگ بازاروں گلی کوچوں کی صفائی کے لئے باہر نکل آئیں گے اور گندگی کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ مَیں خود ان لوگوں میں شامل ہونے کے لئے تیار بیٹھا ہوں، ”اپنے گھر کا باتھ روم مَیں خود صاف کرتا ہوں“ صفائی سے متعلق اکثر پروگرام ٹیلی ویژن پر آتے رہتے ہیں۔ہمارے حکمران ایسے پروگرام دیکھا کریں، غربت، جہالت، بیروز گاری، بے بسی اور بے کسی کو تو ہمارے حکمران ختم نہ کر سکے ہیں۔ کم از کم وہ ”پاکستان سے گندگی“ کو تو مکمل طور پر ختم کریں، تو مَیں اُن کا شریک کار بننے کو تیار ہوں گا۔ ہمارے حکمران یورپ اور امریکی ملکوں کی صفائی کی حالت کو دیکھیں کہ کس طرح ان قوموں نے اپنے ملکوں کو جنت کا ٹکڑا بنا رکھا ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں، لوگوں کو ”عام تعلیم دو“،” اُن کو پینے کا صاف پانی دو“، ”اُن کو سانس لینے کے لئے صاف ہوا دو“ اگر حکمران اپنے محلات سے بار نکل آئیں تو یہ کام کئے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کی خانہ جنگی پر بحث ہو رہی تھی۔ جب پاکستانی قوم کو کسی مثبت کام کرنے پر لگا دیا جائے گا، تو لازمی طور پر یہ شدت پسندی ختم ہو جائے گی۔ تعلیمی بجٹ میں کم از کم5فیصد رقوم رکھیں، جنگی بنیادوں پر سارے پاکستان سے جہالت کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمارے تمام مسائل کا حل جدید تعلیم کو عام کرنے میں موجود ہے۔ یہ تعلیم کا کام کل نہیں، آج کرنا پڑے گا۔ اس طرح ساری سوئی ہوئی قوم یک دم جاگ اُٹھے گی۔ چین، کوریا، ملائیشیا، سنگاپور وغیرہ ترقی یافتہ دنیا کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ شرط صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اور حکمران ایماندار اور دیانت دار ہو جائیں۔ ٹیلی ویژن کی وجہ سے ساری دنیا سکڑ کر واقعی ایک گاﺅں کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ہمارا راستہ بھی دنیا کے راستوں کے ساتھ ہو گا۔ ایسا کر کے ہی ہم جہالت کا خاتمہ کر سکیں گے۔ ”وہم شک گمان“ کی دنیا سے باہر نکل کر اصل دنیا میں داخل ہونا پڑے گا۔ اصل دنیا وہی ہے، جس میں ہر شخص دن رات محنت سے کام کر کے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں کو بدل دینے کا عزم رکھتا ہے۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ نے عقل دے رکھی ہے۔ تعلیم سے اس عقل میں اور نکھار پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ علم کی سیڑھی پر چڑھ کر اپنے دل و دماغ کی مراد کو پا لینا ہے۔ سارے پاکستان میں پانی کی کمی ہے۔ بعض پاکستانی علاقوں میں تو کربلا کا سماں نظر آتا ہے۔ ابھی تک کالا باغ ڈیم کیوں نہ بنایا گیا ہے؟ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ اسی طرح کی صورت حال سے پنجاب کے دور دراز کے علاقے دوچار ہیں۔ کالا باغ ڈیم اور دیگر بے شمار چھوٹے بڑے ڈیم جنگی بنیادوں پر تعمیر ہوں گے، تو پھر ہی پانی کی ”قحط سالی“ ختم ہو گی۔ مَیں نے یہ بات پہلے بھی کہی ہے اور اس کو پھر کہتا ہوں کیونکہ ”کالا باغ ڈیم“ کی انتظامیہ پاکستان کے چھوٹے صوبوں پر مشتمل ہو گی۔

آزاد کشمیر بھی ان میں شامل ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح کا اگر کوئی قدم اٹھایا گیا تو پھر مذکورہ ڈیم کی تعمیر پر کسی بھی صوبے کو کسی قسم کا اعتراض نہ ہو گا۔ اسی سال 2014ءمیں ہی کالا باغ ڈیم پر کام شروع کرنا پڑے گا۔ منگلا ڈیم بھی تقریباً اسی طرح کے اعتراضات اور مخالفت کے باوجود بنایا گیا تھا۔

مزید :

کالم -