چراغ حسن، ہائے ہائے حسرت

چراغ حسن، ہائے ہائے حسرت
 چراغ حسن، ہائے ہائے حسرت
کیپشن: tariq mateen

  

چراغ حسن حسرت کو مَیں دن رات دیکھتا ہوں ۔ وہ بڑے ہی انر جیٹک نظر آتے ہیں یا نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مَیں نہیں جانتا، لیکن ایک بات بتاﺅ¿ں ان کے اسٹیمنا کا معترف مَیں نے بڑے سے بڑا صحافی دیکھا ہے۔ انہوں نے خود کو بڑا ”فٹ“ رکھا ہوا ہے۔ ان کی شخصیت بھی بہت خوبصورت ہے اور وہ بڑی حد تک قادرالکلام بھی ہیں، پھر کچھ سال گزرے، انہوں نے اپنی شخصیت میں چار چاند بھی ”اگوائے“ تھے ۔ چراغ حسن حسرت کو مَیں نے ہمیشہ ہوا کے ”گھوڑوں “ پر سوار دیکھا ہے ۔ ایک آدھ گھوڑے کی سواری سے ان کا کام نہیں چلتا۔ ابھی لاہور میں ہیں، تو آن کی آن میں فیصل آباد میں، پھر لمحوں میں وہ ڈی جی خان میں نظر آتے ہیں۔ وہ بس انگلی کی ایک جنبش سے کیسے کیسوں کو ایسا ویسا کر دیتے ہیں ۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ ان کے سامنے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ وہ تقریر بھی بہت خوب کرتے ہیں۔ مجمع میں آگ لگا دیتے ہیں۔ مخالف کو ٹکا کے ٹکا سا جواب دیتے ہیں۔ مجمع کی نبض پڑھتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ کہاں کیا بات کرنی ہے۔ انہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے اور وہ اس بات کو اپنے خطاب میں ثابت بھی کرتے ہیں۔ وہ خوش گلو بھی ہیں اور اسی بنا پر ان کا خطاب شعلہ بیانی اور خوش الحانی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کو شاعر نے یہ طعنہ دیا تھا :

ہر زمانے میں زمانے کا گلہ کرتے ہیں

یہ ہیں وہ لوگ جو ماضی میں رہا کرتے ہیں

انہوں نے خود کو بدلتے وقت کے ساتھ بدلا بھی ہے۔ نئے زمانے کے نئے تقاضوں کے مطابق انہوں نے خود کو ٹویٹر، فیس بُک اور میڈیا کا شاطر کھلاڑی ثابت کیا ہے۔ وہ فی زمانہ میدان سیاست کے چار بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ صرف بڑے کھلاڑی ہی نہیں، بلکہ کامیاب بھی ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں۔ وہ وقت کے بڑے پابند ہیں اور بعض اوقات تو وہ اس پابندی میں وقت کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس زیب تن کر کے زمین پر بیٹھنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ ان کے منصب کے لئے سرکاری طور ایک نام موجود ہے، لیکن زندہ دِلوں کے شہر لاہور کے اس چراغ حسن حسرت نے بتا دیا ہے:

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل

ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

چراغ حسن حسرت نے سرکاری طور پر موجود نام کو رد کردیا، خود کو خادم کا بہت اعلیٰ سا نام دیا ۔ مَیں نے دیکھا کہ لاہور کے وزیراعلیٰ نے کیسے مہینوں میں میٹرو بس کی ریل پیل کر دی۔ گو کہ اس دوران اطراف کی سڑکوں کو ضرورت سے زیادہ ادھیڑا اور اکھیڑا گیا، لیکن خیر ہے، آپ بس منصوبے کو گیہوں اور اطراف کی سڑکوں کو گھن مان لیجئے۔ ابھی حال ہی میں چراغ حسن حسرت نے ایک اور فلائی اوور دِنوں میں مکمل کر کے دکھلا دیا۔ چراغ حسن حسرت اپنے دل میں مظلومین کے لئے بڑا درد رکھتے ہیں اور اس کا اظہار وہ برملا کیا بھی کرتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے جلسوں میں فرماتے ہیں:

خوشبوو¿ں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے

اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہئے

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے

اس فلسفے پر مکمل یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ خود کو عدل سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کی زندگی کا سرسری جائزہ بھی یہ بتا سکتا ہے کہ وہ عدل کے ”صاحب اولاد“ پر کامل یقین رکھتے ہیں،بلکہ ”ایک سے زائد“ یقین رکھتے ہیں۔ مَیں نے چراغ حسن حسرت کے کئی انٹرویوز کئے ہیں۔ ”دنیا“ نیوز کی ہر سالگرہ پر وہ مہمان خصوصی ہوتے ہیں اور شرفِ میزبانی میرے حصے میں آتا ہے۔ وہ انٹرویو کے دوران قوم سے خطاب کی صلاحیت کا مظاہرہ ہر بار کر جاتے ہیں۔ مَیں نے ان کے ساتھ سیلاب کی کوریج کے دنوں میں کئی بار سفر کیا ہے، وہ انتھک کام کرتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی کوتاہی اُن سے سرزد ہوئی۔ انہوں نے مختلف مواقع پر تین مختلف ڈیڈ لائنز کے ساتھ لوڈشیڈنگ کا گلا گھونٹنے کا دعویٰ فرما دیا اور ہر دعوے کے ساتھ انہوں نے اجازت بھی مرحمت فرمائی کہ نہ کر سکوں تو میرا نام بدل دینا۔ اب اندھیرے کے ڈسے مجھ دکھیارے کو یہ سوجھی کہ ان کے نام سے ہی کچھ روشنی پیدا کرلوں تو چراغ حسن ان کا نام اور حسرت ہماری، تخلص ان کا۔

جنابِ چراغ حسن حسرت آپ چراغ پا نہ ہو جائیے گا، کیونکہ ہم سا نقاد آپ کو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا، جو 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شکوہ نہیں کر رہا، اس لئے کہ 12 گھنٹے بجلی آتی بھی تو ہے۔ یہ تو عوام پاگل ہیں، جو شہر شہر، گاﺅں گاﺅں احتجاج کا ڈھول پیٹتے ہیں، حالانکہ ان کے ساتھ تو کچھ بُرا نہیں ہوا .... پہلے بھی بجلی نہیں تھی، اب بھی نہیں ہے۔ بُرا تو تب ہوتا کہ ”بجلی یافتہ“ عوام کو بجلی سے محروم کیا جاتا۔ جو ان کا نہیں تھا، وہ ان کا نہیں ہے تو اس پر کیا احتجاج کرنا۔ یہ خواہ مخواہ ڈنڈے ونڈے اُٹھا کر گھروں سے نکل آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں، نجانے کیوں احتجاج کرتے ہیں، حالانکہ بجلی نہ ہونے پر احتجاج کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ یہ کہاں کی سمجھ داری ہے کہ شرجیل انعام میمن یہ کہہ دے کہ جس طرح شہباز شریف صاحب نے اوہ .... معاف کیجئے گا چراغ حسن حسرت نے احتجاج کیا تھا، ہم بھی کریں گے، جس طرح وہ مینار پاکستان کے سائے میں بیٹھے تھے، ہم قائداعظم ؒ کے مزار پر دھرنا دے دیں گے،جس طرح چراغ حسن حسرت نے پنکھے جھل کر دفتر لگائے تھے، ہم بھی لگائیں گے۔ یہ بھی کوئی طریقہ ہوا بھلا۔ نقال کہیں کے! آپ اس بات کو یاد رکھئے گا، جب وہ آپ کی نقالی کریں، عوام کو بتا دیجئے گا.... ”مشتری ہوشیار باش سندھ کے کچھ جعل ساز چراغ حسن حسرت کا طرز احتجاج چوری کر رہے ہیں“۔ احتجاج کرنے والے احتجاج کرتے رہیں گے اس سے بجلی تو آنے سے رہی،کیونکہ :

ظلمتوں کا اک نگر آباد ہو چکا ہے اب

روشنی کا ہر سپنا برباد ہو چکا ہے اب

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

ظلم خود عدل کی اولاد ہو چکا ہے اب

مزید :

کالم -