فحش فلموں کے شوقین افراد کے دماغوں پر تحقیق ،نتائج جان کر ہر کوئی توبہ پر مجبور ہوجائے

فحش فلموں کے شوقین افراد کے دماغوں پر تحقیق ،نتائج جان کر ہر کوئی توبہ پر ...
فحش فلموں کے شوقین افراد کے دماغوں پر تحقیق ،نتائج جان کر ہر کوئی توبہ پر مجبور ہوجائے

  


برلن (نیوز ڈیسک) فحش فلموں کے اخلاقیات اور کردار پر منفی اثرات تو ایک طرف، ان فلموں کے انسان کے دماغ پر مرتب ہونے والے خوفناک اثرات کے بارے میں جان کر بھی یقیناً ہر شخص کانوں کو ہاتھ لگائے گا۔

جرمنی کے مشہور اور معتبر تحقیقاتی ادارے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے حال ہی میں فحش فلموں کے دماغ پر اثرات جاننے کے لئے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق میں 21سے 45 سال عمر کے 64 افراد کے دماغوں کا ایم آر آئی تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق فحش مواد دیکھنے کے دوران دماغ کے دائیں کاڈیٹ آف سٹرایا ٹم میں گرے میٹر کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے، احساسات کی پراسیسنگ کرنے والے حصے کا فنکشن سست ہوجاتا ہے جبکہ دائیں کاڈیٹ اور بائیں ڈورسو لیٹرل پری فرنٹل کارٹیکس کے درمیان فنکشنل کنکشن بھی کمزور پڑجاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تجربات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ فحش مواد دیکھنے اور مندرجہ بالا مسائل کے درمیان مضبوط تعلق پایا ہے۔

مزید پڑھیں :وہ ہاتھی جسے پھانسی کی سزا دی گئی ،اس قدر سخت سزا کی کیا وجہ کیا بنی ؟جانئے

 واضح رہے کہ مندرجہ بالا دماغی مسائل کا مطلب نہ صرف کمزور یادداشت، ذہانت میں کمی اور کند ذہنی ہے بلکہ یہ علامات عمومی دماغی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ہفتہ میں اوسطاً چار گھنٹے فحش مواد دیکھنے والوں میں یہ تمام علامات پائی گئی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ان تشیوشناک انکشافات کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ فحش مواد دیکھنا دماغ کو سکیڑنے اور چھوٹا کرنے والی یا دماغ کو کھانے والی بیماری ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے "JAMA Psychiatry" میں شائع کی جاچکی ہے اور اس کے تشویشناک انکشافات کے بعد سائنسدانوں نے اس سلسلے میں مزید تحقیقات پر زور دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...