پاسپورٹ ،شناختی کارڈ کا حصول بنیادی آئینی حق ہے ،ہائی کورٹ نے کوائف کی تصدیق میں تاخیر کا نوٹس لے لیا

پاسپورٹ ،شناختی کارڈ کا حصول بنیادی آئینی حق ہے ،ہائی کورٹ نے کوائف کی تصدیق ...
پاسپورٹ ،شناختی کارڈ کا حصول بنیادی آئینی حق ہے ،ہائی کورٹ نے کوائف کی تصدیق میں تاخیر کا نوٹس لے لیا

  


لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بنانے کے لئے شہریوں کے کوائف کی تصدیق کے ذمہ دار سپیشل برانچ کے متعلقہ سینئر افسر ،ان کی ٹیم اوراس ٹیم کی کارکردگی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں ۔مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے خیرالبشر اور اس کی اہلیہ کی طرف سے دائر درخواست پر حکم جاری کیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب اگر11مئی تک یہ رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہے تو انہیں خود عدالت میں پیش ہونا پڑے گا ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا حصوصل ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔

یمزید پڑھیں :من میں کاروائی ،سعودی عرب کیلئے ایک بڑاجھٹکا،سنگین الزام لگا دیا

انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عدالت کو بتائیں کہ شہریوں کے کوائف کی تصدیق کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اور یہ عمل کتنی دیر میں مکمل ہوتا ہے ۔اس سے قبل انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے عدالت کو دو ٹوک بتایا گیا کہ انٹیلی جنس بیوروپاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے حصول کے لئے شہریوں کے کوائف کی تصدیق کاقطعی طور پر ذمہ دار نہیں ہے ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ پاسپورٹ اور ویزا مینول کے سیکشن 23کے تحت شہریوں کے کوائف کی تصدیق کی ذمہ دار پولیس کی سپیشل برانچ ہے تو پھر یہ معاملہ آئی بی کو کیوں بھیجا جاتا ہے ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے تحت صرف مشکوک افراد کی تصدیق کا معاملہ ہی سپیشل برانچ کو بھیجا جاسکتا ہے،اس سے قبل پاسپورٹ آفیسر کو اس بابت ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی کہ وہ معاملہ تصدیق کے لئے سپیشل برانچ کو کیوں بھیج رہا ہے ۔درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ وہ پیدائشی پاکستانی ہیں ،ان کے کمپیوٹرایزڈ قومی شناختی کارڈ بن چکے ہیں ۔انہوں نے پاسپورٹوں کے حصول کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں تاہم تصدیق کا بہانہ بنا کر انہیں پاسپورٹ جاری نہیں کئے جارہے ۔

مزید : لاہور


loading...