خلط مبحث

خلط مبحث
خلط مبحث

  


بحث و مباحثہ اور تحلیل و تجزیہ کے دوران گاہ ایسا لگتا ہے کہ حقیقت کی بازیافت ہونے کی بجائے یہ کہیں کھوئی گئی ہے،ماخذ اور مصاد ر کی موجودگی کے باوجود سچ کی تلاش میں سفر کے دوران گاہے گاہے گماں گزرتا ہے کہ راستی کی روشنی دکھائی تو پڑتی ہے،لیکن قلب و نظر منور نہیں ہوتے ۔اہلِ خرد کے ہاں بھی بارہا اور بیشتر ایسا ہوا کہ کہانی کے اندھوں کی طرح جس کے ہاتھ جو حصہ لگا، اسے ہی وہ حقیقت سمجھ بیٹھا۔گذشتہ چند دہائیوں سے ثقہ علمی مجلسوں اور مسلمہ تحقیقی محفلوں میں روایتی طرزِ فکر اور تقلیدی اطوارِ نظر پر سوالیہ نشان لگتے آئے ہیں ،اس کی وجہ اس کے سواکیا ہے کہ انسان شعوری بلوغت کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا آگے بڑھنے چلا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ فکرو نظر پر کسی کا پہرہ ہے نہ اجارہ،تفکرو تدبرمیں شاہ وگدا ،پیروجوان اور زن ومرد سبھوں کے سبھوں برابر کے شریک و سہیم بتائے جاتے ہیں۔

ایک معاصر کے ’’حرفِ راز‘‘اور ’’زیروپوائنٹ‘‘ میں حقائق کی تلاش جاری ہے اور یہ انتہائی مبارک و مسعود امر کہ مختلف نقاطِ نظر گواراکئے جا رہے اور بات کی صحت کے لئے دلیل لائی جا رہی ہے ۔ڈاکٹر برق نے ’’دو اسلام‘‘کی تصنیف سے رجوع کر لیا تھا یا نہیں ؟یا وہ آخر تک اپنے ابتدائی خیالات پر ہی قائم رہے تھے ؟مولانا مسعود اور غلام جیلانی کے مابین خط و کتابت میں برق کی کی مراجعت کی حقیقت کیا ہے ؟سوال اٹھانے والے سوال اٹھا چکے اور جواب دینے والے جواب دے چکے ،جواب آں غزل میں بھی دلائل کے انبار لگائے جا چکے ۔اور ہاں یہ ہمارا موضوع نہیں ۔برسبیلِ تذکرہ برق صاحب کی یہ بات انتہائی درست و صائب ٹھہری۔۔۔’’انسانی فکر ایک متحرک چیز ہے جو کسی مقام پر مستقل قیام نہیں کرتی اور سدا خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتی ہے ۔انسان صداقت تک پہنچتے پہنچتے سو بار گرتا ہے‘‘۔

آفت او ر مصیبت مگر یہ او ربنیادی مقدمہ بھی یہی کہ اس پورے قضیے کے جلو میں’’ توکل ‘‘ کے نام پر عمل کی کڑی اکھاڑی جا رہی اور سیڑھی کھینچی جا رہی ہے ۔توکل تسلیم لیکن عمل کے بغیر توکل کے تو کوئی معنی ہی نہیں ہوتے حضور!اسلام کی ابدی و حقیقی تعلیمات تو یہی ہیں کہ بارِ الہاانہی لوگوں کا ہاتھ تھاما کئے جو عمل کے بعد توکل کرتے ہیں۔عمل پہلا قدم ہے اور توکل دوسرا زینہ،قدم کے بغیر زینہ چہ معنی دارد؟توکل والوں کی شان نہیں کہ بی باون اور اپاچی ہیلی کاپٹر وں کے مقابل لاٹھیاں یا زنگ آلود رائفلیں اٹھا کر کود پڑیں۔جنگِ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کی بہت سی وجوہات میں سے بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ ۔۔۔ قریشی تہذیب کے مقابل مکی تہذیب انقلابی تھی ۔دوسرا آلاتِ حرب اور تعداد میں تو دشمن کو برتری حاصل تھی ،لیکن ٹیکنالوجی کی سطح پر دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔توکل کی تلقین کرنے والوں کو آج بھی اس نکتے کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔یہ اللہ کی سنت نہیں کہ دشمن تو ہر طرح کے جدید آلاتِ حرب سے مسلح ہو ،لڑاکا طیاروں اور بمبوں سے میدان میں اترے اور ہم محض توکل کا زادِ راہ لئے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوں۔۔۔دوسری جانب حال اس سے بھی پتلا ٹھہرا۔ارشاد ہوتا ہے کہ دینی اور دنیاوی علم کے فلسفہ کے بانی غزالی تھے اور یہ بھی کہ مسلمان فقہ کے علم کے بانی ہیں :

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا 

تیسری صدی ہجری میں جب محدثین اپنے اپنے آثار وروایات کے مجموعے مرتب کرنے چلے تھے ۔۔۔تب پہلی بار علومِ نقلیہ اور علومِ عقلیہ کی بات سنائی دیتی ہے ۔قاضی ابو یو سف پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اپنے لئے عامۃ الناس سے الگ مخصوص پیرہن کا تعین کیا ۔(گو اس وقت ان کے پیشِ نذر عہدہ قضا تھا)آج عالمِ اسلام کے مختلف بلاد و امصار میں علماء نے جو لباس اختیار کر رکھا ہے ۔۔۔اسکے ڈانڈے بھی علوم شرعی ہی سے ملتے ہیں کہ تب یہ خیال عام ہو اکہ اصل علم روایات کی تجمیع وتحصیل ہی سے متعلقہ ہے ۔چوتھی صدی ہجری میں علوم کی شرعی اور غیر شرعی تقسیم عمل میں آ چکی تھی ۔ہاں چھٹی صدی ہجری میں اسماعیلی اور اور شیعی فکر کے مقابل ایک راسخ العقیدہ سنی اسلام کی اشاعت کا خیال نظام الملک طوسی کو علوم کی شرعی دانش گاہوں کی جانب لے گیا اور انہوں نے مدرسہ بغدادیہ نظامیہ کی بنیادیں اٹھا دیں۔(بعنیہ اس کے مقابل مصر کے فاطمیوں نے بھی جامعہ ازہر کی نیو ڈال دی)البتہ غزالی اس ضمن میں پہلے آدمی ہیں جنہوں نے شرعی و غیر شرعی علوم کے خیال کو مزید مدلل کرتے ہوئے اس کو اعتبا ر عطا کیا۔

یہ الگ بات کہ وہ دنیاوی علوم کے ضمن میں بھی بلند آہنگ بولا کئے ،جیسا کہ انہوں نے اپنی ’’احیا ء العلوم ‘‘ میں ایک جگہ لکھاکہ مسلمانوں کو طب،ہندسہ جیسے علوم بھی سیکھنا چاہیں ،تاکہ وہ غیر مسلموں کے محتاج نہ ہوں۔البتہ یہ خیال کہ ان علوم کا سیکھنا ہی دراصل علم کی تکمیل و تحصیل سے عبارت ہے ۔۔۔ہنوز ہمارے فکری چوکھٹے میں پوری طرح سما نہ سکا ۔۔۔رہی بات فقہ کی،تو مسلمانوں سے بہت پہلے اہلِ یہود میں فقہاء کی طول طویل تاریخ ملتی ہے کہ یہودی ربی اور فقہاء کس طرح اپنی موشگافیوں سے غایتِ وحی کو مات دیتے رہے ۔قرآنِ مجید میں جا بجا فقہائے یہود کی روش اور رویے کی یکسر نکیر کی گئی ۔۔۔مثلاًسورہ بقرہ میں بچھڑا ذبح کرنے کا واقعہ ہو کہ یوم سبت کی تفصیلات۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے پہاڑی پر جو اپنا مشہور وعظ دیا تھا ۔۔۔اور اس کی تفصیلات بائبل کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں ۔۔۔اس میں بھی انہوں نے اہلِ یہود کی فقہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا ۔’’او ظالمو!فریسیسو!او فقیہو!تم مچھر چھانتے اور اونٹ نگل جاتے ہو‘‘۔

حرفِ آخر: علوم کی شرعی اور غیر شرعی تقسیم نے امتِ مسلمہ پر بڑے دوررس اور مضر اثرات مرتب کئے ہیں۔اس پر الگ سے کسی نشست میں بات ہو گی۔

مزید : کالم


loading...