سرمایہ کاری کا بہاؤ اور اس کے تقاضے

سرمایہ کاری کا بہاؤ اور اس کے تقاضے

چین کے صدر نے پاکستان کی معیشت اور دفاع کو مضبوط بنانے اور عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کر کے پاک چین دوستی کو چار چاند لگا دیئے ہیں اب معاملہ صرف چین کے46ارب ڈالر پر نہیں رکے گا۔ میاں محمد نواز شریف کی مخلصانہ کاوشوں اور ہمدردانہ رویوں کی وجہ سے حالات بدل چکے ہیں جن شعبوں میں ضرورت ہو گی برادر ملک ترقی اور ہماری عقیدتوں کا مرکز سعودی عرب بھی اپنے وسائل کا رخ پاکستان کی طرف موڑنے سے دریغ نہیں کریں گے۔چین کے صدر اعلان کر چکے ہیں وہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خود مختاری میں ہمیشہ ساتھ ہوں گے۔یہ اعلان کر گئے کہ پاک چین دوستی نسل در نسل چلے گی۔ چین کے حالیہ فراخدلانہ معاہدوں پر عمل درآمد سے پاکستان کے اقتصادی مسائل میں کافی کمی آ جائے گی۔ میاں محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ طے پانے والے منصوبوں کی نگرانی خود کریں گے اس لئے شفافیت اور تیز رفتاری کے لحاظ سے چین کی سرمایہ کاری میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔

صاف شفاف اور تیز پا رویوں کی موجودگی میں چین صرف موجودہ سرمایہ کاری پر اکتفا نہیں کرے گا، بلکہ مزید پیش رفت بھی ضرور ہو گی۔ ترکی پاکستان کا برادر اسلامی مُلک ہے۔ موجودہ حکومت نے آتے ہی ترکی کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنے کے لئے روابط میں تسلسل برقرار رکھا ہے، بڑے شہروں میں صفائی ستھرائی اور میٹرو بس کا نظام ترکی کا مرہون منت ہے۔ پاکستان کی قیادت نے جہاں چاہا اور جب چاہا ترکی پاکستان منصوبوں میں دلچسپی لینے میں کنجوسی نہیں برتے گا۔ پہلے بھی ترکی کی سرمایہ کاری پاکستان کے اقتصادی حالات کو بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں اور مزید بھی سرمایہ کاری آئے گی، بشرطیکہ پاکستان کے ادارے اس کے استعمال میں امانت و دیانت کے طرز عمل کا مظاہرہ کریں۔ سعودی عرب اور پاکستان اسلامی اور روحانی رشتوں میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی۔

یمن کے باغی قبائل نے سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے کچھ مسائل کھڑے کر رکھے ہیں۔ پاکستان ان قبائل کو خبردار کر رہا ہے کہ اپنی کارروائیاں بند کریں، بصورت دیگر افواج پاکستان کے دستوں کا انہیں سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ حجاز مقدس افواج پاکستان تو کیا ہر پاکستانی کو دِل و جان سے عزیز ہے انشا اللہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔ اس کے بعد توقع ہے کہ پاکستان جو چاہے گا سعودی عرب اِسی طرح کرے گا۔ اس طرح آنے والے دِنوں میں پاکستان سعودی عرب چین اور ترکی کی دلچسپیوں کو دیکھ کر حال ہی میں امریکہ نے بھی پاکستان کے بعض منصوبوں میں سرمایہ کاری کا عندہ دیا ہے۔ پاکستان کے لئے سرمایہ کاری کے متوقع بہاؤ کے پیش نظر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ان دلچسپیوں کو کیش کرنے کے لئے پاکستان کے تمام سیاست دان اور ایوانہائے صنعت و تجارت ترقی کے لئے ایک پیج پر ہوں۔ اب تک ہوا یہ ہے کہ ترقی کے ضامن بعض بڑے منصوبوں کو سیاست دانوں نے مَیں نہ مانوں کی چھری سے ذبح کر دیا، جس کا خمیازہ عوام غربت کی صورت میں بھگت رہے ہیں،کالا باغ ڈیم اس کی زندہ مثال ہے۔

پاکستان کے تمام آبی ماہرین ایوانہائے صنعت و تجارت اور سیاست دانوں کی اکثریت حتیٰ کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے صنعت کاروں نے بھی برملا اعلان کیا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر مُلک کے اقتصادی حالات بہتر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے، لیکن چند سیاست دان اس قدر خلاف کہ اعلانیہ کہتے رہے کہ بنایاگیا تو بم مار کر اڑا دیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملکی معیشت گراں باری کا شکار ہے۔ برآمدی ہدف کبھی پورا نہیں ہوتا، بے روز گاری زوروں پر ہے۔ گوادر کی تعمیر کے بارے میں سوال اٹھتے رہے تاہم تعمیر مکمل ہو گئی اسے چین سے جوڑنے کے لئے گوادر سے چین کے علاقے کاشغر تک اقتصادی راہداری تعمیر کرنے کا مرحلہ درپیش ہے۔ چین اس کے لئے متعلقہ منصوبوں پر سرمایہ کاری کا معاہدہ کر چکا، لیکن حسب معمول پاکستان کے بعض سیاست دان اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں اس کا روٹ پاکستان کے اندر ہی رہنا ہے، بعض پسماندہ ترین علاقوں کے لئے خوشحالی لانے کا سبب بنے گا، لیکن سیاست دان کہہ رہے ہیں ایسے نہیں ایسے بنایا جائے۔ اس طرز فکرو عمل کو عوام دشمنی نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔

مخالفت برائے مخالفت کرنے والے حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ وقت گزر گیا جب عوام غربت میں ایڑیاں رگڑ رگڑ مر جاتے تھے کہ ان کی بیماریوں کے لئے آبِ شفا مل جائے۔ اب میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کا مسلسل کاوشوں سے پاکستان سرمایہ کاری کا گھر اور خوشحالی کا جنت نشان بننے جا رہا ہے، تمام سیاست دانوں اور دیگر طبقات کو حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی پر ایک پیج پر ہونا ہو گا، اپنی اپنی چودھراٹ کے ڈھول پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، موجودہ حکومت خاص طور پر میاں محمد نواز شریف پوری مہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عوام کو کارکردگی نظر آ رہی ہے اس لئے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ تمام طبقات اور سیاست دان ملک کی اقتصادی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو اپنا نصب العین اورمطمح نظر بنائیں تاکہ دُنیا میں پاکستان کی عزت بڑھے۔ سرمایہ کار اس کی طرف رُخ کریں۔ پاکستان کی صنعتیں دن رات چلیں، برآمدات میں اضافہ ہو اور روز گار کے مواقع پیدا ہوں، ہر طرف ہریالی اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

مزید : کالم


loading...