کشمیر سے افسپا ہٹانے کیلئے تیار تھے، انتونی نے اجازت نہیں دی‘ سابق وزیرداخلہ چدمبرم کا دعوی

کشمیر سے افسپا ہٹانے کیلئے تیار تھے، انتونی نے اجازت نہیں دی‘ سابق ...

نئی دہلی (کے پی آئی( بھارت کے سابق وزیر و کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے کہاہے کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ ( افسپا) جیسے قوانین کی مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یوپی اے حکومت کے دوران میں اسے منسوخ کرنے کی کوشش کر رہاتھالیکن سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا اور مسلح افواج کے چند افسران نے بھی ان کی کوششوں پر پانی پھیرنے کی پوری جدو جہد کی تھی حالانکہ وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے میں اس کالے قانون کو منسوخ کرنے کا خواہشمند تھا۔پی چدمبر نے ایک مضمون میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وزارت دفاع اور افواج کے چند کمانڈرز نے ان کی مخالفت کی تھی ۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر میں مفتی محمد سعید کی حکومت جسے بی جے پی کی حمایت حاصل ہے ۔ اس قانون کو منسوخ کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ سعید اور ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا جائے ۔ حکومت سازی سے قبل دونوں پارٹیوں نے کامن منیمم پروگرام کے تحت آپسی رضامندی سے ریاست میں مخلوط حکومت بنائی تھی جس میں افسپا کو واپس لینے کا بھی معاملہ شامل تھا۔ حال ہی میں پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی حکومت ریاست کے کچھ خاص حصوں سے افسپا ہٹانے کے لئے کسی طرح کی کوشش نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی اس کا جائزہ ہی لیا جا رہا ہے کیوں کہ حکومت کی تشکیل میں ابھی محض 2 ہی ماہ ہوئے ہیں اور اس طرح کا کوئی قدم اٹھانا ریاست کی سلامتی کے لئے بہتر نہیں ہے ۔ چدمبرم نے یہ بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ۔ پی ڈی پی کی مخلوط حکومت اسی شرط کے ساتھ قائم بھی ہوئی تھی کہ اسے منسوخ کیا جائے گا۔ اس متنازعہ قانون میں ترمیم کے لئے بھی دونوں کا م کر رہے ہیں لیکن تاحال دونوں ہی پارٹیاں کسی متفقہ نتیجے پر اب تک نہیں پہنچی۔ چدمبرم نے کہا کہ اس قانون میں ہم نے ترمیم بھی کی تھی۔ قومی سلامتی کے مشیر اور میں نے ترمیم شدہ ڈرافٹ بھی تیار کر لیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کالے قانون پر اب تک ترمیم شدہ فیصلہ نہیں آ سکا ہے اور ہم اب بھی اس طرح کے ناشائستہ اور بے رحم قانون کے ساتھ مہذب معاشرے میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھارت میں ہیومن رائٹس کے لئے باتیں کرتے ہیں ایسے قانون کے معاملے میں انہیں کیا ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خاتمے کے لئے کوششیں کیوں نہیں کر تے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...