مقبوضہ جموں وکشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی نئی بات بھی نہیں ہے

مقبوضہ جموں وکشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی نئی بات بھی نہیں ہے

سری نگر(کے پی آئی( کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانا کوئی نئی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ یہاں کا بچہ بچہ پاکستان کے ساتھ محبت اور عقیدت کا رشتہ رکھتا ہے اور یہ سلسلہ یہاں پر 1947سے جاری ہے۔ ترجمان حریت نے کہا کہ ریاستی ہائی کورٹ کے 1983کے ایک فیصلے کے مطابق جموں کشمیر میں پاکستانی جھنڈا لہرانا جرم کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور جھنڈا لہرانے کو کسی ملک کے خلاف اعلانِ جنگ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ بیان میں حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ جھنڈا لہرانا یا نہ لہرانا اگرچہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، البتہ بھارت اور اس کے ایجنٹوں کی پوزیشن کشمیر میں اتنی کمزور ہے کہ وہ محض ایک کپڑا لہرانے سے سراسیمہ اور خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور ان کو اپنی بنیادیں ہلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ کشمیر میں پاکستانی جھنڈا لہرانے میں کوئی بات نئی نہیں ہے اور خود مفتی سعید کو خوب معلوم ہے کہ یہ سلسلہ یہاں 47سے جاری ہے اور پاکستان کا قومی دن ہو یا اس ملک کی کرکٹ ٹیم میچ جیت جائے تو یہاں پرچم لہرائے جاتے اور پٹاخے پھوڑے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ ٹیم کی جیت کے وقت تو فاروق عبداللہ جیسے سیاستدان اور خود پی ڈی پی لوگ تک بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور پھولے نہیں سماتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حریت)گ( مفتی سعید کی مجبوریوں کو سمجھ سکتی ہے اور انہوں نے بڑی مشکل سے وزیر اعلی کی کرسی حاصل کی ہے اور اس کے لیے انہیں اپنے تمام الیکشن وعدے ایک ایک کرکے سرینڈر کرنے پڑے ہیں۔بیان کے مطابق اب بھی دلی کی طرف سے انہیں سخت دباؤ ہے اور انہیں مزید کروکے لیے کہا جاتا ہے اور اس صورتحال میں اگر وہ سید علی گیلانی کے خلاف ایکشن لینے کی بات کرتے ہیں، تو یہ حیران کن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکمرانوں کے نظریات کی لڑائی والے نعرے کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹ گیا ہے اور سید علی شاہ گیلانی کے حوالے سے وہ عمر عبداللہ سرکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...