پاکستان مخالف ریسرچ روکنے کے طریقے

پاکستان مخالف ریسرچ روکنے کے طریقے
پاکستان مخالف ریسرچ روکنے کے طریقے

  


مجاز اتھارٹی نے اس صورت حال کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے، لہٰذا تلقین کی جاتی ہے کہ تدریسی برادری ملکی نوجوانوں میں فروغِ حب الوطنی کے لئے تعمیری کردار ادا کرے اور تحقیق و مباحث کے لئے ثقافتی اقدار سے متصادم اور پاکستان مخالف موضوعات تفویض کرنے سے گریز کرے۔ توقع ہے کہ مجاز اتھارٹی کی ان ہدایات پر من و عن عمل ہو گا۔ (اشتیاق احمد سیکشن آفیسر )

یہ سرکلر صوبے کی تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیوں اور انسٹیٹیوٹس کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز کے لئے ہے۔ہوسکتا ہے بال کی کھال نکالنے کے عادی دانشور اب یہ کیڑے نکالیں کہ مذکورہ سرکلر میں پاکستان مخالف اور ثقافتی اقدار سے متصادم موضوعات سے کیا مراد ہے ؟اور اگر کسی موضوع پر علمی تحقیق و مباحثہ نہیں ہوگا تو کھرے کھوٹے کا پتا کیسے چلے گا اور اس طرح کی پابندیاں فروغِ تحقیق و جستجو کے لئے کس قدر مضر ہیں اور ایسے اقدامات سے کیا پہلے سے موجود گھٹن اور نہیں بڑھے گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔مگر ان فارغ قسم کے نکتہ چینوں کی بات پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں۔ایسی تحقیق کس کام کی جو محقق کو اپنی ثقافتی اقدار سے بیگانہ کرنے کے ساتھ ساتھ حب الوطن بھی نہ رہنے دے:

بھٹ پڑے وہ سونا جس سے پھوٹیں کان

چنانچہ یہی بہتر ہو گا کہ نوجوانوں میں پاکستانیت کو فروغ دینے کا کام نااہل اساتذہ اور کج ذہن دانشوروں پر چھوڑنے کے بجائے کچھ ناگزیر فوری علمی و انتظامی اقدامات صرف پنجاب گیر نہیں مُلک گیر سطح پر فوری طور پر کئے جائیں۔ مثلاً اعلیٰ تحقیقی موضوعات کی اسکریننگ کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ اور پڑھے لکھے سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ایپکس اکیڈمک کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ کسی پاکستان مخالف یا قومی ثقافتی اقدار سے متصادم موضوع پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کا ڈول ہی نہ ڈل سکے۔

بطور نمونہ چند اعلیٰ تحقیقی موضوعات حاضر ہیں:

*۔۔۔قبل از محمد بن قاسم برصغیر کی حالتِ جہالت۔

*۔۔۔فروغِ پاکستانیت میں سیکیورٹی اسٹیٹ کا نظریاتی و عملی کردار۔

*۔۔۔محمد علی جناحؒ کی 11 اگست 1947ء کی تقریر، حقیقت یا افسانہ۔

*۔۔۔بلوچستان میں صنعتِ مرغبانی کے زوال میں قبائلی سرداروں کا کردار۔

*۔۔۔سندھی اور پختون کلچر کے بنیادی مماثلتی پہلو۔

*۔۔۔وفاقی ڈھانچے کے استحکام میں پنجاب کا کردار۔

*۔۔۔قومی یکجہتی کے فروغ میں جہادی کلچر کی اہمیت۔

*۔۔۔افغانستان کی تعمیر وترقی میں پاکستان کی خدمات ( 1980ء تا 2014 ء)۔

*۔۔۔پاکستان کو کمزور کرنے کی بھارتی، اسرائیلی و مغربی سازشوں کی 68 سالہ تاریخ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی: نظریہِ پرامن بقائے باہمی کا مثالی ماڈل ( اے کیس سٹڈی آف پاک چائنا ریلیشنز )۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی آسودگی اور تحفظ کے ضامن ماڈل ریاستی قوانین کی برکات (1973ء تا حاضر )۔

*۔۔۔با اختیار عورت، با اختیار ریاست۔ پاکستان میں خواتین کی مساوی ترقی کیسے ممکن ہوئی۔ ( دورِ ایوبی تا دورِ ضیا مطالعہ )۔

*۔۔۔استحکامِ پاکستان کے لئے سعودی عرب کی گراں قدر کوششیں۔

*۔۔۔نظریاتی ریاست میں جہادی ثقافت اور مقامی ذیلی ثقافتوں کا تقابل۔

*۔۔۔پاکستان میں سائنسی علوم، سوچ کے پھیلاؤ اور ترقی میں علما کی خدمات وغیرہ وغیرہ۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کے امیدواروں کو ایک اکیڈمک گائیڈ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کچے ذہن کو سیدھی راہ سے یہی نام نہاد اکیڈمک گائیڈز بھٹکاتے ہوں، لہٰذا جس طرح سرکاری تعمیراتی ٹھیکے صرف گورنمنٹ سے منظور شدہ ٹھیکیداروں کو ہی ملتے ہیں اسی طرح اکیڈمک ریسرچ گائیڈز بھی سیکیورٹی اداروں کے لائسنس یافتہ ہونے چاہئیں۔ پھر بھی تحقیقی امیدواروں پر لازم ہونا چاہئے کہ فائنل مقالہ جمع کرانے سے پہلے مجاز نگراں کمیٹی سے منظور کروائیں۔ تب کہیں جا کے قومی ثقافتی اقدار اور پاکستانیت کے منافی بے لگام تحقیقی رجحان کا خاتمہ شروع ہو گا۔

مزید : کالم


loading...