آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہوگا؟

آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہوگا؟
آپریشن خیبر ٹو کب ختم ہوگا؟

  


وادیء تیراہ سے آئے روز ایک سے ایک افسوسناک خبر آ جاتی ہے۔ کبھی کیپٹن قاسم کی شہادت، کبھی کیپٹن اجمل کی اور کبھی نصف درجن سیکیورٹی اہلکاروں کی۔۔۔

یوں تو سیکیورٹی اہلکاروں میں تینوں فورسز کے لوگ شامل سمجھے جاتے ہیں، یعنی پولیس، نیم مسلح فورسز اور آرمی لیکن جب تیراہ کا ذکر آئے تو وہاں نہ پولیس ہوتی ہے، نہ نیم مسلح فورسز(یا سول آرمڈ فورسز) بلکہ صرف اور صرف (خالص) فوج کے اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ اہلکار شائد پرسانل کا اردو ترجمہ ہے۔ بالعموم اس ترجمے میں کمیشنڈ آفیسر شمار نہیں کئے جاتے، جے سی اوز، این سی اوز اور سپاہی شامل گردانے جاتے ہیں۔

اگلے روز ایک اخبار نویس دوست (منیب حق صاحب ،کاپی ایڈیٹر، دنیا نیوز چینل) کا فون پر ایک عجیب و غریب سوال آیا کہ یہ جو روزانہ وادیء تیراہ میں افسروں اور جوانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں ان سے کیا مراد لی جائے؟۔۔۔ کیا تیراہ کی ٹیرین(زمین) واقعی اتنی دشوار گزار اور سنگلاخ ہے کہ پاکستان آرمی کے جوانوں کا وہاں گزر نہیں ہو سکتا؟۔۔۔ کیا وہاں کے دہشت گرد قبائل، پاک فوج پر ازبس غالب ہیں؟۔۔۔کیا ہماری پاک فضائیہ جو آئے روز وہاں بمباری کرتی اور خبر دیتی ہے کہ آج 44دہشت گرد فلاں جگہ ہلاک کر دیئے گئے اور آج فلاں مقام پر 54 عسکریت پسندوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا کہ جن میں 12غیر ملکی شامل بھی تھے تو کیا وہ خبر غلط ہوتی ہے؟۔۔۔ کیا وہاں بھی سوات اور وزیرستان کا سا آپریشن بروئے عمل نہیں لایا جا سکتا یعنی امن پسند پاکستانیوں کو الگ کرکے باقی کو تہہ تیغ کر دیا جائے؟۔۔۔

میں ان کے سوال سنتا رہا اور غور کرتا رہا کہ ان کو کیا جواب دوں۔ ایک جواب یہ بھی ذہن میں گردش کرنے لگا کہ ہم پاکستانیوں کا اس صورتِ حال کی عدم تفہیم میں کوئی قصور نہیں۔ ہم تو وطن عزیز کے وجود میں آنے سے بھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے جدید جنگ و جدل کے معاملات سے بے خبر رہے، جبکہ خود جنگ و جدل کی ٹرین اتنی تیز رفتاری سے بھاگتی رہی کہ کسی سٹیشن پر رکنے کا نام نہ لیا۔ہم لوگ تو اس ٹرین کے مسافر ہی نہ تھے۔بس آنکھوں تلے گزرتی اور فراٹے بھرتی اس ٹرین کو ٹک ٹک دیکھتے رہے اور بدھووں کی طرح حیران ہوتے رہے۔

میں نے فون کرنے والے دوست سے پوچھا کہ آیا انہوں نے کبھی وادیء تیراہ کا محل وقوع اور اس کے عمومی جغرافیائی حالات جاننے کی کوئی کوشش کی ہے؟۔۔۔ کیا ان کو معلوم ہے کہ پاکستان کے اس خطے میں ہمارے کون کون سے قبائل آباد ہیں؟۔۔۔ ان کو ہم سے اور پاکستان آرمی سے کیا شکایات ہیں؟۔۔۔ اور وہ کیوں مرنے مارنے پر سوگند کھائے بیٹھے ہیں؟۔۔۔ ان کا اپنا اور علاقے کا عسکری اور تاریخی پس منظر اور اس کی چیدہ چیدہ تفاصیل کیا ہیں؟۔۔۔ اور وہ لوگ ایک ریگولر اور تربیت یافتہ آرمی اور ائر فورس کے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود اب تک کیسے قائم و دائم ہیں؟۔۔۔

میرے صحافی دوست نے جب ان معاملات و موضوعات سے لاعلمی کا اقرار کیا تو میں نے سوچا کہ دن چڑھے بلکہ دوپہر کو جاگنے والوں کو کیا بتاؤں کہ طلوع آفتاب کا منظر کیسا ہوتا ہے۔ ہاں ان کو میں نے اتنا ضرور کہا کہ آپ کسی بھی ملٹری سٹیشن لائبریری میں جا کر وادی ء تیراہ کی اُس مہم پر کوئی کتاب لے کر مطالعہ کرلیں کہ جس میں اکتوبر 1897ء سے اپریل 1898ء تک کے سات ماہ میں ان علاقوں کے باسیوں اور اس وقت کی سرکارِ برطانیہ کی برٹش انڈین آرمی کے درمیان جو لڑائی ہوئی تھی، اس کی تفصیل نہ سہی، اجمال کا ذکر ہو! انہوں نے فرمایا : ’’میں اگر ایسی کوئی کتاب کسی فوجی لائبریری سے لے بھی آیا تو اس کی تفہیم مشکل ہوگی۔ وجہ یہ ہے کہ میں نے کئی بار دوسری عالمی جنگ کی (صرف) وجوہات جاننے کی کوشش کی ، مگر سمجھ نہ آئی کہ تمام مصنفین نے یہ کیوں لکھا ہوا تھا کہ ’’اس دوسری عالمی جنگ کی وجوہات، پہلی عالمی جنگ کے نتائج پر مبنی ہیں‘‘۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں پہلی عالمی جنگ کا احوال بھی پڑھوں۔۔۔ میں نے ایک آدھ بار یہ کوشش بھی کرکے دیکھی لیکن کنفیوز ہی رہا۔آپ اگر کسی کالم میں ان وجوہات پر کوئی روشنی ڈال سکیں یا موجودہ ’’تیراہ مہم‘‘ کے سلسلے میں میرے سوالات کا کچھ جواب دے سکیں تو عنداللہ ماجور ہوں گے‘‘۔

چنانچہ یہ سطور اس دوست کی فرمائش پر لکھی جا رہی ہیں۔ ان سے مقصود یہ ہے کہ آج کل فوج (اور فضائیہ) وادیء تیراہ میں جو ’’خیبرٹو‘‘ آپریشن کر رہی ہے اس کے چند خدوخال سے قارئین کرام کو مطلع کیا جائے۔

برسبیل تذکرہ پچھلے ماہ (وسط اپریل) ایبٹ آباد گیا تو وہاں پی ایم اے کی لائبریری کو بھی وزٹ کیا۔فوج کی دوسری لائبریریوں کی طرح یہ لائبریری بھی Well-stocked ہے۔ ملٹری ہسٹری کے شیلف چھانتے چھانتے ایک پرانی کتاب نظر پڑی جس کا عنوان تھا:

The Compaign in Tirah 1897-1898

اگرچہ تیراہ کی اس مہم پر باقی فوجی افسروں کی طرح میری نظر سے بھی کئی کتابیں گزرچکی تھیں، لیکن یہ کتاب جس کا ذکر اوپر کیا گیا، وہ دو اعتباروں سے قابل توجہ تھی اور پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میرے جیسے ملٹری ہسٹری کے ایک ادنیٰ طالب علم کے لئے اس میں ایک تو یہ بات قابلِ کشش تھی کہ تیراہ کی یہ مہم اپریل، 1898ء میں ختم ہوئی اور صرف چار ماہ بعد ستمبر 1898ء میں کتاب چھپ کر منظر عام پر آگئی ۔اور دوسری یہ کہ اس کا مصنف کرنل، ہچ نسن (Hutchinson)، کوئی کیرئیر سولجر نہیں بلکہ اس دور کی برٹش انڈین آرمی کا ڈائریکٹر ملٹری ایجوکیشن تھا۔

صرف چار ماہ (مئی 1898ء تا اگست 1898ء) میں 250 صفحات کی یہ کتاب لکھ لینا اور اسے اس مہم کے کمانڈر (جنرل سرولیم لاک ہارٹ) سے منظور کروانا، متعلقہ نقشہ جات کی تیاری کروانا اور تین درجن تصاویر کو شامل اشاعت کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اس کتاب میں لڑائی کی تمام تفاصیل بے کم و کاست بیان کر دی گئی ہیں۔ دشمن کی تعداد اور اپنی فوج کی تعداد،دشمن کے جنگی حربے اور اپنے آپریشنوں کی حربی وضاحت، دشمن کے جانی نقصانات اور اپنے ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والے برٹش اور انڈین افسروں کی تعداد اور ان کے نام وغیرہ سب کے سب اس میں درج ہیں۔ کسی بات کو خفیہ نہیں رکھا گیا، کسی آپریشنل پلان کو پوشیدگی کی چادر میں نہیں لپیٹا گیا اور کسی تفصیل کو قارئین سے چھپایا نہیں گیا۔ وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ اس وقت کی برٹش پبلک جس کے فرزند اور عزیز اس لڑائی میں مارے گئے یا اپاہج ہو گئے تھے، ان کی طرف سے شدید دباؤ تھا کہ ان کو بتایا جائے کہ ان کے پیارے دیارِ غیر میں کس طرح اور کیوں لقمہ ء اجل بنے اورکس طرح ساری عمر کے لئے مفلوج ہو گئے؟

آج اس جنگ / مہم کو 117برس گزر چکے ہیں۔۔۔ آج کی طرح اس مہم میں بھی دو ڈویژنوں سے زیادہ فوج استعمال کی گئی تھی (ائر فورس اس وقت موجود ہی میں نہیں تھی۔ پہلا طیارہ بھی صرف چند سیکنڈوں کے لئے دسمبر 1903ء میں فضا میں بلند ہوا تھا)۔ اس وقت بھی یہاں کی ٹیرین کی دشوار گزاری کا یہی عالم تھا جو آج ہے اور اس وقت بھی تیراہ کے گردونواح کے قبائل وہی آفریدی اور اورک زئی تھے جو آج ہیں۔ آج بھی ہماری فوج کے بہت سے افسر اور جوان وہاں شہید ہو رہے ہیں۔آج بھی (IED) کی وجہ سے ہمارے درجنوں آفیسر اور اہلکار خاکِ وطن کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کی نیند سو رہے ہیں یا اگر زندہ بھی ہیں تو مر جانے والوں پر رشک کرتے ہیں کہ سسک سسک کر جان دینا، ایک ہی دفعہ آنکھیں موند لینے سے زیادہ عذاب آفریں ہے۔

اس کتاب کا دیباچہ اگرچہ مختصر ہے لیکن لگتا ہے کرنل ، ہچ نسن نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ آغاز ان دو اشعار سے کیا ہے:

"Now tell us all about the war,

And what they killed each

other for?"

"Why that I cannot tell", said

he,

"But it was a famous victory"

ترجمہ: (سوال یہ تھا کہ) بتاؤ کہ یہ جنگ کیا تھی؟ اور فریقین نے ایک دوسرے کو کس لئے قتل کیا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ’’اور کچھ تو میں نہیں بتا سکتا۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ ایک مشہور و معروف فتح تھی‘‘)

اس کے بعد کرنل صاحب کا اولیں پیراگراف یہ ہے: ’’میں خود تیراہ کی اس مہم میں شریک تھا۔ میں اپنے دوستوں سے اس مہم کے بارے میں بہت کچھ کہتا سنتا رہا ہوں اور اخباروں، کتابوں اور (انڈیا سے آنے والی خبروں) کے بارے میں بہت کچھ پڑھتا رہا ہوں۔ لیکن ایک بات کا مجھے یقین ہے کہ اب کہ جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔ اگر آپ دس ذہین آدمیوں سے یہ سوال کریں کہ یہ جنگ کیا تھی اور ایک دوسرے کو کس نے قتل کیا تو آپ کو دس مختلف جواب سننے کو ملیں گے اور کوئی سے دو آدمی کسی ایک جواب پر اتفاق کرتے نظرنہیں آئیں گے۔ اگرچہ یہ حیران کن دعویٰ ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ حقیقت سے زیادہ بعید نہیں‘‘۔

یہ کتاب جو میک ملن اینڈ کمپنی، لندن اور نیویارک کی طرف سے بیک وقت 1898ء میں شائع ہوئی آج سوا سو سال بعد بھی اگر ایک تازہ ایڈیشن کی صورت میں جی ایچ کیو کی طرف سے شائع کر دی جائے اور اس کا اردو ترجمہ بھی کرکے ساری پاک فوج میں عموماً اور خیبرٹو میں مصروفِ کارزار افسروں اور جوانوں میں خصوصاً، تقسیم کر دیاجائے تو بہتوں کابھلا ہوگا۔۔۔لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ ہم نے بھلا پہلے کافرافرنگیوں کی جنگوں اور لڑائیوں سے کوئی سبق سیکھا ہے جو آج سیکھ لیں گے؟ چنانچہ میں اپنے اخبار نویس دوست کے اس سوال کی طرف آتا ہوں کہ یہ ’’خیبرٹو آپریشن‘‘ جلد ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہا۔(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...