قائداعظم سولر پارک

قائداعظم سولر پارک

شہباز شریف کی کاوشیں رنگ لے آئیں

ملکی تاریخ کے پہلے شمسی توانائی کے منصوبے کی ریکارڈ مدت میں تکمیل

ملک کواندھیروں سے نکالنے کے لئے ہماری پہلی ترجیح توانائی ،دوسری ترجیح توانائی اور تیسری ترجیح بھی توانائی ہی ہے:محمد شہباز شریف

آج کا دن پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے ایک یادگار اور تاریخی دن ہے کیونکہ آج ہم نے وطن عزیز سے بجلی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کی شکل میں چھائے اندھیروں کو روشنیوں میں بدلنے کے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ قائداعظم سولر پارک پراجیکٹ 1000میگاواٹ کا منصوبہ ہے جس کے زریعے حکومت پنجاب نے شمسی توانائی کے حصول میں دیگر صوبوں پر سبقت حاصل کی ہے۔ قائداعظم سولر پارک کے 100میگاواٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل نے پاکستان میں متبادل توانائی کی جانب سفرکو حقیقت کا روپ دیا ہے جو روشن مستقبل کی نوید ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک ایک ایک دن‘ ایک ایک لمحہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کاوش کی ہے اورقائداعظم سولر پارک بھی انہی اقدامات کا ایک اہم حصہ ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے 9مئی 2014میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھاتھا۔منصوبے پر انتہائی تیز رفتاری سے کام کر کے اسے ریکارڈ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔ فروری 2015میں منصوبے کی تعمیر کا مرحلہ مکمل ہوا اور 7اپریل 2015میں 100میگا واٹ کے اس سولر منصوبے سے بجلی نیشنل گریڈ میں شامل ہو چکی تھی۔

متبادل توانائی بالخصوص شمسی توانائی نہایت ماحول دوست ہے جس کی تصدیق 2011میں متبادل توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی پینل کی شائع کردہ خصوصی رپورٹ نے کی۔ رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی دیگر طریقوں کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ، تنصیب اور آپریشن میں نہایت ماحول دوست ہے ۔ حالیہ جائزے یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کہ توانائی کے متبادل منصوبے عام طریقوں کے مقابلے میں روزگار کے 3گنا زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان میں بجلی کی طلب میں سالانہ 8فیصد کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بجلی کاشارٹ فال ہر سال پاکستانی معیشت کو جی ڈی پی کے 2فیصدکے برابر متاثر کرتا ہے۔ہمارے ہاں معاملات کی سنگینی توانائی کے موجودہ روایتی ڈھانچے کی وجہ سے ہے۔ ایسے حالات میں حکومت پنجاب نے متبادل توانائی کے حصول پر توجہ دی ہے اوراس ضمن میں 2013کی کاروبار دوست سرمایہ کاری پالیسی کے اعلان سے اب تک ہمہ وقت کوششیں جاری ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف توانائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ہماری پہلی ترجیح توانائی ،دوسری ترجیح توانائی اور تیسری ترجیح بھی توانائی ہی ہے۔یہ امر متفقہ ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پائے بغیر اور لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے نجات حاصل کئے بغیر پاکستان کسی شعبے میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ سورج کی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنا کوئی آسان مرحلہ نہیں۔اس کیلئے نہ تو ملک میں مطلوبہ ٹیکنالوجی موجود تھی اورنہ ہی اس کے ماہرین پائے جاتے تھے۔صرف یہی نہیں بلکہ سولر انرجی کی پیداوار کے آغاز کیلئے کوئی لیگل فریم ورک بھی موجود نہیں تھا۔ان تمام تر مشکلات کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت پنجاب نے توانائی کے دوسرے روائتی ذرائع کے ساتھ ساتھ اس راستے کو بھی اپنانے کا فیصلہ کیا۔

شمسی توانائی کے فوائد بے شمار ہیں ۔ مثال کے طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار پر اثر انداز نہیں ہوتا۔یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ صرف ایک بار کی سرمایہ کاری کے بعد بحالی پر ہونے والا خرچ نہایت کم ہے۔شمسی توانائی کے منصوبوں کو چلانے کیلئے ایندھن کی ضرورت بھی نہیں ہے اور صرف سورج کی روشنی درکار ہے۔ اس طرح ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے دیگر ممالک پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ ان منصوبوں پر افراط زر کا بھی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی مہنگائی بڑھتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے انہی فوائد کے پیش نظر پنجاب میں شمسی توانائی کے منصوبوں کا پلان تیار کیا ۔ انکا ماننا ہے کہ پاکستان بالخصوص جنوبی پنجاب قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے بہترین جگہ ہے۔ شمسی توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ اس ضمن میں آنے والی تمام بیرونی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ فراہم کیاجائے گا اوروہ ذاتی طور پر ان منصوبوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

حکومت پنجاب کی طرف سے ملنے والے ٹاسک پر محکمہ توانائی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی محمد جہانزیب خان کی سربراہی میں ہوم ورک کیا اور بہاولپور میں چولستان کا انتخاب کیا گیا جہاں ابتدائی طور پر ساڑھے چھ ہزار ایکڑ رقبہ مختص کیا گیا جسے بعد میں بڑھا کر 15ہزار ایکڑکر دیا گیا۔ اس علاقے کے انتخاب کی بنیادی وجہ یہاں یومیہ اوسط شعاع ریزی (Average Daily Eradiation)ہے جو 1900سے 2300 kWh/m2 ہے۔ چولستان کا یہ علاقہ شعاع ریزی کیلئے بہت زرخیز ہے اور یہاں شمسی توانائی کے پراجیکٹ کیلئے وسیع رقبہ بھی میسر ہے۔

اس منصوبے کیلئے حکومت پنجاب نے قائداعظم سولر پاور کمپنی قائم کی جس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نجم احمد شاہ کے مطابق اس کمپنی کا مقصد شمسی توانائی کے پہلے منصوبے کو کامیاب بنا کر اس سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے راہیں ہموار کرنا ہے۔

قائد اعظم سولر پارک بہاولپور میں 100میگا واٹ کا پاکستان کی تاریخ کا پہلاشمسی توانائی کا منصوبہ ہے جو پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے لگایاہے۔ منصوبہ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اور منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ 100میگا واٹ کا سولر منصوبہ شفافیت ،معیاراور برق رفتاری سے تکمیل کی اعلیٰ مثال ہے۔

ابتدائی سرمایہ کاری کے حوالے سے سولر انرجی کے منصوبوں کا شمارتوانائی کے مہنگے منصوبوں میں ہوتا ہے۔تاہم ایک اعتبار سے شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی روایتی طریقوں سے حاصل ہونے والی بجلی کی نسبت سستی ہے کیونکہ اس پرجاری اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں توانائی کایہ ذریعہ ماحول دوست بھی ہوتاہے۔پنجاب میں سورج سے بجلی پیدا کرنے کے مواقعوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی اور اس ضمن میں حکومت پنجاب دیگر صوبوں پر سبقت لے گئی ہے۔

قائداعظم سولر پارک اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ضرور ہے تاہم اس میں ہر مرحلے پر بین الاقوامی قوانین اور معیار کو مدنظررکھاگیا ہے۔ کنسلٹنٹس کے انتخاب سے لیکر کمپنیوں کے چناؤ تک، را ء مٹیریل کی آمد سے لیکر پلانٹ کی تنصیب اور آپریشن تک کو جرمنی اور چین کی جانی مانی بین الاقوامی کمپنیوں نے مانیٹر کیاہے۔ ہر مرحلے پر مکمل جانچ پرتال کی گئی اور تمام سامان کو چیکنگ اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزارا گیا ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے دیر پا ہوتے ہیں اس لیے انکی تنصیب نہایت مہارت مانگتی ہے۔

یہاں پاکستان کے بہترین دوست چین کی دوستی اور اسکی کاوشوں کا ذکر نہایت ضروری ہے۔ 20اپریل کا دن پاکستان کے لئے یقیناًایک تاریخی اہمیت کا دن تھا جب چینی صدر نے پاکستان کے ساتھ تاریخی 46ارب ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ پاکستان اور چین دوستی کے لازوال رشتوں میں منسلک ہیں اور ہمارے ساتھ چین کی یہ دوستی اس کی طرف سے کسی شرط یا مفاد کی پابند نہیں۔چین نے پاکستان کیلئے اس عظیم تاریخی پیکیج کا اعلان کر کے ان تمام باتوں کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ چین کا 46ارب ڈالر کا یہ اقتصادی پیکج پاک چین دوستی کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کی قیادت او رپاکستانی عوام پر چین کے غیر معمولی اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ چین پاکستان شاہراہ معیشت (China Pakistan Economic Corridor) کے تحت پاکستان بھر کے مختلف حصوں میں400 10ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگائے جائیں گے۔

چین کے اشتراک سے پنجاب میں توانائی کے جن دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے ان میں قابل ذکرمقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا 300میگا واٹ کا منصوبہ پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں لگایا جا رہاہے ۔ کوئلے کی مائننگ کے حوالے ضلع چکوال کے علا قے دلوال میں 50چینی انجینئرز سائیٹ پر کام کررہے ہیں او ریہاں سے نکلنے والا کوئلہ پنڈ دادن خان میں لگائے جانے والے 300میگا واٹ کے کول پاور پلانٹ میں استعمال کیا جائے گا۔ساہیوال میں 1320میگا واٹ کے کوئلے کی بنیاد پر 2پاور پلانٹ لگائے جارہے ہیں۔ محکمہ آبپاشی اور منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے مابین پانی کے استعمال کے حوالے سے بھی معاہدہ کیا گیاہے۔ یہ منصوبہ برآمدی کوئلے کی بنیاد پر لگایا جا رہاہے اس مقصد کے لئے منصوبے پر کام کرنی والی کمپنی اور کوئلہ کی سپلائی کرنے والے ادارے کے مابین معاہدہ طے پا چکاہے۔

قائداعظم سولر پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے سربراہ نجم احمد شاہ اور ان کے ساتھی منصوبے کی بروقت تکمیل، اپنی جاں فشانی ، محنت اور لگن پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔یہ یقیناًایک ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ قائداعظم سولر پارک شمسی توانائی کے بڑے پارکس میں شمار ہو گا اور اس کی تکمیل سے وطن عزیز میں متبادل توانائی کے حصول کیلئے دیگر منصوبوں کے آغاز میں مدد ملے گی۔

توانائی کے ان منصوبوں سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا، معیشت مستحکم ہو گی، بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اور روزگار کے مواقع پیداہونگے ۔ یہ منصوبے پنجاب میں لگ رہے ہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں جائے گی جس سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو گا۔ شمسی توانائی کے منصوبے ملک کو درپیش توانائی بحران پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

حکومت پنجاب نے 100میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے کوریکارڈ مدت میں مکمل کر کے ایک نئی راہ تلاش کی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ منصوبہ ارض وطن کو تاریکیوں سے اجالوں کی جانب لانے میں سنگ میل ثابت ہو گا۔

تیری پسند تیرگی‘میری پسند روشنی

تو نے دیا بجھا دیا‘ میں نے دیا جلا دیا

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...