ٹیچنگ ہسپتالوں کے ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

ٹیچنگ ہسپتالوں کے ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت ہسپتالوں کی انتظامیہ غیر ترقیاتی بجٹ میں سے ادویات اور دیگر ساز و سامان کی خریداری کے لئے مخصوص فنڈز بر وقت خرچ نہیں کر سکی اور 2014-15کے ترقیاتی بجٹ کی بجائے 2013-14کا تاحال بجٹ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ قانونی طور پر وہ مالی سال جو ختم ہو جائے اور 30جون تک بجٹ خرچ نہ ہو سکے اسے ہر حال میں محکمہ صحت یا خزانہ کو واپس آنا ہوتا ہے جس کا ہر سرکاری محکمہ پابند ہے مگر شہر لاہور کے ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے 2013-14کی خریداری کے لئے جو بجٹ مخصوص کیا گیا تھا اسی کی خریداری جون 2013-14میں مکمل کرنا تھی بصورت دیگر بچ جانے والا بجٹ محکمہ صحت اور محکمہ خزانہ کو واپس کیا جانا تھا مگر ہسپتالوں کی انتظامیہ نے نہ 2013-14کے بجٹ کو خرچ کیا نہ خریداری 30جون تک مکمل کی بلکہ اس سال کے لئے مخصوص بجٹ 2014-15میں خرچ کیا جا رہا ہے اور تاحال 2014-15کا خریداری بجٹ باقی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ بے ضابطگیاں چھپانے کے لئے ہسپتالوں کی انتظامیہ جس خریداری کے پرچیز آرڈر دے رہی ہے اس پر خریداری کا سال درج نہیں کیا جا رہا کہ یہ کس سال کے لئے خریداری کی جا رہی ہے اس حوالے سے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ جو ہسپتال ایسا کر رہے ہیں وہ غیرقانونی اقدام کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔2013-2014کی خریداری 2014-15میں نہیں کی جا سکتی ایسا کرنے والے ہسپتال پیپرا رولز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ایکشن لیں گے اس حوالے سے سیکرٹری صحت جواد رفیق کا کہنا ہے کہ ہسپتال خریداری کے لئے پیرا رولز کے پابند ہیں جو سال گذر جائے اس کی خریداری نئے سال میں نہیں کی جا سکتی ایسے کرنے والے ہسپتال قانون شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں سخت ایکشن ہو گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...