مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے جوڈیشل کمیشن میں اپنا جواب جمع کروا دیا

مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے جوڈیشل کمیشن میں اپنا جواب جمع ...

اسلام آباد(آن لائن ) پاکستان مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے جوابات پراپنا جواب انتخابی دھاندلی کی تحقیقا ت کرنے والے کمیشن میں جمع کروا دیا،پاکستان پیپلز پارٹی نے جوڈیشنل کمیشن میں اپنا جواب جمع کروا دیا قومی اسمبلی کے پینسٹھ حلقے کھولے جائیں جبکہ مہاجر قومی مومنٹ نے چھ گواہان کی فہرست بھی کمیشن میں جمع کروادی، پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا جواب جوڈیشنل کمیشن میں جمع کروایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جوڈیشنل کمیشن کو تحقیقات کے لیے کہنا درست نہیں ہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے دیے جانے والے سوال نامے کے جوابات بھی نہیں دیے گئے،،تحریک انصاف کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے عام انتخابات میں ستر لاکھ ووٹ زائد حاصل کیے ہیں ہم نے انتخابات میں ایک سو انتیس نشستیں حاصل کی ہیں اس طرح ہم نے فی سیٹ اٹھاون ہزار فی سیٹ ووٹ حاصل کیے ہیں اتنی بڑی تعداد میں جعلی ووٹ ڈالنا ممکن نہیں،اگر عام انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے تو اس پر ضابطہ فوجداری کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے لیے شواہد پاکستان تحریک انصاف کو پیش کرنا ہوں گے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ حلقہ ایک سو بائیس اور ایک سو چوبیس پہلے ہی کھل چکے ہیں جبکہ کئی حلقوں سے متعلق انتخابی عذرداریوں کے کیس ابھی بھی الیکشن ٹریبونلز کے پاس ہیں پاکستان پیپلز پارٹی نے جوڈیشنل کمیشن میں اپنا جواب جمع کروا دیا قومی اسمبلی کے پینسٹھ حلقے کھولے جائیں جبکہ مہاجر قومی مومنٹ نے چھ گواہان کی فہرست بھی کمیشن میں جمع کروادی، پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں اپنا جواب جمع کروادیا ہے جس میں قومی اسمبلی کے پینسٹھ حلقے کھولنے کی سفارش کی گئی ہے جواب میں کہا گیا ہے کہ تمام پینسٹھ حلقوں سے جیتنے والے امیدواروں اور ایڈیشنل سیشن ججز کی نگرانی میں تھیلوں کو کھولا جائے،تھیلوں کے کھلنے سے کمیشن کو نتیجہ خیز بنانے میں مدد ملے گی،،انتخابی ریکارڈ کو جان بوجھ کر اپنی مرضی سے تباہ کیا گیا اور جو امیدوار سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹ حاصل کر کے جیتے ہیں انہیں تھیلے کھلنے کا فیصلہ خوشی سے قبول کر لینا چاہیے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چوبیس اور ایک سو انتالیس کے ووٹوں کا ریکارڈ خراب کرنا منظم دھاندلی کی مثال ہے مہاجر قومی مومنٹ کی جانب سے بھی چھ گوہان کی فہرست بھی کمیشن کو فراہم کی گئی ہے جن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن،،الیکشن کمشنر سندھ نگران وزیر اعلی سندھ اور پولیس کے اعلی افسران کے نام شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...