1973جون سے 2013تک جاری کردہ تمام اسلحہ لائسنس کمپیوٹر ائزڈ کرنے کا اعلان

1973جون سے 2013تک جاری کردہ تمام اسلحہ لائسنس کمپیوٹر ائزڈ کرنے کا اعلان

 اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے نئی اسلحہ لائسنس پالیسی کے تحت 1973 سے جون 2013 تک جاری کردہ تمام لائسنس نادرا کے ذریعے کمپیوٹرائزڈ کرنے کا اعلان، 31 دسمبر 2015. کے بعدمزید توسیع نہیں کی جائے گی ، ماضی میں مختلف قوانین غلط استعمال سے نجی گارڈز، ممنوع بندوقیں اور بلٹ پروف گاڑیاں ایک فیشن کی علامت بنے یہ بات انہوں نے وزارت داخلہ میں منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔اجلاس میں نئی اسلحہ پالیسی پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے نظام میں شفافیت، یکساں اوراداراتی لانے پر زور دیاگیا۔اجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہناتھاکہ ممنوعہ ہتھیاروں کی درآمد پر مکمل پابندی جگہ میں ڈال دیا جانا چاہئے ، صرف دفاعی پیداوار اور سیکورٹی ایجنسیوں کی وزارت ممنوعہ اسلحہ درآمد کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔یہ ان ہتھیاروں کے لئے کوالیفائی کر نیوالے لوگوں / اداروں کو پاکستان آرڈننس فیکٹری واہ کے ذریعے ان کے ہتھیاروں کی خریداری کرناہو گی ۔وزیر داخلہ نے یہ بھی کہاکہ اسلحہ ڈیلروں کے کاروبار کے ریگولیٹری بھی اہم مشاہدہ ہے۔ وفاقی حکومت میں اس کے ساتھ ساتھ صوبوں میں اسلحہ لائسنس کے اجراء پر جگہ میں ایک پالیسی بنانے کی ضرورت پر زوردے رہی ہے ۔میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ 25 سال سے کم عمر کے افراد کو بھی اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جانا چاہئے نئی پالیسی کے تحت اسلحہ لائسنس اجراء اہلیت کے معیار مقرر کردیا گیا ہے ۔اسلحہ لائسنس صرف درخواست دہندگان کی سیکورٹی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کئے جانے چاہئے ایسے افراد جن کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں سیکورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے دیگرکے علاوہ، میڈیا کے گھروں اور میڈیا کے نمائندوں کو بھی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر نہ صرف موجودہ اسلحہ لائسنس نادرا کے ذریعے مناسب طریقے سے دستاویزی کیا جائے ایک جامع طریقہ کار کو ریگولیٹ اور اسلحہ کے بہاؤ کی نگرانی کے لئے جگہ میں ڈال دیا جانا چاہئے۔وفاقی حکومت کی پالیسی اور ملک میں صوبوں مقابلے۔ A۔ مقابلے اسلحہ لائسنس یافتگی کے مانکیکرن لانا ہے۔ اپنے لائسنس کی توثیق حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی ایک بیداری مہم نادرا اور وزارت داخلہ کی ہدایت پر کی جائے گی ۔اجلاس میں ریگولیٹری کے سلسلے اور ملک میں اسلحہ کے بہاؤ کی نگرانی مختلف تجاویز پر غورکیا گیا۔ ممنوعہ ہتھیاروں کی درآمد پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے بے حد مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے،افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج ملک میں امن قائم ہے اور قومی سلامتی پلان کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے کہ سالہاسال سے عدم استحکام کا شکار ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے مگر ابھی تک ہمارے دشمن ختم نہیں ہوئے ہمیں مزید اتحاد و اتفاق سے کام لینا ہوگا، مکمل کامیابی ابھی دور ہے اب دشمن ملک کی عبادت گاہوں‘ سکولوں‘ عدالتوں اور بازاروں پر حملے کرتے ہیں ابھی جنگ جاری ہے یہ وہ دشمن ہے جو بچوں سے خواتین سے لڑتے ہیں۔ ان کا انجام بدترین ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سینیٹ میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے سینیٹر ستارہ ایاز کی قرار داد پر بحث سمیٹتے ہوئے کیا اس سے قبل ایک قرار داد میں سینیٹر روزی خان کاکڑ نے کہا کہ اخبارات میں قرآنی آیات ہوتی ہیں اور گھروں بازاروں میں ردی کی شکل میں پڑی ہوتی ہیں اور اس سے قرانی آیات کا تقدس پامال ہوتاہے لہذا میرا مطالبہ ہے کہ اخبارات میں قرانی آیات شائع کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ سینیٹر نگہت مرزا نے کہا کہ اخبارات‘ رسائل ‘ درسی کتب میں قرآنی آیات پر پابندی ہو میں اس کو مسترد کرتی ہوں ان صفحات کی حفاظت کرنا اور اس کو مناسب مقام پر ذخیرہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس سلسلے میں مشاورت کرکے ایک راستہ نکالیں گے تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے نیشنل ایکشن پلان پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قومی سلامتی کامسئلہ بجلی کی طرح نہیں ہے یہ ایک مشکل مسئلہ اور گھمبیر مسئلہ ہے پوری دنیا سلامتی کے معاملات کو دیکھا جاتا ہے گزشتہ دس بارہ سالوں میں ملک میں کیا صورتحال تھی یہ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں حالیہ صورتحال نائن الیون کے بعد سے ہوئی اور صورتحال مزید خراب ہوگئی ۔2010 ء میں پاکستان کے طول و عرض میں انتہائی گھناؤنی کارروائیاں کی گئیں سکول‘ مساجد‘ عبادت گاہوں میں دھماکے کئے گئے جون 2013 ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں ہر روز پانچ سے چھ دھماکے ہوئے تھے ہم نے پارٹی سطح‘ کابینہ اور سول ملٹری اور آخر میں اے پی سی کا انعقاد کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں آٹھ مہینوں تک ہم نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا تمام سیاسی پارٹیوں کو اس عمل میں شامل کیا حکومت دل و جان سے مذاکراتی عمل کو مکمل کرنے کی پوری پوری کوشش کی چودہ سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ یہ عسکریت پسند پہاڑوں سے اترے اور سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اس سے پہلے صرف ملٹری کے ساتھ مذاکرات کئے گئے۔ مگر بہت جلد احساس ہوا کہ دوسری جانب سے کھیل کھیلا جارہا تھا ایک طرف ہمارے ساتھ مذارکرات ہورہے تھے جبکہ دوسری طرف غیر معروف تنظیموں کے ناموں سے پاکستان میں دھماکے کرائے جارہے تھے ایک طرف مذاکرات جبکہ دوسری جانب ہم پر حملے کئے گئے کراچی ائیرپورٹ پر حملے کے شواہد نے ثابت کیا کہ وہی لوگ حملے میں ملوث تھے جو مذاکرات کررہے تھے اس پر پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کے مابین کئی بار میٹنگز ہوئیں آٹھ جون 2013 ء کو فیصلہ کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کیا جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ عام لوگوں کو کم ازکم مشکلات کا سامنا ہو۔ آپریشن کے بعد صرف تین ماہ کے عرصے میں پاک فوج نے بہترین نتائج حاصل کئے بہت سے دہشت گرد اس آپریشن میں مارے گئے سات ماہ کے اندرمجموعی طو رپر پاکستان کے تمام علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کیا گیا اکثریتی دہشت گرد بارڈر کراس کرکے پڑوسی ملک چلے گئے تھے انہی حالات میں ان دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کیا اس واقعے سے پوری قوم لرز اٹھی جس کے بعد پشاور میں اے پی سی کے انعقاد کے بعد ایک کمیٹی بنائی گئی اور سات دن کے اندر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی ذمہ داری دی گئی اور کمیٹی نے سات دن کے اندر اندر قومی اتفاق رائے کو بحال رکھنے اور قومی اتفاق رائے کو تشکیل دینے کیلئے بیس نکاتی لائحہ عمل بنایا اس قومی لائحہ عمل پلان کے مالک تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین ہیں قومی ایکشن پلان کے تحت سولہ سب کمیٹیاں بنی ہیں جس میں گیارہ کمیٹیاں وزارت داخلہ کے پاس ہیں صوبائی سطح پر بنائی گئی ایپکس کمیٹیاں کام کررہی ہیں جس میں سول اور ملٹری افسران مل کر قومی سلامتی کے معاملات کو دیکھتے ہیں اور اسکی بدولت آج حالات بہت زیادہ بہتر ہوچکے ہیں اور یہ صرف ہماری جماعت نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں ‘ عوام اور اداروں کی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج ملک میں امن قائم ہے اور قومی سلامتی پلان کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے

مزید : صفحہ اول


loading...