سعد رفیق کیس :الیکشن ٹربیونل فیصلے کے متعدد نکات تشریح طلب ہیں

سعد رفیق کیس :الیکشن ٹربیونل فیصلے کے متعدد نکات تشریح طلب ہیں

تجزیہ:سعید چودھری

  الیکشن ٹربیونل جاوید رشید محبوبی نے قومی اسمبلی کے حلقہ125 اورپنجاب اسمبلی کے حلقہ 155میں دھاندلی کے خلاف انتخابی عذرداریاں منظور کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اورمسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے میاں نصیرکے انتخابات کو کالعدم کردیا ہے ۔فاضل ٹربیونل نے ان حلقوں میںx "ری پولنگ "کا حکم بھی دیا ہے ۔خواجہ سعد رفیق کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے حامد خان جبکہ میاں نصیر کے خلاف تحریک انصاف کے فرحت عباس نے انتخابی عذرداری دائر کی تھی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹربیونل نے اس بابت فیصلہ نہیں دیا کہ ان حلقوں میں دھاندلی کا مرتکب کون ہوا تھا ؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سٹاف نے اپنے فرائض درست طریقے سے انجام نہیں دئیے۔ پولنگ سٹاف کے عملہ سے تمام اخراجات واپس لئے جائیں۔ الیکشن کمیشن ایسے قواعد و ضوابط بنائے کہ غفلت برتنے والے افسران کو سزا ملے،ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ ان حلقوں میں 2013ء کے انتخابی عملے کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ایک بڑے نیوز چینل کی خبر میں تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ "الیکشن ٹربیونل نے قرار دیا ہے کہ حامد خان دھاندلی ثابت نہیں کرسکے تاہم ریٹرننگ افسروں اور دیگر عملے نے غفلت برتی "۔الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کی میڈیا کے ذریعے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے ۔پاکستان کا آئین انتخابی نتائج کو متنازع بنانے اور اس حوالے سے بلا جواز مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔کسی حلقے کے انتخابی نتائج کو چیلنج اور پھر کالعدم کرنا معمولی بات نہیں ہے ۔ایسی مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی میں بھارتی عدالتیں ہم سے بھی دو قدم آگے ہیں ۔بھارتی عدالتوں کے نزدیک ،"انتخابات ایک ایسی عیاشی ہے جس کی جمہوریت ہرسال متحمل نہیں ہوسکتی "۔دستور پاکستان کے آرٹیکل 225میں واضح کیا گیا ہے کہ "پارلیمنٹ یا کسی صوبائی اسمبلی کے الیکشن پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا ،ماسوائے ایک انتخابی عذرداری کے ذریعے جو کسی ایسے ٹربیونل کے روبرو اور اس طریقہ سے پیش کی گئی ہو جسے پارلیمنٹ نے ایک قانون کے ذریعے متعین کیا ہو "۔آئین کے آرٹیکل 222(ڈی)کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) انتخابات اور انتخابی عذر داریوں کے انصرام اور انتخابات کے ضمن میں پیدا ہونے والے شکوک اور تنازعات کے فیصلے کے لئے قانون سازی کرتی ہے اور اس حوالے سے عوامی نمائندگان ایکٹ کے سیکشن 57کے تحت الیکشن ٹربیونلز قائم ہیں جو انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرتے ہیں۔قانون میں انتخابی عذر داری دائر کرنے کی میعاد اور اسے دائر کرنے کے حق داروں کا تعین بھی کیا جاچکا ہے۔بظاہر انتخابات کو عام عدالتوں میں چیلنج کرنے کی اجازت نہ دینے کا مقصد انتخابات کی قبولیت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا اور ارکان اسمبلی کو انتخابی تنازعات سے بچانا ہے۔میڈیا رپورٹس اور سعد رفیق کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا زیادہ تر زور انتخابی عملے کی بے ضابطگیوں پر ہے ۔عوامی نمائندگی ایکٹ مجریہ 1976کے سیکشن 33میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار دیا گیا ہے جس کے تحت پریذائیڈنگ یا پولنگ افسرکو کاؤنٹر فوائل پر اپنے دستخط کرنے ،مہر ثبت کرنے ،ووٹر سے نشان انگوٹھا حاصل کرنے اور ووٹر کے شناختی کارڈ کا نمبردرج کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔اگر پریذائیڈنگ یا پولنگ افسر ایسا نہیں کرتا توکیا اس پولنگ سٹیشن کا انتخابی عمل غیر قانونی قرار پا کر کالعدم ہوجائے گا؟ اس کا جواب نفی میں ہے اور سپریم کورٹ 1999میں قرار دے چکی ہے کہ اس بے ضابطگی کی بناء پر انتخابی نتیجہ منسوخ یا تبدیل نہیں ہوسکتا۔عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 33پرجزوی عمل درآمد بھی قانون کی تکمیل تصور کیا جائے گا، (ایس سی ایم آر 1999صفحہ 284)۔

اعلی ٰ عدالتیں قرار دے چکی ہیں کہ ایسی انتخابی دھاندلی جس کے ذمہ دارکا تعین کرنے میں الیکشن ٹربیونل ناکام رہے اسے جیتنے والے امیدوار کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ جیتے ہوئے امیدوار کا انتخاب کالعدم کرکے اس حلقہ کے لوگوں کو حق نمائندگی سے محروم نہیں کیا جاسکتا ،اس حوالے سے صدارتی الیکٹورل کالج کیس میں سپریم کورٹ کے 1968ء میں دیئے گئے فیصلے کا تذکرہ ضروری ہے ۔عوامی حق نمائندگی کے حوالے سے اس کیس میں مسٹر جسٹس ایس ۔اے ۔رحمن ، مسٹر جسٹس حمود الرحمن اور مسٹر جسٹس سجاد احمد پر مشتمل بنچ نے ایسا فیصلہ دیا تھا جو اس موضوع پر سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔الیکٹورل کالج کے ایک حلقہ میں ریکارڈ کے مطابق 521ووٹ ڈالے گئے تھے لیکن بیلٹ بکس سے 599ووٹ نکلے ۔اس بے ضابطگی کی بنیاد پر الیکشن ٹربیونل نے اس حلقہ کا نتیجہ کالعدم کردیا تھا ۔معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو مذکورہ فاضل بنچ نے قرار دیا کہ الیکشن ٹربیونل یہ بتانے میں ناکام رہا ہے کہ امیدواروں میں سے اس بے ضابطگی یا دھاندلی کا ذمہ دار کون ہے ؟اور یہ کہ اضافی 78ووٹ کس امیدوار کے حق میں استعمال ہوئے ؟ فاضل بنچ نے قرار دیا کہ جیتنے والے امیدوار کے ہارنے والے امیدوار سے 91ووٹ زیادہ تھے اگر تمام متنازع 78ووٹ ہارنے والے امیدوار کو بھی دے دیئے جائیں تو انتخابی نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا ،فاضل بنچ نے اس کیس میں قرار دیا تھا کہ ایسی بے ضابطگی جو انتخابی نتائج کی تبدیلی کا باعث نہ ہو اسے دھاندلی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔سپریم کورٹ یہ بھی قرار دے چکی ہے کہ کسی حلقہ کے شہریوں کو نمائندگی کے حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔ان کا حق ہے کہ وہ جسے منتخب کرتے ہیں وہ پارلیمان میں ان کی نمائندگی کرے ۔حلقہ این اے 125کے کیس میں بقول خواجہ سعد رفیق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ این اے 125میں دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے لیکن پریذائڈنگ اور ریٹرننگ افسروں کی جانب سے 265میں سے 7پولنگ اسٹیشنز پر بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئی ہیں ۔2013ء کے عام انتخابات میں خواجہ سعد رفیق نے حامد خان کے خلاف 39ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اگر بے ضابطگیوں والے 7پولنگ اسٹیشنز کے تمام ووٹ بھی حامد خان کے کھاتے میں ڈال دیئے جائیں تو بھی خواجہ سعد رفیق کی کامیابی شکست میں تبدیل نہیں ہوتی ۔ایسی صورتحال میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو لازمی طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جانا چاہیے تاکہ اس فیصلے سے پیدا ہونے والے مختلف نکات کے آئینی اور قانونی جواز کا تعین ہوسکے ۔الیکشن ٹربیونل کے فیصلے سے یہ تاثر لینا غلط ہے کہ سعد رفیق نااہل ہوگئے ہیں ۔فاضل ٹربیونل نے اس سلسلے میں کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ ٹربیونل نے ان حلقوں میں ری الیکشن (دوبارہ انتخابات )کا نہیں بلکہ ری پولنگ (دوبارہ ووٹنگ )کا حکم دیا ہے ۔دوسرے لفظوں میں حلقہ این اے 125اورحلقہ پی پی 155میں انہی امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا جنہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں یہاں سے الیکشن لڑا تھا ۔

مزید : تجزیہ


loading...